اگر آپ گھر بیٹھے کمانا چاہتے ہیں تو اسے ضرور پڑھیں


آج کل ہر بندہ ہی آن لائن کمائی کرنا چاہتا ہے اور اگر یہ کمائی گھر بیٹھے ہی ہو جائے تو یہ سونے پر سہاگے کے مترادف ہے۔ آج ہم تفصیل سے آن لائن کمائی کے متعلق بات کریں گے کہ یہ سودمند ہے بھی، یا نہیں اور کون سے ایسے پلیٹ فارم ہیں جہاں بغیر دو نمبری کے چیزیں سکھائی جا رہی ہیں، تعلیم دی جا رہی ہے اور کیا آن لائن کمائی گھر بیٹھے ممکن ہے؟

سو اس سلسلے کی پہلی کڑی کے طور پر ہم ذکر کرتے ہیں ان تمام پلیٹ فارمز کا، ان کے کرتا دھرتاؤں کا اور ان کے کام کرنے کے طریقہ کار کا، پھر ہم فوائد اور نقصانات پر بات کریں گے اور پھر آخر میں نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کریں گے کہ لوگوں کو اس کے لیے جانا چاہیے یا اس سے دامن بچانا چاہیے۔

میں نے دنکش (Dankash ) اور انیبلرز (Enablers) کے مین ہیڈ آفسز کا دورہ کیا جو لاہور میں واقع ہیں۔ یہ لوگ پچاس سے زائد فنی خدمات اور مہارت میں عبور حاصل کرنے میں کام کر رہے ہیں۔

ای کامرس ایک اور میدان ہے جہاں مختلف کمپنیاں طبع آزمائی کر رہی ہیں۔ میں نے ایمازون، گرین لو، مارکیٹنگ ٹیکٹکس اور ق نیٹ کی جانکاری حاصل کی۔

ق نیٹ وہ پہلی کمپنی تھی جس سے ایک سابق دوست راجا عابد صاحب نے متعارف کرایا۔ راجا صاحب بڑے گھاگ بندے ہیں اور ہواوے (Huawei) کمپنی میں میرے سینئیر تھے۔ انہوں نے مجھے راغب کیا کہ میں پانچ لاکھ لگاؤں تو گھر بیٹھے ہر مہینے دو ڈھائی لاکھ کما سکتا ہوں، حتی کہ بارہ لاکھ فی مہینہ بھی لوگ کماتے ہیں۔ مجھے آفر تو بڑی پرکشش لگی لیکن اس میں سے جعل سازی کی بو آنے لگی، یہی وجہ ہے کہ میں نے جلدی نہیں کی بلکہ ان سے ریسرچ کرنے کے لیے وقت مانگا۔

ان سے کچھ سوالات کیے جو مندرجہ ذیل ہیں

1۔ ان سے بدترین ممکنہ منظرنامے کا پوچھا، جس کا وہ تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔

2۔ میں نے پوچھا کیا صرف پانچ لاکھ لگاؤں تو کام چل جائے گا یا مزید بھی رقم لگانی پڑے گی؟ جواب آئیں بائیں شائیں تھا کہ لگا بھی سکتے، نہیں دل تو نہ لگائیں۔ کوئی (clarity) وضاحت نہ تھی

3۔ پھر بزنس کے پھلنے پھولنے کا پوچھا کہ کیسے ہو گا؟ لیکن جواب ندارد

4۔ ہم نے کیا اور کیسے کرنا ہے۔ صحیح سے نہ بتایا جا رہا تھا نہ کوئی واضح لائنز دی جا رہی تھیں کہ ان خطوط پر کام کرنا ہے۔ بڑی دفعہ انہیں تفصیل میں جانے کا کہا لیکن وہ زیادہ چیزیں صیغہ راز میں رکھنے پر مصر تھے۔

5۔ اپنی ٹیم بنانے پر بات ہوئی کہ آپ راجہ صاحب کی ٹیم میں ہیں، راجہ صاحب میری (مس زرمین کی جو ہماری میزبان تھیں)، اب آپ نے اپنی ٹیم بنانی ہے وغیرہ وغیرہ تو میرا سوال تھا کہ یہ بزنس ہے، یہ کیوں ضروری ہے کہ میں اپنے جاننے والوں اور رشتہ داروں کو اس میں شامل کروں؟ کیوں نہ میں صرف پراڈکٹ بیچ کر یا سروس دے کر بزنس کروں۔ کسی کو سہانے سپنے دکھا کر، لالچ دے کر راغب کرنا کم از کم مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔

6۔ کیا یہ پونزی سکیم تو نہیں؟ اس سوال کا بھی خاطر خواہ جواب نہ ملا

7۔ رسک اور بے یقینی کا بھی نہیں بتایا گیا اس میٹنگ میں جو میں نے راجا عابد صاحب اور مس زرمین مشتاق کے ساتھ کی۔

8۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا ق نیٹ پاکستان میں رجسٹرڈ ہے اور بجائے ہاں یا ناں میں جواب دینے کے وہ لوگ مختلف تاویلات پیش کرنے لگے کہ مختلف برینڈز ق نیٹ کے پارٹنرز ہیں، ق نیٹ مشہور ہے وغیرہ وغیرہ لیکن درحقیقت ق نیٹ کے مالک پر کئی فراڈ کے کیسز ہیں، ۔

9۔ کرنسی کے تبادلے کی سمجھ بالکل نہیں آئی کہ کیسے روپیہ ڈالر میں تبدیل ہو گا اور کیسے ڈالر روپے میں کیونکہ پاکستان میں تو پے پال کی سہولت ہی نہیں۔ مجھے یہ سب فراڈ لگ رہا تھا اور بہت کنفیوژن ہو رہی تھی۔

10۔ اپنی پراڈکٹ کو بیچنا کیسے، یہ تو بالکل نہیں بتایا گیا۔ بس اسی بات پر زور تھا کہ آپ پانچ لاکھ کی پراڈکٹس لیں۔ پھر ہم آپ کو گروپس میں ایڈ کریں گے، آپ کی ٹریننگ ہوگی اور آپ سب کچھ سیکھ جائیں گے۔

11۔ آخری سوال یہ تھا کہ اگر یہ بزنس اتنا اچھا ہے تو اس پر کیسز کیوں ہیں؟

پاکستان میں تو ق نیٹ رجسٹرڈ نہیں، نہ ان کی ویب سائٹ پر پاکستان کا نام ہے نہ ہی وکی پیڈیا پر پاکستان کا تذکرہ۔ اس کے علاوہ انڈیا اور دیگر ممالک نے بھی ق نیٹ کو بین کر رکھا ہے۔

پریزینٹر ان تمام سوالات کے تسلی بخش جوابات نہ دے سکیں اور میرا دل نہ مانا کہ میں پانچ لاکھ ایسے ہی جھونک دوں۔ اسی لیے میں نے ایک اور دوست سے رابطہ کیا جو میرا کلاس فیلو بھی رہ چکا تھا، اس کا نام یاسر ہارون تھا لیکن وہ بھی مجھے لارے لپے دیتا رہا لیکن میرے سوالات کے جوابات مرحمت نہیں فرمائے۔

سو میں نے انویسٹمنٹ کا خیال دل سے نکال دیا۔ بعد ازاں ایک اور ای کامرس کی کمپنی مارکیٹنگ ٹیکٹکس سے پالا پڑا۔ وہ لوگ نیٹ ورک مارکیٹنگ/ وابستہ مارکیٹنگ کر رہے تھے اور ان کی پراڈکٹ تین کتابیں تھے جو آن لائن دستیاب تھیں۔ آپ نے ایک دفعہ رکنیت حاصل کرنی ہے 11.60 ڈالرز میں اور تینوں میں سے کوئی ایک کتاب خریدنی ہے
تین کتابیں چیلنج قبول کرنا بیس ڈالر کی، چیلنج بوسٹر پچاس ڈالر کی اور چیلنج رنر 100 ڈالر کی ہے۔

مجھے مس خویلہ، مس چندہ اور ایک اور موصوف (نام ذہن سے نکل گیا ہے ) نے پھنسانے کی یا یوں کہہ لیں قائل کرنے کی بہت کوشش کی لیکن میں قابو میں نہ آیا۔

ان تین کتب میں مارکیٹنگ کی حکمت عملی بتائی گئی ہے، ریسرچ، خیالات، فری لانسر کے طور پر کام کرنا، کاروبار کو فروغ دینا، ای میل مارکیٹنگ، مواد کی مارکیٹنگ، فین پیج کی اصلاح، فالو اپس، تصویر کا اضافہ، قیادت اور فروخت، اپنی ویب سائٹ بنانے کے طریقے، فیس بک، انسٹا، ٹویٹر مارکیٹنگ وغیرہ وغیرہ کے مضامین شامل ہیں۔ لیکن یہ خود سیکھنے اور خود ہی عمل کرنے والی کہانی ہے۔

میں نے بہت سے فیس بک گروپس دیکھے جن میں لڑکے اور لڑکیاں بنا ان کتابوں کو پڑھے بس کتابیں بیچنے پر لگے تھے کیونکہ ان کی تعلیمی استعداد ہی میٹرک یا ایف اے تھی، وہ انگلش سے قطعی نابلد تھے لیکن چونکہ وہ 11.60 ڈالر دے کر لائف ٹائم رکنیت حاصل کر چکے تھے تو وہ کتابیں بیچنے کے اہل بھی تھے۔

سو وہ بنا سوچے سمجھے بس اس چیز پر توجہ مرکوز رکھتے تھے کہ کیسے کسی دوسرے کو بے وقوف بنانا مطلب قائل کرنا ہے کہ وہ بھی ان کی طرح پہلے 11.60 ڈالر جھونکے پھر 20، 50 یا 100 ڈالر کی کتاب لے۔ اور جیسا پیسا پیسے کو کھینچتا ہے، وہ بھی اس چکر میں اگلوں کو لائیں۔

غرض یہ بھی ق نیٹ کی طرح فراڈ سکیم تھی، فرق صرف اتنا تھا کہ ق نیٹ والے ایک دم پانچ لاکھ کا ٹیکا لگا رہے تھے جبکہ یہ 2000 روپے کا ابتدائی ٹیکا لگا کر 18000 یعنی 100 ڈالر کا نقصان اٹھوا کر لوگوں کو چین در چین اس میں شامل کر رہے تھے۔ کچھ ممبرز یہ سالوں سے کر رہے تھے۔ میں نے کچھ لوگوں سے بات کی جب کہ کچھ سے ملاقات کی لیکن کیونکہ وہ پھنس چکے تھے تو ان کو یہ سب ٹھیک لگتا تھا۔

اور مارکیٹنگ ٹیکٹکس کمپنی تو حکومت پاکستان سے رجسٹرڈ بھی نکلی۔ ان کے پاس NTN نمبر بھی تھا۔ مجھے اچنبھا تو بہت ہوا کہ یہ فراڈ اتنے منظم پیمانے پر کیسے ہو رہا ہے لیکن پھر مجھے لگا کہ شاید میرے سوچنے کا زاویہ غلط ہے۔ ظاہر ہے اتنے لوگ تو فراڈ کا حصہ نہیں ہو سکتے اور اگر حکومت پاکستان نے اس بزنس کی اجازت دے رکھی ہے تو یہ غلط کیسے ہو سکتا ہے۔ مارکیٹنگ ٹیکٹکس کمپنی سرگودھا میں رجسٹرڈ تھی اور ان کے پاس ایف بی آر کا مستند رجسٹریشن نمبر اور ریفرنس نمبر موجود تھا۔

لیکن کیونکہ میرا دل مطمئن نہیں ہو رہا تھا تو اسے فراڈ سمجھتے ہوئے یہاں بھی میں نے سرمایہ کاری نہیں کی۔ لیکن میرا جوش و خروش اس حد تک بڑھ چکا تھا، میری پیاس اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ میں نے مزید گہرے پانی میں اترنے اور اس راز سے پردہ اٹھانے کا سوچا کہ یہ فراڈ ہے یا نہیں؟

میں نے سوچا کہ میں ان پلیٹ فارمز پر جاؤں جو امیزون، ویب سرورز، دراز، علی بابا، SEO، ورچوئل اسسٹنٹ، مواد کی تحریر اور اس طرح کے دوسرے کورسز کروا رہے ہیں۔

میں نے کچھ میٹنگز زوم پر لی، اس کے ساتھ ساتھ میں نے مزید معلومات کے لیے دنکاش اور انیبلرز کے آفسز کا دورہ کیا۔

میں اپنا تجربہ پوائنٹس میں گوش گزار کرتا ہوں۔
فائدے :
1۔ سب آنے والوں کو بہت عزت احترام سے ڈیل کیا جاتا ہے۔

2۔ خلق خدا کی بھلائی کے لیے دنکاش اپنے یو ٹیوب چینل پر فری کورسز کی ویڈیوز اپلوڈ کرتا ہے اور عوام بنا پیسے خرچ کیے وہ ویڈیوز دیکھ سکتی ہے (آف کورس نیٹ پیکج ہونا چاہیے )

انیبلرز کے کورسز کو حاصل کرنے کے لیے آپ کو اپنا شناختی کارڈ جمع کروانا پڑے گا، بجلی یا گیس کا بل اور اپنی تنخواہ کا سرٹیفیکیٹ جو پچاس ہزار سے کم ہونی چاہیے۔ لنک مندرجہ ذیل ہے

www.enablers.org/EVS

تکالیف یا پریشانی کا سبب چیزیں :

1۔ کورسز بہت مہنگے ہیں اور کورسز کا دورانیہ چار سے چھ مہینے کم از کم اور ایک سال زیادہ سے زیادہ ہے۔ اگر آپ وہاں جا کر کلاس میں بیٹھ کر سیشنز لیتے ہیں تو ایک لاکھ پچاس ہزار سے ایک لاکھ اسی ہزار تو صرف فیس ہے۔ باقی رہنے اور آنے جانے کا خرچہ اس کے علاوہ ہے۔

اگر اسے شامل کر لیا جائے تو کم از کم دو ڈھائی لاکھ روپے چاہیے۔

2۔ جو چیز مجھے سب سے ناپسندیدہ لگی، وہ ایک میٹرک پاس یا ایف پاس کا انجینئر یا اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے ہم پلہ ہونا ہے۔ دنکاش اور انیبلرز دونوں اس چیز کو اہمیت نہیں دیتے کہ ایک بندہ کتنا پڑھا لکھا ہے۔ حالانکہ ایک پڑھے لکھے اور ایک ان پڑھ میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک بس لیپ ٹاپ اور موبائل چلانا ہی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔

3۔ جو فارمز دنکاش والے تشخیص (assessment) کے لیے دیتے، ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ہر دفعہ دنکاش ٹیم آپ سے بحیثیت اجنبی کے برتاؤ کرتی ہے۔

وہ خصوصیات کو پرکھ نہیں پاتے مہمان یا طالب علم کی جو بہت بڑا خلا ہے۔

4۔ جلوت کی میٹنگز ہوتی ہیں حالانکہ خلوت ہونی چاہیے، چاہے آپ دس منٹس دیں لیکن انفرادی طور پر گفتگو کریں کیونکہ لوگ بہت دور دور سے آئے ہوتے ہیں جیسے میں اٹک سے گیا تھا آٹھ گھنٹے کا سفر کر کے۔

5۔ فری کورسز تو دنکاش اور انیبلرز دونوں دے رہے لیکن وہ خود ہی پڑھنے بنا استاد کی خدمات حاصل کیے۔ خود سے سیکھنا (Self Learning) ایک مشکل کام ہے۔ اور آپ کو راہنمائی تب ہی حاصل ہوتی ہے جب آپ کسی کورس کے پیسے دیتے ہیں۔

6۔ جعلی گروپس کی بھرمار ہے فیس بک پر۔ ہر دوسرا گروپ یہی دعویٰ کر رہا ہے کہ ہم اصلی ہیں، باقی سب جعلی۔ میں نے 84 کے قریب جعلی گروپس کو رپورٹ کیا۔ لیکن پاکستان میں سائبر قانون تو ہے نہیں سو یہاں ہر بندہ بدمعاش ہے جو بھی غلط کام کر رہا ہے۔

7۔ اگر آپ نیٹ ورک مارکیٹنگ یا الحاق شدہ (affiliate) مارکیٹنگ کر رہے ہیں تو جب تک آپ کسی کو گھیر گھار کر نہیں لاتے، آپ کی ساری تنخواہ اس پر انحصار کرے گی کہ آپ نے اپنی پراڈکٹ کتنی بیچی۔

8۔ امازون کے سرٹیفائیڈ پروفیشنل مارکیٹنگ ایجنٹ بننے کے لیے بہت سرمایہ چاہیے ہوتا ہے۔

سو اختتام میں ان الفاظ پر کرنا چاہوں گا کہ یہ بہت وسیع و عریض میدان ہے اور اس میں ہر گھڑ سوار کو طبع آزمائی کرنی چاہیے لیکن یہ راستہ بہت دشوار گزار اور جعل سازوں سے بھرا ہے تو ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا چاہیے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید محمد علی، اٹک کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments