انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں 1200 سال پُرانے مندر کے کھنڈرات میں ’بلا اجازت‘ پوجا پر تنازع

ریاض مسرور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر


انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی قصبہ اننت ناگ میں واقع قدیم ترین سُورج مندر کے کھنڈرات میں انڈیا کی مختلف ریاستوں سے آئے 100 ہندو برہمنوں نے دو روز تک پوجا کا اہتمام کیا جس میں مقامی لیفیٹننٹ گورنر منوج سنہا اور سینیئر افسروں نے ذاتی محافظوں سمیت شرکت کی۔

یہ کھنڈرات انڈیا کے محکمہ آثارِ قدیمہ کے زیرِ نگرانی اُن 3650 قدیم مقامات میں سے ہیں جنھیں ’محفوظ‘ قرار دیا گیا ہے۔ ان مقامات پر بغیر اجازت مذہبی رسومات کی ادائیگی ممنوع ہے کیونکہ آثار کو ’قومی اہمیت‘ کا حامل قرار دیا گیا ہے۔

سنہ 1958 میں بنے انڈیا کے آثارِ قدیمہ سے متعلق قانون کے مطابق کوئی بھی قدیم مسجد، مندر، گرجا گھر یا بودھ گھمپا محکمے کی تحویل میں آتے وقت اگر غیر فعال تھا تو وہاں مذہبی رسوم کی ادائیگی ممنوع ہو گی۔

کھنڈرات میں پوجا کا مقصد کیا تھا؟

کراولی راجستھان کی ایک ہندو تنظیم ’راشٹریہ انہد مہایوگ پیٹھ‘ نے اننت ناگ کے مٹن علاقے میں واقع اِن قدیم کھنڈرات میں پوجا کا اہتمام کیا تھا۔

پیٹھ کے سربراہ مہاراج رُدرا ناتھ مہاکال نے دعویٰ کیا ہے کہ اُنھوں نے یہاں آنے سے قبل اننت ناگ کے ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر پِیوش سنگھلا کو ای میل کے ذریعے پوجا کے اہتمام سے متعلق مطلع کیا تھا لیکن اُنھیں کوئی جواب نہیں ملا جس کے بعد اُنھوں نے طے شدہ پروگرام کے مطابق پوجا کا اہتمام کیا۔

اُن کا کہنا ہے کہ سادھوؤں کو پوجا سے قبل سُورج مندر کے صدر دروازے پر یہ کہہ کر روکا گیا تھا کہ یہ محفوظ مقام نہیں ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ جب اُنھوں نے اس کی پرواہ کیے بغیر مندر میں پوجا شروع کی تو ضلعی انتظامیہ نے اُن کی حفاظت کے لیے پولیس اور نیم عسکری اہلکاروں کو تعینات کیا۔

بی بی سی نے ڈاکٹر سِنگھلا سے کئی دفعہ رابطہ کرنے کی کوشش کی پر اُنھوں نے جواب نہیں دیا تاہم اتوار کو جب جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور ضلع کمیشنر ڈاکٹر سنگھلا بھی سینیئر افسروں کے ہمراہ پوجا میں شامل ہوئے تو پیشگی اجازت کا معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا۔

مہاراج رُدراناتھ کا کہنا ہے کہ مہنت شنکراچاریہ جی کے یوم ولادت کی مناسب سے پوجا کا اہتمام کیا گیا تھا اور ’بھارتی ثقافت کی تبلیغ کے ذریعے کشمیر کو تشدد سے آزاد کرنا ہی پُجاریوں کا مِشن تھا۔‘

کشمیر

متعلقہ محکموں سے جب قانون کی مبینہ خلاف ورزی کے بارے میں پوچھا گیا تو اُنھوں نے اس بارے میں اپنا موٴقف بتانے سے انکار ہی کر دیا۔ تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ ایک محفوظ قرار دیے گئے مقام پر مذہبی تقریب آثارِ قدیمہ کی حفاظت سے متعلق قانون کی خلاف ورزی ہے۔

کشمیر کے مقامی محکمہ آرکائیوز کے ایک افسر نے بتایا: ’ایسے مقامات کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک لائیو مونیومنٹ ہوتا ہے، جیسے دلی کی جامع مسجد۔ وہ بھی محفوظ قرار دی گئی ہے، لیکن وہاں روز نماز ہوتی ہے۔ دوسرا ہوتا ہے نان لائیو مونیومنٹ، یعنی محکمے کی تحویل میں آنے کے وقت وہ غیر فعال تھا، جیسے مارتنڈ سورج مندر۔‘

مارتنڈ سورج مندر کی تاریخ

قدیم تاریخ کے حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ پانڈو خاندان کے راجہ رام دیو نے اس مندر کو پانچ ہزار سال قبل بنوایا تھا جو کشمیر میں بودھ مذہب کے پھیلاوٴ کے بعد غیر فعال ہو گیا۔

معروف تاریخ دان ظریف احمد ظریف کہتے ہیں: ’بودھ مذہب کے زوال کے بعد ساتویں صدی کے دوران مہنت شنکراچاریہ یہاں آئے اور دوبارہ ہندو مذہب کی تبلیغ کی۔ پھر آٹھویں صدی کے آغاز میں ہی اُس وقت کے ہندو بادشاہ لَلِتادِتیہ نے مارتنڈ سورج مندر کو دوبارہ فعال کیا اور اس کو توسیع بھی دی۔‘

یہ مندر وسیع و عریض رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں پتھروں کے 84 ستون ہیں۔ مندر میں 37 مُورتیاں بھی ہیں۔ ظریف احمد ظریف کے مطابق اس مندر میں لَلِتا دِتیہ کے دور میں ’راج دربار‘ بھی لگتا تھا۔

’لیکن 14ویں صدی میں جب کشمیر میں اسلامی انقلاب آیا تو سلطان سکندر شاہ نے اس مندر کو گرانے کا حکم دیا۔ تب سے یہ کھنڈروں کی صورت میں موجود ہے۔‘

ظریف احمد ظریف اس بارے میں کہتے ہیں کہ ’یہ بات سچ ہے کہ سلطان سکندر نے مارتنڈ مندر کے انہدام کا حکم دیا۔ یہ مندر اس قدر عظیم تھا کہ اس کو گرانے میں کئی دن لگے۔ لیکن اس بارے میں کئی بیانیے ہیں۔ کیا وہاں حکومت مخالف سازش ہو رہی تھی یا کوئی اور وجہ تھی، ہم نہیں جانتے۔ لیکن بعد میں یہ بھی معلوم ہوا کہ سرینگر کے گنپت یار علاقے میں واقع مندر میں جو مُورتی ہے وہ سلطان سکندر نے ہی مندر کو عطیہ کی تھی۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ سلطان سکندر کے بعد اُن کے خاندان سے کئی اور بادشاہ بھی تھے لیکن کسی کے بارے میں یہ مشہور نہ ہوا کہ مندر توڑے گئے۔

’یہ موضوع تحقیق طلب ہے، لیکن کسی بھی مذہبی حلقے کی طرف سے آثارِ قدیمہ کے نام پر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوششوں کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے۔‘

ظریف احمد ظریف کے مطابق انڈیا میں دیگر آثارِ قدیمہ کی طرح مارتنڈ سورج مندر میں بھی سیاح آتے تھے، لیکن پوجا صرف اس کے قریب واقع ایک مندر میں ہوتی تھی۔

کشمیر

واضح رہے کہ انڈیا کے محکمہ آثارِ قدیمہ نے گذشتہ ماہ ایک حکمنامہ جاری کیا تھا جس میں انڈیا کی قدیم اور محفوظ قرار دی گئی جگہوں پر عالمی یوم خواتین اور عرسِ شاہ جہاں سمیت 21 اہم مواقع پر ان جگہوں پر بغیراجازت جانے کی اجازت ہو گی تاہم حکم نامے میں نہ شنکراچاریہ جینتی کا ذکر تھا نہ مذہبی رسوم کی ادائیگی کا۔

کشمیر میں ہندوؤں کے قدیم آثار

انڈیا کے ہندو قوم پرست حلقوں نے گذشتہ چند عشروں سے کشمیر کے کئی مقامات پر موجود ہندووٴں کے قدیم آثار میں دلچسپی لینی شروع کی ہے اور ان میں سے بعض کشمیر کو دوبارہ ’ہندو لینڈ‘ بنانے کی متنازع باتیں بھی کرتے ہیں۔

گو مقامی لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سورج مندر میں کی گئی پوجا میں شرکت کی تاہم اُنھوں نے بعد میں نہایت محتاط لہجے میں بتایا: ’’تاریخی اور رُوحانی جگہوں پر جانے سے واقعی سکون ملتا ہے۔ ہم نے اس مندر کی دیکھ ریکھ اور یہاں سیاحوں اور عقیدت مندوں کی سہولت کے لیے انتظامات کے لیے افسروں کو ہدایات دی ہیں۔‘

پوجا کے دوران سورج کے عکس والے زعفرانی رنگ کا پرچم اور انڈیا کا قومی ترنگا پرچم بھی لہرایا گیا اور سادھووٴں نے ہرہرمہادیو کے نعروں کے بیچ ’نوگریہا اشٹا منگلم‘ پُوجا کی۔

مارتنڈ سُورج مندر کے کھنڈرات میں بالی وُوڈ فلموں آندھی اور حیدر کی شوٹنگ بھی ہوئی ہے۔

کشمیر میں ہزاروں سال پُرانے ہندووٴں کے آثار سے متعلق تاریخ دان ظریف احمد ظریف کہتے ہیں: ’ہندووٴں اور بودھوں کا فن تعمیر بھاری بھرکم پتھروں پر مشتمل تھا۔ یہاں پر ہزاروں سال پرانے بودھ آثار بھی ہیں۔ پھتر کھنڈر بن سکتا ہے لیکن فنا نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس اسلامی دور کا فن تعمیر لکڑی پر مشتمل ہے۔ مساجد اور خانقاہیں دیودار کی لکڑی سے بنائے گئے ہیں۔ درجنوں خانقاہیں سیلاب اور آگ کی نذر بھی ہوئیں۔‘

ظریف کا کہنا ہے کہ دو ہزار سال قبل جب برہمنوں کی طرف سے ذات پات کے امتیاز نے حد کر دی تو لوگوں کی اکثریت نے بودھ دھرم اختیار کرلیا، پھر کئی صدیاں بعد دوبارہ ہندو دور کا آغاز ہوا جو پانچ صدیوں تک رہا، اُس کے بعد مسلم دور آیا۔ یہاں ان تینوں مذاہب سے متعلق آثار موجود ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24136 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments