تحریک طالبان پاکستان: ٹی ٹی پی کی جانب سے جنگ بندی میں پانچ دن کی توسیع، مگر وجہ اب بھی نامعلوم

عزیز اللہ خان - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور


طالبان، ٹی ٹی پی
کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے جنگ بندی میں پانچ روز کی توسیع کر دی ہے اور اب یہ جنگ بندی 15 مئی تک جاری رہے گی۔ جنگ بندی کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب طالبان کے ساتھ ایک مرتبہ پھر مذاکرات کا چرچا ہو رہا ہے۔

تنظیم کے ترجمان محمد خراسانی نے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کی تصدیق کی ہے۔ ٹی ٹی پی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کی گئی ہے اور اس کے لیے تحریری حکم جاری کیا گیا ہے۔

اس بیان کے مطابق عید الفطر کے لیے کی گئی جنگ بندی میں پانچ روز کی توسیع کی گئی ہے۔ اس سے پہلے ٹی ٹی پی کے ترجمان نے 29 اپریل کو ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ 10 شوال تک جنگ بندی رہے گی۔

اس بیان میں تمام کارکنوں سے کہا گیا تھا کہ اس جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد کیا جائے اور کہیں بھی کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، چنانچہ اس عرصے کے دوران ملک کے کسی علاقے سے بھی ٹی ٹی پی سے منسلک تشدد کے کسی واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کے جنگجوؤں کے لیے 16 مئی کو نئی ہدایات جاری کی جائیں گی۔

تاہم اس جنگ بندی کے بارے میں نہ تو ٹی ٹی پی اور نہ ہی حکومت کی جانب سے کسی قسم کی کوئی وجہ بتائی گئی ہے کہ یہ کس معاہدے کے تحت کی گئی۔

کیا مذاکرات ہو رہے ہیں؟

کالعدم تنظیم کی جانب سے یک طرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان غیر معمولی فیصلہ ہے اور پھر اس میں پانچ روز کی توسیع بھی کر دی گئی ہے۔ اس بارے میں وزیرستان سے قبائلی رہنماؤں نے بات کرنے سے انکار کیا ہے تاہم ان کا یہ کہنا تھا کہ جب کوئی حتمی بات ہو گی تو پھر اس کا اعلان کیا جائے گا۔

طالبان، ٹی ٹی پی

ایک قبائلی رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ ماہ رمضان شروع ہونے سے پہلے ٹی ٹی پی کے لوگوں سے مذاکرات ہوئے تھے اور اس میں پیش رفت کے امکان بھی سامنے آئے تھے تاہم اب آئندہ مذاکرات کے لیے کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔

سینیئر صحافی صفدر داوڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی اطلاع کے مطابق ان دنوں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں اور پاکستان کی طرف سے ایک وفد کابل پہنچا ہے، تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ایک اطلاع یہ ہے کہ اس وفد میں قبائلی رہنما، علماء اور دیگر لوگ شامل ہیں۔

اس بارے میں امارت اسلامی افغانستان کے ایک ترجمان بلال کریمی سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا جبکہ کالعدم تنظیم کے ترجمان محمد خراسانی کو اس بارے میں میسج بھیجا گیا ہے لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔

صفدر داوڑ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایک وفد امارت اسلامی افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور ٹی ٹی پی کے رہنماؤں سے دو بدو ملاقات کرے گا۔ اس ملاقات میں مذاکرات کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔

ادھر وزیرستان سے مقامی لوگوں نے بتایا کہ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے قبائلی رہنماؤں کے علیحدہ علیحدہ وفد اپنے طور پر قبائلی طور طریقوں کے مطابق ٹی ٹی پی کے لوگوں سے رابطے کر رہے ہیں تاکہ علاقے میں امن کے قیام کے لیے مستقل اقدامات کیے جا سکیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ان وفود نے حالیہ ایک سے ڈیڑھ ماہ میں افغانستان میں ٹی ٹی پی کے لوگوں سے رابطے کیے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ تمام قبائلی علاقوں کے رہنماؤں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں مقامی طور پر ٹی ٹی پی کے ساتھ رابطے کر کے مذاکرات کے لیے کوششیں کریں تاکہ امن کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس بارے میں اب تک سرکاری سطح پر کچھ نہیں بتایا گیا کہ آیا ان قبائلی رہنماؤں کو حکومت کی حمایت حاصل ہے۔

کیا مسلم خان اور محمود خان کو رہا کر دیا گیا ہے؟

ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات میں بنیادی مطالبہ قیدیوں کی رہائی کا تھا اور ان میں طالبان کے اہم رہنما مسلم خان اور محمود خان شامل تھے۔ مذاکرات کے سابق دور میں بھی ان قیدیوں کی رہائی بنیادی مسئلہ بنا رہا۔ اب ایسی اطلاعات ہیں کہ مسلم خان اور محمود خان کو رہا کر دیا گیا ہے لیکن اب تک وہ سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں۔

طالبان، ٹی ٹی پی

ٹی ٹی پی کے قائدین کا مطالبہ رہا ہے کہ انھیں افغانستان میں ان کے حوالے کر دیا جائے لیکن حکومت انھیں رہا کر کے یہاں اپنی تحویل میں رکھنا چاہتی ہے۔

اس بارے میں سینیئر صحافی مشتاق یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایک اطلاع یہ ہے کہ مسلم خان اور محمود خان کو افغان طالبان کے حوالے کیا گیا ہے جو پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ دونوں قیدی تاحال ادھر حکومت پاکستان کی تحویل میں ہیں اور مذاکرات کی کامیابی کے بعد انھیں افغان طالبان کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ سرکاری سطح پر اس بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی جا رہی۔

یہ بھی پڑھیے

ٹی ٹی پی سے مذاکرات: ’افغان طالبان سے زیادہ امید نہیں رکھی جا سکتی‘

تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ’حملوں میں اضافہ‘، حقیقت کیا ہے؟

حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات کا مستقبل کیا ہے

پاکستانی شہروں میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات افغانستان میں ٹی ٹی پی پر پُراسرار حملوں کا ردعمل ہیں؟

اس کے علاوہ طالبان کی جانب سے کوئی 102 قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا جن کی رہائی کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ جنوبی وزیرستان سے ایک قبائلی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان میں سے بیشتر قیدی رہا کر دیے گئے تھے۔

طالبان کی جانب سے صرف قیدیوں کی رہائی کے مطالبے پر ہی نہیں بلکہ دیگر مطالبات پر بھی سخت مؤقف سامنے آیا ہے۔

وزیرستان سے ذرائع نے بتایا ہے کہ طالبان کی جانب سے جو مطالبات کیے جا رہے ہیں ان میں ایک تو قبائلی علاقوں کی سابقہ حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ ہے۔

برطانوی دور کے نظام کے تحت قبائلی علاقے صوبائی دائرہ کار میں آنے کے بجائے براہِ راست وفاق کے زیرِ انتظام ہوتے تھے۔

طالبان، ٹی ٹی پی

مسلم لیگ (ن) کے گذشتہ دورِ حکومت میں آئین میں 25 ویں ترمیم کے بعد قبائلی علاقوں کو اضلاع کا درجہ دے کر انھیں صوبہ خیبر پختونخوا کے ماتحت کر دیا گیا تھا۔ مگر اب مبینہ طور پر طالبان چاہتے ہیں کہ ان اضلاع کا خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام ختم کر کے انھیں ایک مرتبہ پھر وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کا درجہ دیا جائے۔

ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ ان علاقوں میں طالبان اپنے لیے مکمل آزادی چاہتے ہیں۔

یہ سلسلہ کب سے جاری ہے؟

حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ فروری 2021 سے شروع ہو گیا تھا اور اس میں اہم کردار افغان طالبان ہی ادا کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ اس کا آغاز بنیادی طور پاکستان کے قبائلی علاقوں کے کچھ اہم قبائلی رہنماؤں نے کیا تھا اور پھر افغان طالبان کو اس میں شامل کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال 25 اکتوبر کو طالبان اور حکومتی حمایت یافتہ عہدیداروں کی اہم ملاقات ہوئی تھی جس میں طالبان نے 102 قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا جن میں پانچ قیدی انتہائی اہم تھے۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان نے کچھ قیدی رہا بھی کیے تھے لیکن ان میں سے تین قیدیوں کو پاکستان نے پشاور میں رکھنے کا کہا لیکن طالبان قیدیوں کو افغانستان منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

قبائلی رہنماؤں کی کوشش ہے کہ علاقے میں امن قائم ہو اور اس لیے جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان کے اُن اہم رہنماؤں نے کوششیں شروع کی ہیں جو ٹی ٹی پی کے قائدین اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

طالبان، ٹی ٹی پی

طالبان اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں

اس سال کے پہلے چار ماہ میں جہاں حکومت کے جانب سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں وہاں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے سے بھی متعدد حملے ہوئے ہیں۔

ان حملوں کے دعوے سوشل میڈیا پر باقاعدہ پیغامات کی شکل میں جاری کیے جاتے رہے ہیں۔

تنظیم نے اپریل کے مہینے میں 54 اور مارچ کے مہینے میں 39 حملوں کے دعوے کیے تھے جن میں متعدد سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

سرکاری سطح پر بھی طالبان کے خلاف آپریشنز کیے گئے جن میں شدت پسندوں کی ہلاکت اور گرفتاریوں کا دعویٰ کیا گیا۔

طالبان کی جانب سے شمالی وزیرستان جنوبی وزیرستان، پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں سب سے زیادہ حملے کیے گئے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24072 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments