انڈیا: گرمی کی لہر، اربوں کے نقصان کا خدشہ، غریب دباؤ میں


A man drinks water on a hot afternoon in Mumbai city
بھارت میں شدید گرمی کی لہر نے زندگی اجیرن کر دی
ممبئی کی سبزی فروش سلاچنا ییولے اپنی سبزی کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے اس پر پانی چھڑکتی ہیں تاکہ وہ خراب نہ ہو۔

لیکن ایسا لگتا ہے کہ سلاچنا کی تمام کوششیں ناکام ہو رہی ہے۔ شدید گرمی کی وجہ سے ان کی کچھ سبزیاں پہلے ہی خراب ہو چکی ہیں اور وہ اب بکنے کے قابل نہیں رہی ہیں۔

اگرچہ وہ کئی دہائیوں سے اسی جگہ پر سبزیاں فروخت کر رہی ہیں، محترمہ سلاچنا کہتی ہیں کہ یہ پہلی بار ہے کہ گرمی کی وجہ سے ان کی اتنی زیادہ سبزی خراب ہو گئی ہے جس کی مالیت 70 روپے ہے۔ کسی ایسے شخص کے لیے 70 روپے کا نقصان بڑا ہے جس کی یومیہ آمدن ہی 800 روپے ہو۔

جیسے جیسے ان کا منافع کم ہو رہا ہے، وہ اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہے۔ اپنے خاندان کی کفالت کے لیےان کا اسی اسٹال انحصار ہے۔ ان کے خاندان میں بیوہ بہو اور پوتی شامل ہیں۔

سلاچنا آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ کہتی ہیں: ’میں بے بس ہوں۔‘

ایک صدی کی بدترین گرمی نے بھارت میں لاکھوں لوگوں کی زندگیاں اجیرن کر دی ہیں جو بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

محکمہ موسمیات کو توقع ہے کہ شمال مغربی ہندوستان میں ریکارڈ توڑ گرمی کے بعد درجہ حرارت قدرے بہتر ہو جائے گا، کیونکہ رواں ہفتے درجہ حرارت میں تین سے چار ڈگری کم ہو جائے گا۔ لیکن موسم میں نرمی تھوڑے دنوں تک ہی رہی گے اور چند دنوں بعد درجہ حرارت دو سے تین درجہ حرارت بڑھ جائے گا۔

Sulachna Yevale

سلاچنا ییولے عشروں سے سبزی بیچ رہی ہیں

محترمہ سلاچنا جیسے غریب لوگ موسم کی اس سختی سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ غریب لوگ اپنی محدود آمدن اور وسائل کی وجہ گرمی سے نمٹنے کےلیے آلات حاصل کرنے کی سکت نہیں رکھتے اور زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

پرامیلا والیکر ایک ماہی گیر ہیں۔ وہ پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ سخت گرمی میں اپنے شکار کو تازہ رکھنے کے اخراجات کو بمشکل برداشت کر سکتی ہیں۔

’میں جتنا کماتی ہوں میں مچھلی کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے برف کی خریداری پر خرچ کر دیتی ہوں۔ عشروں میں میری کبھی اتنی مچھلی ضائع نہیں ہوئی تھی جتنی اب ہو رہی ہے۔ اب بعض اوقات میری دو ہزار روپے کی مچھلی ضائع ہو رہی ہے۔‘

اب برف کی قیمتیں بھی دگنی ہو گئی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’حکومت کو ماہی گیروں کو گرمی کے موسم میں اپنی مچھلی بچانے کے لیے آلات اور برف فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔‘

Worli Koliwada

برف مہنگی ہونے سے پارمیلا کی آمدن میں کمی ہو گئی ہے

دونوں خواتین کی پریشانیاں لاکھوں ایسے افراد کی عکاسی کرتی ہیں، جو غیر منظم پیشوں میں کام والے افراد کرتے ہیں اور ان کے پاس گرمی میں گھر سے باہر کام کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

لیکن جیسے جیسے گرمی کی لہریں زیادہ آتی جاتی ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ دن کے گرم ترین اوقات میں تعمیرات اور زراعت جیسے کام خطرناک ہو جائیں گے۔

یہ صرف صحت عامہ اور حفاظت کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ایک ایسے ملک کے لیے ایک سنگین اقتصادی مسئلہ بھی ہے جو گرمی سے متاثرہ مزدوروں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ نیچر کمیونیکیشنز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کو پہلے ہی گرمی کی وجہ سے سالانہ 101 بلین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

بڑھتی ہوئی گرمی اور نمی کی وجہ سے مزدوری کے اوقات ضائع ہونے کی وجہ سے 2030 تک جی ڈی پی کے تقریباً آڑھائی فیصد سے ساڑھے چار فیصد حصے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

2020 کی میک کینسی رپورٹ کے مطابق شدید موسموں کی وجہ سے ضائع ہونے والے اوقات کار سے انڈیا کو 250 بلین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا روشنی کے اوقات میں بیرونی کام غیر محفوظ ہوتا ہے اور اس 2030 تک تقریباً 15 فیصد اضافہ ہو جائے گا۔

76 سالہ پانڈورنگ گرہے سخت گرمی میں پل پر ہاتھ سے ریڑھی کھینچتے ہیں۔

اس ریڑھی کا وزن 60 کلو گرام ہے اور وہ شدید گرمی میں اور بھی بھاری محسوس ہوتی ہے۔ 200 روپے کی معمولی سی اجرت کے لیے اسے اوپر لے جانا بہت مشکل ہے ۔ گھٹنوں میں درد کے باوجود،پانڈورنگ گرہے کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔

Pandurang Girhe

پانڈورنگ گرہے اپنے ساٹھ کلو وزنی ریڑھی اس شدید گرمی کے موسم میں کھینچنے پر مجبور ہیں

اس سال ہندوستان میں گرمی کی لہر خاصی شدید رہی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی اکا دکا واقعہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ان حالات کی پیشگی آگاہی ہے جو مستقبل میں درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ عام ہو سکتے ہیں۔.

لیکن مسٹر پانڈورنگ جیسے غریب لوگ نہیں سمجھتے کہ گرمی کی لہر کا مطلب کیا ہے یا اس کی وجہ کیا ہوسکتی ہے۔ وہ صرف اتنا جانتے ہیں کہ ان کی روزمرہ کی زندگی اور ان کی کمائی متاثر ہو رہی ہے، اور یہ کہ انھیں اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے کام جاری رکھنا چاہیے خواہ گرمی ہو یا نہ ہو۔

’اس برس پہلے کے مقابلے میں بہت گرمی ہے۔ لیکن میں کیا کروں مجھے اپنا پیٹ بھی تو پالنا ہے۔‘

ماہرین کا کہنا کہ شہروں میں کمزور انفراسٹرکچر ایسے موسم میں زندگی اور مشکل بنا دیتے ہیں۔ پینے کے صاف اور مفت بہت محدود ہے اور گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے بہت ہی کم شیلٹر ہیں۔

C40 شہروں کے جنوبی اور مغربی ایشیا کے علاقائی ڈائریکٹر شروتی نارائن کا کہنا ہے کہ شہروں کو ڈیٹا پر مبنی آب و ہوا کے ایکشن پلان تیار کرکے فوری طور پر کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp