پروفیسر مسز زینب مسعود صاحبہ کی وفات پر تعزیتی اجلاس


گورنمنٹ گریجوایٹ کالج برائے خواتین خانیوال کی پرنسپل میڈم زینب مسعود صاحبہ کی وفات پر کالج میں ایک تعزیتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا، جس میں اساتذہ کرام، نان گزٹیڈ سٹاف اور طالبات کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔

صبح اسمبلی کے بعد میڈم زینب مسعود صاحبہ کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کا آغاز ہوا۔ اساتذہ کرام اور طالبات نے ذوق و شوق سے قرآن خوانی کی۔

تعزیتی اجلاس کی صدارت پرنسپل مسز انجم آصف صاحبہ نے کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ کالج کے گزٹیڈ، نان گزٹیڈ سٹاف اور طالبات کی نمائندگی کرتے ہوئے صدر تقریب مسز انجم آصف صاحبہ نے میڈم زینب مسعود صاحبہ کو بہترین الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک آئیڈیل مسلمان اور انسان تھیں۔ صبر و شکر ان کا شیوہ تھا۔ وہ تحمل و برداشت کا پیکر تھیں۔ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بہترین انداز میں ادائیگی پر یقین رکھتی تھیں۔

ادارے اور طالبات کی فلاح و بہبود ان کی اولین ترجیح تھی۔ صبح اسمبلی کے وقت پہنچ جانا اور چھٹی کے بعد بھی شام تک کالج کے کاموں میں مصروف رہنا ان کا معمول تھا۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی ذات، اپنی اولاد، اپنے گھر پر ادارے کو ترجیح دی۔ انہوں نے اپنے اور اپنے بچوں کے معاملات اللہ رب العزت کے سپرد کیے ہوئے تھے اور اللہ کے فضل، ان کی نیک نیتی، خلوص و محبت، فرض شناسی اور طالبات کو اپنی اولاد کی طرح عزیز جاننے کی بدولت اللہ رب العزت نے انہیں انتہائی فرماں بردار، ذہین اور قابل اولاد سے نوازا۔ ماشاء اللہ ان کے سارے بچے اچھے عہدوں پر فائز ہیں۔

وہ ایک سخی اور کھلے دل کی مالک خاتون تھیں۔ ضرورت مند طالبات اور کالج ملازمین کی ہمیشہ مدد کرتی تھیں۔ کالج فنڈ سے فیس معافی ممکن نہ ہوتی تو بڑی خاموشی سے اپنی جیب سے ادا کر دیتیں۔ انہوں نے کبھی کسی کی مدد سے انکار نہیں کیا۔ نئے داخلے کے ساتھ ہی ہر سال ضرورت مند طالبات کے لیے یونیفارم اور جرسیوں کا انتظام کرتیں۔

پرنسپل مسز انجم آصف صاحبہ نے اعلان کیا کہ ان کے کار خیر کو جاری رکھنے کے لیے۔ ”پروفیسر زینب مسعود ٹرسٹ“ کے تحت ضرورت مند طالبات کی مدد کا سلسلہ جاری رہے گا۔ جس میں اساتذہ اور طالبات اپنی گنجائش کے مطابق اور خوشی سے روزانہ، ماہانہ یا سالانہ بنیادوں پر فنڈ جمع کروائیں گے جو مستحق ذہین طالبات پر خرچ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دوست زینب مسعود ایک نیک اور جنتی روح تھی تاہم صدقہ جاریہ کے لیے انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ان کے ایصال ثواب کے لیے پندرہ دن تک دار القرآن میں قرآن خوانی ہوتی رہے گی۔ اساتذہ اور طالبات فارغ وقت میں دار القرآن میں جا کر قرآن خوانی کرتے رہیں گے۔

اس کے بعد قاریہ سعیدہ صاحبہ نے میڈم زینب مسعود صاحبہ اور تمام مرحومین مسلمین و مسلمات کی بخشش کی انتہائی خشوع و خضوع سے اور رقت آمیز انداز میں دعا کروائی۔ دعا کے ساتھ تعزیتی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

خاک پر خاک کی ڈھیریاں رہ گئیں
آدمی اٹھ گئے، نیکیاں رہ گئیں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

رضیہ رحمان کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments