انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں مسلح شورش کے بانی محمد یاسین ملک کے خلاف عدالت میں فرد جرم عائد

ریاض مسرور - بی بی سی اردو سروس سری نگر


یاسین ملک
یاسین ملک گذشتہ 32 سال سے ہند مخالف تحریک میں سرگرم ہیں
انڈین میڈیا نے عدالتی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ کئی برسوں سے دلیّ کی تہاڑ جیل میں قید کشمیری علیحدگی پسند رہنما محمد یاسین ملک نے اپنے خلاف بعض الزامات پر اقبال جُرم کیا ہے۔

واضح رہے گزشتہ برس ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہونے والی ایک سماعت کے دوران یاسین ملک نے کسی بھی وکیل کی مدد لینے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ گواہوں کے ساتھ خود ہی جرح کریں گے۔

تاہم یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کا کہنا تھا کہ ’یاسین صاحب نے کسی دہشت کارروائی یا دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کا اعتراف نہیں کیا بلکہ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حق خود ارادیت کی جد و جہد چلا رہا ہوں جو بھگت سنگھ اور مہاتما گاندھی کی بھی تھی۔ یہ من گھڑت اور جھوٹا مقدمہ ہے۔‘

یاسین ملک پر یہ الزامات انڈیا کے نئے دہشت گردی مخالف قانون ’اَن لافُل ایکٹوِٹیز ایکٹ‘ یعنی یوے اے پی اے اور انڈین پینل کوڈ کے تحت عائد کیے گئے ہیں۔

بدھ کی سماعت کے دوران اُنہیں 2017 میں دہشت گرد کاروائیوں، دہشت گردی کے لیے سرمایہ اکھٹا کرنے، دہشت گردانہ حملوں کی سازش ، مجرمانہ سازش اور ملک دُشمن خیالات کے اظہار جیسے جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا، جس کے بعد انھوں نے انڈین خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق ’اقبال جُرم‘ کیا۔

تاہم اس سلسلے میں عدالت نے اگلی سماعت 19 مئی کو رکھی ہے جس دن سپیشل جج پروین سنگھ ان الزامات کے عوض یاسین پر لگنے والی سزا کے حجم پر دلائل کی شنوائی کریں گے۔

58 سالہ یاسین ملک پر 1989 میں اُس وقت کے انڈین وزیرداخلہ اور کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیہ سید کے اغوا کرنے اور 1990 میں بھارتی فضائیہ کے چار افسروں کو فائرنگ کرکے ہلاک کرنے کا بھی الزام ہے، تاہم تازہ فرد جرم میں ان الزامات کا ذکر نہیں ہے۔

’یسین ملک کا اعتراف پر امن تحریک کے حوالے سے ہے‘

یٰاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا ہے کہ 22 فروری 2019 کو سری نگر سے گرفتار کیے جانے کے بعد یٰسین ملک کا خاندان والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا ’مجھے کافی مہینوں بعد ان کی زندگی اور صحت سے متعلق اطلاع اپنی ساس کے ذریعے ملتی ہے۔ گرفتاری کے بعد سے میرا ان سے کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہوا۔ انٹر نیٹ پر وائرل ہونے والے تصاویر میں دیکھا کہ ان کے سر کے بال بھی غائب ہوگئے ہیں اور ان کی صحت کتنی خراب ہو چکی ہے۔ ‘

پاکستان میں مقیم یسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا کہ یسین ملک انڈین نظام انصاف پر یقین ہی نہیں رکھتے اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنے لیے وکیل رکھنے سے انکار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا ’یسین ملک کو کبھی بھی شفاف مقدمے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ اوّل تو ان کا موقف ہی نہیں لیا جاتا تھا یا انھیں عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا تھا، اگر کبھی آن لائن پیشی کے دوران وہ بات کرتے تو ان کا مائیک بند کر لیا جاتا۔ یہ فرد جرم یکرفہ طور پر عائد کی گئی ہے۔ ہمیں تو ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ ان پر تشدد بھیں کیا گیا ہے۔‘

مشعال ملک کا کہنا تھا ’یاسین صاحب نے کسی دہشت کارروائی یا دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کا اعتراف نہیں کیا بلکہ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حق خود ارادیت کی جد و جہد چلا رہا ہوں جو بھگت سنگھ اور مہاتما گاندھی کی بھی تھی۔ یہ من گھڑت اور جھوٹا مقدمہ ہے۔‘

مشعال ملک کا کہنا تھا ’یاسین ملک نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہمیشہ پر امن کردار ادا کیا ہے۔ ‘

مشعال ملک کا کہنا تھا کہ انڈین میڈیا میں ابھی سے عمر قید کی افواہیں پھیلائی جا رہیں ہیں تاکہ پہلے سے رائے عامہ ہموار کی جا سکے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ چونکہ یاسین ملک انڈیا کے نظام انصاف پر یقین ہی نہیں رکھتے۔ تاہم وہ آئندہ کے لائمہ عمل کے بارے مںی آئندہ بدھ کی سماعت کے بارے میں ہی بتا سکیں گی۔

مشعال ملک کا مطالبہ تھا کہ یاسین ملک کو میڈیا کے سامنے پیش کیا جائے اور خاندان سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ کیونکہ اس کے بغیر ان کے بارے میں کسی بھی قسم کا اعترافی بیان نا قابلِ یقین ہے۔

’سارے جرائم کو قبول کرنے کی خبریں صرف جھوٹا پراپیگینڈا ہے۔ جب تک یاسین صاحب کو فئیر ٹرائل کو موقع نہیں دیا جائے گا تب یکطرفہ فیصلہ دیا دیا جا سکتا۔ کیونکہ انھوں نے صرف ایک اعتراف کیا ہے اور وہ آزدی کی تحریک چلانے کا ہے۔‘

کشمیر

یٰسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کا کہنا ہے کہ 22 فروری 2019 کو سری نگر سے گرفتار کیے جانے کے بعد یٰسین ملک کا خاندان والوں سے کوئی رابطہ نہیں

19 مئی کو کیا ہوگا؟

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جن الزامات میں فرد جُرم عائد کی گئی ہے اُن میں زیادہ سے زیادہ سزا ہوئی تو یاسین ملک کو عُمر قید ہوسکتی ہے۔

بدھ کی سماعت کے دوران جن دیگر محبوس علیحدگی پسندوں کے خلاف فردجرم عائد کی گئی اُن میں شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان، الطاف شاہ، آفتاب شاہ، نول کشور کپور اور فاروق احمد ڈار عرف بِٹہ کراٹے سمیت گیارہ افراد شامل ہیں۔

عدالت نے پاکستان میں مقیم محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین، جو کشمیر میں سرگرم عسکری گروپوں کے اتحاد ’متحدہ جہاد کونسل‘ اور کالعدم عسکری گروپ حزب المجاہدین کے سربراہ ہیں، کے ساتھ ساتھ جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ سعید کو اشتہاری مجرم قرار دیا ہے۔

حافظ سعید پر انڈین حکومت کا الزام ہے کہ وہ عسکری گروپ لشکر طیبہ کے نظریہ ساز ہیں اور انھوں نے 2008 میں ممبئی کے تاج ہوٹل اور دیگر عمارتوں پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ سازی کی تھی۔’

یہ بھی پڑھیے

کشمیر: بارہ مہینے، بارہ کہانیاں

کشمیر فائلز: سنگاپور میں ہندو پنڈتوں پر بننے والی فلم کی نمائش پر پابندی

کشمیر کے اجڑے آشیانے

یاسین ملک کون ہیں؟

یاسین ملک کم سنی کے دوران ہی علیحدگی پسند صفوں میں شامل ہوگئے تھے۔ وہ 1980 کے دوران ‘اسلامِک سٹوڈنٹس لیگ’ کے جنرل سیکرٹری بن گئے۔

1986 میں سرینگر میں انڈیا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہونے والے عالمی ایک روزہ کرکٹ مقابلے کے دوران ہند مخالف نعرے بازی، پتھراؤ اور میچ کے وقفے میں پِچ کھودنے کے الزام میں یاسین ملک کئی ساتھیوں سمیت گرفتار کیے گئے۔

1987 میں وہ علیحدگی پسندوں کے سیاسی اتحاد ’مسلم متحدہ محاذ‘ کے قریب ہوگئے اور مقامی اسمبلی کے لیے ہونے والے انتخابات میں انھوں نے جماعت اسلامی کے رہنما اور محاذ کے اُمیدوار محمد یوسف شاہ کے لیے انتخابی مہم بھی چلائی۔

ان انتخابات میں محاذ نے بھاری دھاندلیوں کا الزام عائد کیا اور1988 میں یاسین ملک غیرقانونی طور پر لائن آف کنٹرول عبور کرکے پاکستان گئے جہاں انھوں نے مسلح تربیت حاصل کی اور واپسی پر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نامی عسکری تنظیم کے مرکزی رہنما بن گئے۔ اُن کے بعد محمد یوسف شاہ بھی پاکستان چلے گئے اور عسکری گروپ حزب المجاہدین کے ’سپریم کمانڈر‘ بن گئے جس کے بعد وہ اپنے عرف سید صلاح الدین کے طور پر معروف ہوگئے۔

1989 میں یاسین ملک کی قیادت میں ہی لبریشن فرنٹ نے جیل سے اپنے ساتھیوں کو چُھڑوانے کے لئے اُس وقت کے انڈین وزیرداخلہ مفتی محمد سید کی بیٹی روبیہ سید کا اغوا کرلیا۔ کئی روز کے مذاکرات کے بعد فرنٹ کے کئی مسلح لیڈروں کو رہا کیا گیا جس کے بعد روبیہ سید کو بھی رہا کیا گیا۔

1990میں لبریشن فرنٹ کے مسلح عسکریت پسندوں نے انڈین فضائیہ کے چار افسروں پر اُس وقت فائرنگ کی جب وہ بازار سے سبزی خریدنے میں مصروف تھے۔ حکومت نے اس حملے کے لیے یاسین ملک کو براہ راست ذمہ دار قرار دے کر ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

کئی برس تک مسلح سرگرمیاں جاری رکھنے کے بعد یاسین ملک نے بھارتی فورسز کے خلاف 1994 میں یکطرفہ سیز فائر کا اعلان کرکے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کو ایک سیاسی تنظیم قرار دیا اور عہد کیا کہ وہ مسلہ کشمیر حل کرنے کے لیے عدم تشدد کی پالیسی پر گامزن رہیں گے۔ بعد میں ملک نے دعویٰ کیا کہ انسداد دہشت گردی کی انڈین کارروائیوں میں سیز فائر سے قبل لبریشن فرنٹ کے 600 عسکریت پسند مارے گئے۔ اسی سال علیحدگی پسندوں کا اتحاد حریت کانفرنس بھی وجود میں آیا اور یاسین ملک بھی اس کے مرکزی رہنماوٴں میں شامل ہوگئے۔

گذشتہ عشرے کے وسط میں یاسین ملک نے وادی بھر میں مسئلہ کشمیر کے حل کے حق میں ایک دستخطی مہم چلائی جس کا نام ’سفرِ آزادی‘ تھا۔ اس مہم کی عکس بندی اور کشمیر کے بارے میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان مذاکرات میں کشمیریوں کو کلیدی کردار دینے کا مطالبہ لے کر انھوں نے 2006 میں انڈیا کے اُس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ سے بھی ملاقات کی۔

پاکستان نے گِلگِت بلتستان کو پاکستانی وفاق میں ضم کیا تو انھوں نے اُس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کو خط لکھ کر اس اقدام کی مخالفت کی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24055 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments