اتحادی حکومت، آئندہ انتخابات اور آرمی چیف کی تقرری


عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف فوری نئے انتخابات کے لئے شدید مہم چلا رہی ہے۔ اس ماہ کے آخر میں جلد از جلد انتخابات منعقد کروانے کا دباؤ بڑھانے کے لئے اس ماہ کے آخر میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور دھرنا کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ اس دوران اتحادی حکومت میں شامل دونوں بڑی پارٹیوں کی طرف سے انتخابات کے سلسلہ میں ایک ہی روز میں دو متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ انتخابات بہت جلد منعقد ہوسکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جلد ہی عبوی حکومت قائم کردی جائے اور انتخابات کروائے جائیں اور نومبر میں نئے آرمی چیف کی تقرری سے پہلے ہی نئی حکومت برسر اقتدار آجائے۔ بی بی سی اردو کو دیے گئے اس انٹرویو میں وزیر دفاع کی گفتگو کا محور آرمی چیف کی تقرری ہی رہا۔ اگرچہ انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ اپوزیشن جماعتوں نے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے کا فیصلہ اس اندیشے کے پیش نظر کیا تھا کہ یہ خبریں سامنے آنے لگی تھیں کہ بطور وزیر اعظم عمرا ن خان مئی کے اختتام تک اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانے کا اعلان کریں گے۔ اس طرح وہ 2022 میں ہونے والے ممکنہ انتخابات کے دوران عسکری قیادت کی مسلسل حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔ اپوزیشن جماعتیں اس صورت حال میں ہاتھ ملتی رہ جاتیں کیوں کہ عام خیال تھا کہ عمران خان لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو آرمی چیف بنانا چاہتے تھے۔ عمران خان نے ایک انٹرویو میں اس ’افواہ‘ کی تردید کی ہے لیکن وہ یہ اعتراف بھی کرچکے ہیں کہ گزشتہ برس کے دوران آئی ایس آئی کے سربراہ کے طور پر جنرل فیض حمید کے تبادلہ سے خوش نہیں تھے کیوں کہ انہیں کے تعاون سے وہ سیاسی مخالفین پر نگاہ رکھتے تھے اور حکومت مخالف سرگرمیوں کو کنٹرول کرتے تھے۔

خواجہ آصف نے اس انٹرویو میں جلد انتخابات کی بات کرتے ہوئے اس تاثر کو رد نہیں کیا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی بھی تحریک عدم اعتماد کے عوامل میں سے ایک تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ ان کی جماعت نے ایک بڑا سیاسی رسک لیا ہے۔ میرے خیال میں یہ دھکا کسی نے نہیں دیا، ہم نے خود ہی چھلانگ لگائی ہے۔ ملک اس وقت انتہائی مخدوش حالت میں ہے۔ اگر عمران خان مزید چودہ مہینے گزارتے تب تک ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا‘۔ خواجہ آصف کی یہ وضاحت اس لحاظ سے کمزور دکھائی دیتی ہے کہ ملک اس وقت غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے۔ بلند بانگ دعوے کرتے ہوئے تحریک عدم اعتماد لا کر برسر اقتدار آنے والی اتحادی حکومت ابھی تک کوئی ایسا بڑا سیاسی، معاشی یا انتظامی فیصلہ نہیں کرسکی جس سے عوام کو کسی مثبت تبدیلی کا اشارہ ملتا ہو۔ نئے وزیر اعظم شہباز شریف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ابھی تک قوم سے خطاب نہیں کیا۔ دو روز پہلے انہوں نے قومی اسمبلی میں ضرور تقریر کی تھی لیکن اس میں بھی فوج کا دفاع کرنے اور فوج کے خلاف الزام تراشی کرنے پر عمران خان کے خلاف سخت کارورائی کا عندیہ دینے کے علاوہ کسی پالیسی معاملہ پر کوئی خاص بات نہیں کی گئی۔

یہ درست ہے کہ پاکستان کے موجودہ سنگین معاشی بحران پر چند ہفتوں کے دوران قابو پانا ممکن نہیں ہے۔ خاص طور جب عالمی منڈیوں میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہوں اور پاکستان میں بدستور غیر واضح ہو کہ نئی حکومت کس حد تک اس بارے میں سابقہ حکومت کے فیصلوں پر ہی عمل کرے گی یا کوئی نئی معاشی حکمت عملی اختیار کرے گی۔ مہنگائی کے حوالے سےخصوصی معاونت کے ذریعے ماہ رمضان میں ضرور کچھ رعایت دی گئی تھی لیکن یہ ماہ گزرنے کے بعد عوام اب اس سہولت سے محروم ہوچکے ہیں۔ ماہرین ڈالر کی بڑھتی ہوئی شرح کو حکومت کی بے عملی اور ملک میں جاری سیاسی و آئینی بحران کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔

ان حالات میں وزیر اعظم نے کابینہ کے پے در پے اجلاسوں کے ذریعے حکمرانی کا کوئی بلیو پرنٹ سامنے لانے اور جرات مندانہ فیصلے کرنے کی بجائے دس رکنی وفد کے ہمراہ لندن جا کر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے نواز شریف کے ساتھ مشاورت کو ترجیح دی ہے۔ ایک روز پہلے اچانک یہ معلومات سامنے آنے کے بعد جہاں عمران خان کو سیاسی نعرے بازی کا ایک اور موقع مل گیا تو دوسری طرف عام لوگوں کے لئے بھی یہ امر باعث حیرت ہے کہ پاکستان کا وزیر اعظم ملک میں بیٹھ کر فیصلے کرنے کی بجائے ایک سزا یافتہ اور سیاست سے نااہل قرار دیے گئے شخص سے ہدایات لینے کے لئے لندن پہنچا ہؤا ہے۔ حکومت اس معاملہ پر جو وضاحت بھی پیش کرے لیکن پاکستان جیسے بڑے ملک کے وزیر اعظم کو ہرگز یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ ایسے وقت میں اپنی کابینہ کے نصف ارکان کو لے کر ’نجی دورے‘ پر ملک سے باہر روانہ ہو جائیں جب عوام نئی حکومت کی طرف سے اہم فیصلوں کے منتظر ہیں۔ ان میں اولیت تو معاشی معاملات پر سرکاری پالیسی واضح کروانے ہی کو حاصل ہے لیکن ملک کے صدر کے ساتھ جاری آئینی تنازعہ اور فوج کے سیاسی کردار کے حوالے سے عمران خان کی طرف سے شروع کی گئی بحث پر بھی حکومتی طرز عمل غیر واضح اور کمزور ہے۔

وزیر اعظم اگر یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان انتشار پیدا کررہے ہیں اور اداروں پر تنقید کے ذریعے ملک کو انارکی کی طرف دھکیلا جارہا ہے تو یہ بھی واضح ہونا چاہئے تھا کہ حکومت اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لئے کیا اقدامات کررہی ہے۔ اب اس حوالے سے لندن میں جاری صلاح و مشورہ کی طرف توجہ مرکوز ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ سب اہم معاملوں پر نواز شریف کی ہدایات کی روشنی میں فیصلے ہوں گے۔

مسلم لیگ (ن) کا یہ طرز عمل موجودہ سیاسی صورت حال میں خطرناک قدم بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ اول تو شہباز شریف کو قومی اسمبلی میں صرف دو ووٹوں کی اکثریت سے وزیر اعظم چنا گیا تھا۔ ان کی اتحادی حکومت پیپلز پارٹی کے علاوہ متعدد چھوٹی پارٹیوں کے اشتراک سے قائم ہوسکی تھی۔ قومی اسمبلی کی حیثیت و اہمیت تحریک انصاف کے استعفوں کے بعد مشکوک ہوچکی ہے۔ نئے اسپیکر راجا پرویز اشرف ابھی تک استعفے دینے والے ارکان اسمبلی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکے۔ اسے بھی اتحادی جماعتوں کی سیاسی ناکامی ہی سمجھا جائے گا۔ پنجاب میں جاری بحران، گورنر برطرف کرنے اور نئی حکومت کی تکمیل کے سلسلہ میں پیش آنے والی مشکلات کا بوجھ بھی اسی سیاسی اتحاد کو اٹھانا پڑے گا۔

مرکز میں باپ وزیر اعظم ہے اور پنجاب میں بیٹے حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ بنوا کر ایک ناپسندیدہ سیاسی روایت قائم کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ خاص طور سے ایک ایسے سیاسی ماحول میں مضحکہ خیز حد تک تکلیف دہ ہے جب عمران خان کی طرف سے خاص طور سے شریف خاندان کی سیاسی اجارہ داری کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ حمزہ شہباز کو تحریک انصاف کے منحرف ارکان کے ووٹوں سے منتخب کروایا گیا ہے۔ اگرچہ الیکشن کمیشن نے ان ارکان کی نا اہلی کے بارے میں درخواست وقتی طور سے مسترد کردی ہے لیکن آئینی شق 63 اے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد یا اس فیصلہ کے خلاف کی جانے والی اپیل کے نتیجہ میں بہرحال ان ارکان کے خلاف کارروائی کرنا پڑے گی جو پارٹی لائن سے ہٹ کر کسی دوسرے کو وزیر اعلیٰ منتخب کروانے کا باعث بنے ہیں۔ اس صورت میں حمزہ شہباز کے لئے پنجاب اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنا یا حکومت قائم رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔ نئی حکومت کے مقررہ گورنر کے عہدہ سنبھالنے کے بعد بھی یہ سیاسی صورت حال تبدیل نہیں ہو گی۔

ان حالات میں یہ قیاس آرائیاں بڑھتی جارہی ہیں کہ شہباز شریف وزیر اعظم بننے کے لالچ میں آصف زرداری کے بچھائے ہوئے سیاسی جال میں پھنس گئے ہیں۔ عمران خان تو غیر ملکی سازش اور شریف مافیا پر الزام تراشی کرتے ہوئے اپنے چار سالہ دور حکومت میں کی گئی غلطیوں سے ’بری الذمہ‘ ہوچکے ہیں اور پیپلز پارٹی اتحادی حکومت میں شریک و معاون ہونے کے باوجود موجودہ حکومت کی ناکامیوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ اس کی سیاسی قیمت مسلم لیگ (ن) کو ہی ادا کرنا پڑے گی۔

آئندہ انتخابات کا میدان پنجاب ہی میں سجنے والا ہے۔ عمران خان پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی سیاسی حیثیت کو چیلنج کررہے ہیں۔ ان کے نعروں کی مقبولیت نے مسلم لیگ (ن) کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ ’ووٹ کو عزت دو‘ کا مطالبہ کرنے والی پارٹی اب ’فوج کو عزت دو‘ کی بات کرنے پر مجبور ہے۔ لندن میں ہونے والی ملاقاتیں اسی تناظر میں ہورہی ہیں۔ خواجہ آصف نے جلد انتخابات کروانے اور نئے آرمی چیف کی تقرری کا وقت آنے سے پہلے نئی حکومت کے قیام کا اشارہ دے کر درحقیقت مسلم لیگ (ن) کی کمزور سیاسی پوزیشن کو ظاہر کیا ہے۔

خواجہ آصف کا انٹرویو ابھی موضوع بحث ہی بنا ہؤا تھا کہ سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے معاون چئیرمین آصف زرداری نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں جلد انتخاب کروانے کی باتوں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کیا ہے کہ انتخابی اصلاحات اور نیب کے بارے میں نئی قانون سازی سے پہلے انتخابات نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں یہ تاثر راسخ کرنے کی کوشش کی کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو جلد انتخابات کی ’غلطی‘ نہیں کرنے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے رات ہی میاں صاحب سے بات کی۔ انہیں سمجھایا بھی ہے اور ان کی مشاورت کے بعد میں آپ سے بات کر رہا ہوں کہ جیسے ہی ہماری انتخابی اصلاحات مکمل ہوتی ہیں اور ہمارے آسان اہداف ہیں وہ پورے ہوتے ہیں تو ہم الیکشن کروادیں گے‘۔ اس بیان سے ایک طرف انتخابات کے حوالے سے اتحادی حکومت کی دونوں بڑی پارٹیوں کا تضاد سامنے آیا ہے اور یہ اندازہ بھی ہؤا ہے کہ موجودہ حکومت بنیادی نوعیت کے اصولی اور اہم معاملات پر اگر پالیسی واضح نہیں کر پا رہی تو اس کی ایک وجہ حکومت میں موجود سیاسی اختلافات بھی ہیں۔ دیکھنا ہوگا کہ اتحادی پارٹیاں اس مشکل سے کیسے باہر نکلتی ہیں۔

خواجہ آصف نے اگرچہ جلد انتخابات کے حوالے سے آرمی چیف کی تقرری کو ’غیر اہم ‘ معاملہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ان کی باتوں سے بھی یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ آرمی چیف کی تقرری ملکی سیاست میں اہم ترین معاملہ کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ آصف زرداری نے اپنی پریس کانفرنس میں فوج کی ’غیر جانبداری‘ کو اپنی حکمت عملی کی اہم سیاسی بنیاد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا ’ہمیں یہ پتا چل گیا کہ وہ غیر سیاسی رہ سکتے ہیں، نیوٹرل رہ سکتے ہیں۔ ہم کوشش کرتے رہیں گے کہ وہ غیر سیاسی رہیں‘۔ موجودہ حالات میں اتحادی حکومت کا یہ ہدف اپنی مرضی کا آرمی چیف مقرر کئے بغیر پورا نہیں ہوسکتا جبکہ موجودہ سیاسی انتظام کے مخالف عناصر چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا آرمی چیف بنوایا جاسکے جو عمران خان کے اس مؤقف کو تسلیم کرلے کہ ’فوج کی غیر جانبداری ملکی مفاد میں نہیں ہے‘۔

ملک میں جمہوری عمل اور انتخابات کا معاملہ ایک آسامی پر تقرری سے مشروط ہو چکا ہے۔ یہ صورت حال جمہوری روایت کی سربلندی اور آئین کی بالادستی کے لئے خوش آئند نہیں ہے۔ ملک کے سیاسی قائدین کو ہوشمندی سے ملک کے جمہوری و آئینی انتظام پر اس غیر ضروری دباؤ کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2170 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments