سوچ اور نقطہ نظر کا اختلاف اکثر بندے کو دوسرے سے دور کر دیتا ہے۔ ہم خیال ہونا ایک نظریے سوچ فرقے یا گروہ میں زیادہ تر اختلاف کی نوعیت بدل جاتی ہے بلکہ غلط بات اور عمل بھی درست یا قابل اعتراض نہیں لگتا ہے۔

سماج میں مذہب اور سیاست کی بنیاد پر اختلاف رائے کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن اس پر اصرار شدت پسند جذبات کے اظہار کی صورت سامنے آ جاتا ہے۔ انسانی فطرت میں ایسا ہوتا ہے کہ مخالف پر غصہ آ جاتا ہے صرف تحمل اور برداشت اس صورتحال پر قابو پانے میں مدد دیتی ہے۔ ناکامی کی صورت میں سب کچھ بے ترتیب اور کنٹرول سے باہر ہوجاتا ہے۔

دوست بھائی رشتہ دار ساتھ کام کرنے والے ایک دوسرے کو بالکل برداشت نہیں کرتے۔ حالات کی تلخی کو نظرانداز یا دوسرے کے جذبات کو درگزر کر کے کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جاسکتا ہے۔

لیکن سب سے بڑی خرابی اظہار کی آزادی کا استعمال ہے جس سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا مگر یہیں پر معاملات میں الجھاؤ اور پیچیدگی آجاتی ہے۔ فریقین میں اپنی بات منوانے اور اسے درست تسلیم کرانے کی جبلت دوسرے کے بارے میں عدم برداشت پیدا کر دیتی ہے۔

کسی کے بارے میں کچھ بھی رائے قائم کر لینے کا مطلب حتمی نتیجہ اخذ کرلینا ہے۔ یہاں پر تھوڑا سا معاملات بگاڑ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اختلاف ہونا الگ بات ہے کوئی رائے دینا مختلف ہے دونوں کا فرق نہ سمجھ پانے سے سماج میں تقسیم بڑھتی جا رہی ہے۔

ایک دوسرے کے قریب آنے کے لئے دو تین باتیں درکار ہوتی ہیں۔ مخالف کو برداشت کریں اس کے اختلافی نقطے یا کسی عیب کو نظرانداز کر لیں اسے زیادہ تنقید کے بجائے مثبت پہلو تلاش کر کے کوئی تعریف یا توصیف سے کام لے لیں۔ بہت زیادہ اختلاف سے محض ذاتی تسکین ہی شاید ہوتی ہے لیکن ذہن زیادہ انتشار کا شکار ہوجاتا ہے۔ نفرت اور حقارت کے جذبات غالب آ جاتے ہیں۔ ایک دوسرے سے دوری کا نتیجہ تقسیم کا عمل تیز ہونا اور پھر کسی بات پر اتفاق کی سوچ شاید بہت پیچھے کہیں چلی جاتی ہے۔

تھوڑی سی توجہ کچھ صبر اور درگزر کا مظاہرہ کر کے غصے نفرت اور اختلاف کی اس بیہودہ صورتحال پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ذہن کو ایسی تمام الجھنوں سے آزاد بھی کیا جاسکتا ہے۔ اختلاف ضرور کریں لیکن بڑے تحمل سے کسی کا نقصان نہ کر دیں۔ پھر اپنا بھی بہت کچھ ہاتھ سے نکل جائے گا۔