انڈیا میں لال قلعہ کی کہانی: قلعہ مبارک کیسے لال قلعہ بن گیا؟

وقار مصطفیٰ - صحافی و محقق، لاہور


لال قلعہ، دلی
قلعہ مبارک (لال قلعہ) کی تعمیر کا آغاز 13 مئی 1638 کو ہوا اور اسے مکمل ہونے میں 9 سال، 2 ماہ اور کچھ دن لگے۔ قلعے کی تعمیر کی تعمیر پر 60 لاکھ روپے لاگت آئی
لال قلعہ اصل میں کچھ ایسا لال بھی نہیں تھا اور نہ اس کا یہ نام تھا۔

پانچویں مغل شہنشاہ شاہ جہاں کشمیر سے دکن تک اور شمال مغربی سرحدی صوبوں سے بنگال تک وسیع علاقوں کے حکمران تھے۔ انھوں نے 1638 میں اقتدار کے 10 سال بعد اپنا دارالحکومت آگرے سے دلی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

حکومتی مرکز دلی بنا تواس کے شایان شاں عمارات تو بننا ہی تھیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے معمار اعلیٰ استاد احمد لاہوری تاج محل بناتے ہوئے اپنی مہارت دکھا چکے تھے سو انھی کو دلی میں شاہی تعمیرات ڈیزائن کرنے کا کام سونپا گیا۔ استاد حمید ان کے ساتھی تھے۔ جمنا دریا کے کنارے قلعے میں ان تعمیرات کو ایک نام دیا گیا قلعہ مبارک۔

سرخ اور سفید رنگ شاہ جہاں کو پسند تھے۔ سرخ ریت کا پتھر شاہ جہاں کے دادا، اکبر نے فتح پور سیکری میں اپنے دارالحکومت کے لیے منتخب اور آگرے میں مغل قلعہ محل کی تعمیر میں استعمال کیا تھا۔ تاج محل تب ابھی سنگ مرمر یعنی سفید پتھر سے بن رہا تھا۔

دلی میں شاہی خاندان کے تین صدیوں تک سرکاری رہائش گاہ رہنے والے قلعہ مبارک کی بلند و بالا دیواریں بھی سرخ پتھر سے بنیں مگر شاہی محلوں کے لیے سنگ مرمر کا وسیع استعمال کیا گیا۔

دیواروں کے اسی رنگ کی وجہ سے انگریزوں نے اسے ریڈ فورٹ کہا تو مقامی لوگوں نے ترجمہ کرتے ہوئے اس لال قلعہ پکارنا شروع کر دیا۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے مطابق عمارت کے کچھ حصے چونے کے پتھر سے بنے تھے۔ جب سفید پتھر گرنے لگا تو انگریزوں نے اس عمارت کو سرخ رنگ کر دیا۔

عنایت خان کی کتاب ’شاہ جہاں نامہ‘ کے مطابق قلعے کی تعمیر کا آغاز جمعہ، 9 محرم (یعنی 13 مئی 1638) کو ہوا۔ اسے مکمل ہونے میں 9 سال، 2 ماہ اور کچھ دن لگے اور 60 لاکھ روپے لاگت آئی۔

لال قلعہ، دلی

قلعے کی سرخ پھتر سے بنی دیواروں کی وجہ سے انگریزوں نے اسے ریڈ فورٹ کہا تو مقامی لوگوں نے ترجمہ کرتے ہوئے اس لال قلعہ پکارنا شروع کر دیا

ناصر نذیر فراق دہلوی شاہ جہاں آباد (اب پرانی دلی) کی تعمیر کے عمل کے بارے میں لکھتے ہیں:

’لال قلعہ اور اس کی اندرونی عمارتوں، اور جامع مسجد اور نئے شہر کے نقشے بنوائے گئے۔ شہنشاہ نقشوں میں بذات خاص اصلاح دیتے تھے۔ میر عمارت نے ہر مکان، ہر محل کی لاگت کا تخمینہ تیار کیا اور ملکوں ملکوں سے سنگ مرمر، سنگ سرخ، سنگ سیاہ، سنگ باسی اور ہزار ہزار قسم کا مسالا اور سامان آنے لگا۔

’میر عمارت نے چنیا اینٹ کا پیمانہ ایک ٹھیکے دار کو دے کر کہا، ایسی اینٹ تیار کرو، مگر اینٹ کچی نہ رہے۔ لاکھوری ہو۔ بادشاہی کام ہے، دھیان سے کرنا۔ ٹھیکے دار نے کہا پیشگی نقد دلوائیے۔ میر عمارت نے لاکھ روپیہ کی چٹھی لکھ دی۔

’خزانے سے فوراً روپیہ پٹ گیا اور ٹھیکے دار کام میں مشغول ہو گیا۔ کچھ مدت بعد میر عمارت کے پاس ٹھیکے دار بسورتا ہوا آیا، اور کہنے لگا، میں تو برباد ہو گیا۔ پزادوں (بھٹوں) کی آنچ تیز ہو گئی۔ اینٹوں کا کھنگر بن کر رہ گیا۔

’میر عمارت نے قلم اٹھا کر ایک عرضی لکھ کر بادشاہ کے حضور میں بھیجی کہ لال قلعہ اور جو شاہی عمارتیں دریا کے کنارے بنائی جائیں گی، ان کی بنیادوں میں بجائے سنگ خارہ کے کھنگر بھرا جائے گا۔ کیونکہ کھنگر پانی کو خوب جذب کرتا ہے، اور بنیاد مضبوط رہتی ہے اور بنیاد کی مضبوطی کے ساتھ اوپر کی عمارت کا مضبوط ہونا شرط ہے۔ کھنگر کا نمونہ ملاحظہ کے لیے بھیجتا ہوں۔ لاگت اس پر دوگنی آتی ہے۔ منظوری دی جائے۔

’جواب آیا کہ کھنگر کا بنوانا مناسب ہے۔ دوگنی لاگت منظورما بدولت ہے۔ میر عمارت نے کہا ٹھیکے دار! ایک لاکھ پہلے کھنگر کے نقصان کا لو اور اب لاکھ کے بدلے دو لاکھ لیتے رہو، اور نرا کھنگر پکاتے رہو۔ میر عمارت کی یہ عنایت اور بادشاہ کی یہ پرورش دیکھ کر ٹھیکے دار خوش ہو گیا اور دل سے کام کرنے لگا۔

’جب لال قلعہ کی نیو [بنیاد] رکھنے لگے تو بڑے بڑے لوہے کے کڑھاؤ اور تانبہ کی ناندوں میں چربی کھولائی جاتی تھی اور پھلکیوں کی طرح اس میں کوری اینٹیں ڈالی جاتی تھیں اور اینٹیں جب خوب چربی پی لیتی تھیں تو نکال کر ٹھنڈی کی جاتی تھیں اور گچ کے ساتھ بنیاد میں رکھی جاتی تھیں۔ گچ میں سفیدی، نارنول کے پتھر، ماش کا آٹا، مردار سنگ، گوڑ، السی کا تیل، سن مقرض ڈال کر بیل گری کا پانی چھان کر دیا جاتا تھا۔ یہ ادنیٰ قسم کا مسالا تھا اور بڑھیا مسالوں کی تفصیل کے لیے دفتر درکار ہیں۔

’سفیدی جو درو دیوار پر لگا کر مہرہ کی جاتی تھی وہ احمد آباد، گجرات کے پہاڑ کی کان سے آتی تھی۔ اس سفیدی کا یہ خاصہ تھا کہ جب اس کی گھوٹائی کی جاتی تھی تو بلا مبالغہ چمک دمک میں حلبی آئینہ بن جاتی تھی اور اس کے اندر آنکھوں کا سرمہ دکھائی دیتا تھا۔ دو سو برس تک آبدار رہتی تھی۔

’لال قلعہ اور اس کے اندرونی مکان، قصر و ایوان بن رہے تھے۔ تخت طاؤس کے لیے جواہر تراشے جاتے تھے۔ جنگل میں منگل تھا۔ ہزاروں مزدور، معمار، کاریگر خیموں میں، چھولداریوں میں، جھونپڑیوں میں پڑے تھے۔ دور دور کے پہاڑوں سے چھکڑوں میں پتھر لدے چلے آتے تھے۔ ایک چھکڑے میں سو سو پچاس پچاس بیل جوتے جاتے تھے۔ سنگ تراشوں کی چھینیوں اور ٹانکیوں کی دھڑا دھڑ سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ ہر سو قدم کے فاصلے پر ایک خیمہ خزانہ کا برپا تھا۔ ایک ہندو خزانچی اور تین محرر۔ دس سپاہی روپے کی حفاظت کے لیے حاضر رہتے تھے۔

’روپیہ، اٹھنیاں، چونیاں، دونیاں، پیسے اور کوڑیاں رکھی رہتی تھیں۔ کام امانی میں زیادہ اور ٹھیکہ میں کم ہوتا تھا۔ شام کے چار بجے روزانہ چٹھ بٹ جاتا تھا۔ غریبوں کا پیسہ واجب الادا مل جاتا تھا۔

لال قلعہ کے لاہوری دروازہ سے شہر کے فرضی لاہوری دروازہ تک بازار لگا دیا گیا جس میں جو، گیہوں، جوار، باجرہ کے آٹے سے لے کر قسم قسم کی جنس، کپڑا، ترکاری، کابل و کشمیر کے میوے تک ملتے تھے تاکہ غیر ملکوں کے کاریگر اپنا دیس چھوڑ کر پردیسی بنے ہیں، وہ تکلیف نہ پائیں اور اپنے وطن کی اشیاء اور غذا اُنھیں میسر ہو۔

’شہر کا نقشہ بنا کر اس کے حصہ حصہ کر دیے گئے اور شاہجہاں نے ان حصوں کو اپنی اولاد پر بانٹ دیا تھا اور فرما دیا تھا کہ لاگت سب خزانہ سے ملے گی، اپنے اپنے حصہ میں عمدہ عمدہ مکانات اورمحل بنوا لو تاکہ نیا شہر اچھی اچھی عمارتوں سے آراستہ ہو کر آبادی کی صورت پکڑے۔

’چنانچہ دکن کا حصہ اورنگ زیب کے اہتمام سے زیبائش پانے لگا۔ کشمیری دروازہ کے قطع کو دارا شکوہ نے فلک شکوہ قصر و ایوان سے سنوارا۔ چاندنی چوک کے ٹکڑے کو جہاں آرا بیگم کے غلام نے جو ناتواں تخلص کرتا، باغ اور گلشن اور حماموں سے رشک فردوس بنایا۔ نٹوں کا کوچہ اسی ناتواں کی یادگار ہے۔

دہلی مسجد

شاہی مسجد کا انجنئیر جب مسجد کی بنیادیں بنانے کے بعد تین سال کے لیے غائب کیوں ہو گیا

’جامع مسجد کی تعمیر نواب سعد اللہ خاں وزیر کو سپرد تھی اور اس کی نیویں بھری گئی تھیں، جو وہ انجینیئر جس کی سپردگی میں جامع مسجد کا نقشہ تھا یکا یک مع نقشے کے غائب ہو گیا اور مسجد کی تعمیر کا کام اینڈ ہو کر رہ گیا۔ تین سال بعد وہ یکایک دربار شاہی میں حاضر ہو گیا۔ حضور والا نے فرمایا، ’کمبخت یہ حرکت کیا تھی؟‘

اس نے ہاتھ باندھ کر کہا جامع مسجد کی عمارت بہت بھاری ہو گی۔ نئی بنیاد پر ایسی اونچی عمارت کا لے جانا خطرہ سے خالی نہ تھا۔ برسات کا پانی نیو میں مرتا اور اس کے درو دیوار نیچے کھسکتے اور ڈاٹیں، کمانیں، محرابیں، جھک جاتیں۔ سرکار کے لاکھوں روپے پر پانی پھر جاتا اور میری آبرو کے ساتھ ساتھ جان بھی جاتی۔ نیک نیتی اور مصلحت سے فدوی روپوش ہو گیا تھا۔ تین برساتیں کھا کر نیو لوہا لاٹ ہو گئی ہے۔ اب جو کچھ عمارت کھڑی ہو گی، صدیوں تک کھڑی رہے گی۔ حضور کو اختیار ہے کہ فدوی کی جاں بخشی ہو یا سزا دی جائے۔

’بادشاہ نے اس کی خطا معاف فرمائی اور خلعت سے سرفراز کیا اور جامع مسجد تیار ہونے لگی۔‘

بہر حال جامع مسجد، لال قلعہ اور شہر بن گئے۔

عنایت خان لکھتے ہیں کہ ماہرین علمِ نجوم کے مشورہ سے، 24 ربیع الاول (18 اپریل 1648) کو شہنشاہ کے نئے قلعے میں منتقل ہونے کے لیے مبارک تاریخ کے طور پر منتخب کیا گیا۔

ڈاکٹر بنارسی پرشاد شرما کے مطابق 8 اپریل 1648 کو شہنشاہ کے تلا دان (زر و جواہرمیں تولے جانے کی) کی قمری تاریخ تھی اور اِسی کے پیش نظر نئے محل کی رسم افتتاح بھی ادا کی گئی۔

رعنا صفوی بتاتی ہیں کہ ’تقریب ایک مثال ثابت ہوئی۔ مہمانوں کے لیے سونا، چاندی اور جواہرات سے لدے خیمے تیار کیے گئے جن میں زربفت، پشمینہ، اطلس اور کمخواب کے پردے لگائے گئے۔ ایران سے خاص قسم کے قالین بھی منگوائے گئے۔ شاہ جہاں کے لیے تخت طاؤس بنایا گیا جس کو دیوان خاص میں جگہ ملی۔‘

فراق دہلوی نے اس کی تفصیل یوں بتائی ہے: ’حضور والا نے دیوان خاص میں تخت طاؤس پر جلوہ افروز ہوکر جشن ماہتابی منایا اور ایک فرمان جاری فرمایا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ شاہ جہاں آباد میں ترکاری فروش، گوشت فروش، میوہ فروش، پارچہ فروش، کسیرہ، گندی، تانبے کے برتن فروش، موچی، مٹی کے مٹکے، ٹھلیاں، صراحیاں، بیچنے والے، اوپلا ایندھن بیچنے والے، سادہ کار، چاندی سونے کے زیور بیچنے والے، حلوائی، بساطی، اپنے اپنے سامان لے کر گلی گلی، کوچہ کوچہ، محلہ محلہ پھریں اور اپنی اپنی جنس کا نام لے کر آواز لگائیں تاکہ گھر بیٹھے اہل حاجت کی ضرورت رفع ہو جائے۔ کوتوالی کے برق انداز لوگوں کے ساتھ رہیں اور شہر میں گشت کروائیں تاکہ گاہک اور سودا بیچنے والے اس طور کے لین دین کے عادی ہوجائیں اور بیچنے والوں کو نفع اور مول لینے والوں کو بازار جانا نہ پڑے، اور ہر قسم کی چیزیں اپنے دروازہ پر لے لیں۔‘

شہر سے چلتے ہیں لال قلعہ کی جانب، محمد مجیب کے ساتھ۔ ان کا کہنا ہے: لال قلعے کو دیکھ کر بالکل یقین نہیں آتا کہ یہ قلعہ ہے۔ اس میں کچھ بھی ہیبت ناک اور بدنما نہیں ہے۔ اونچی فصیل اور کھائی تو واقعی حفاظت کر سکتی تھیں لیکن قلعے کا دروازہ دیکھو تو معلوم ہوتا ہے جیسے وفادار رعایا کو دعوت دے رہا ہے آؤ اور اپنے بادشاہ کے سامنے ادب آداب بجا لاؤ ۔

جہانگیر شراب کے شوقین تھے

’لوگ دروازے میں داخل ہوکر غلام گردشوں میں سے ہوتے ہوئے نوبت خانے کی طرف جاتے تھے۔ وہاں دن یا رات کا وقت بتانے کے لیے نوبت بجائی جاتی تھی۔ اگر دربار عام ہو رہا ہوتا تو ان کو سپاہیوں کی قطاروں کے درمیان سے گزار کر دیوان عام میں لے جایا جاتا تھا۔

’دیوان عام وسیع ہے۔ اس میں بہت سے ستون ہیں اور اس کی چھت خوبصورت چوڑی چوڑی محرابوں پر قائم ہے، جن میں غضب کی مناسبت ہے۔ دیوان عام میں شہنشاہ بالکنی (شہ نشین) میں بیٹھتے تھے جس میں جانے کا راستہ پیچھے کے رخ محل سرا میں سے تھا۔

’شہ نشین کے نیچے وزیر اتنے اونچے پایے پر کھڑا ہوتا تھا کہ ہاتھ بڑھا کر شہنشاہ سے دستاویزات لے دے سکے۔ شہ نشین کے نیچے دونوں طرف بالکل اپنے اپنے رتبے کے مطابق ہاتھ باندھے ہوئےامرا کھڑے ہوتے تھے۔ دربار کے ختم ہونے تک وہ چپ چاپ اکڑ کر بغیر کوئی حرکت کیے کھڑے رہتے تھے۔

’یہ دربار دن کا دوسرا دربار ہوتا تھا۔ پہلا یا بے تکلف دربار جسے درشن (دیدار) کہتے تھے، وہ طلوع آفتاب کے وقت ہوتا تھا۔ شہنشاہ محل کے پیچھے کی طرف جدھر دریا بہتا تھا، بالکنی میں جلوہ افروز ہوتے۔ جو کوئی بھی اُنھیں دیکھنا چاہتا وہاں جا کر دیکھ سکتا تھا۔ دلی کے کچھ خاندان ایسے تھے جو شہنشاہ کو دیکھے بغیر ناشتا نہیں کرتے تھے۔

’اگر کسی کو کوئی شکایت ہوتی یا کوئی درخواست لگانا ہوتی تو وہ بھی اس وقت حاضر ہو سکتا تھا اور براہ راست اپنے کاغذات پیش کر سکتا تھا۔ یہ بات بہت ہولناک ہوتی تھی کہ شہنشاہ کسی دن درشن نہ دیں، لوگ عام طور پر ڈرتے، دعائیں مانگتے کہ خیر ہو اور شہنشاہ کی عمر دراز۔

’دربار عام کے بعد عام طور پر ایک اور جلسہ ہوتا تھا۔ یہ سب سے اہم ہوتا تھا اور شہنشاہ کے تازہ دم ہونے کے بعد شاہی حمام میں کیا جاتا تھا۔ شاہی حمام کے اندر نہر جاری تھی، چھوٹے چھوٹے فوارے چھوٹتے تھے جن میں سے خوشبودار پانی کی پھواریں پڑتی رہتی تھیں۔

’محل کا وہ حصہ جس کی شاہانہ شان سے دیکھنے والے پر رعب پڑے، وہ دیوان خاص تھا۔ وہاں شام کو جلسے ہوتے تھے، شمعیں روشن کی جاتی تھیں اور شہنشاہ اور اہل دربار اپنے پورے درباری لباس میں شریک ہوتے تھے۔ یہ ہال سنگ مرمر کا بنا ہے۔ اس کی چھت میں بہت دیدہ ریزی سے نقاشی کی گئی ہے اور اس میں لکھا ہوا ہے: اگر فردوس برروئے زمیں است، ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است۔ یعنی اگر دنیا میں کہیں جنت ہے تو وہ یہیں ہے۔ اسی ہال میں تخت طاؤس بچھا رہتا تھا جو جوہریوں کی کاریگری کا حیرت انگیز نمونہ تھا۔ ریاست کے معاملات کو نمٹانے کے بعد، شاہ جہاں خاص محل میں چلے جاتے۔‘

قلعہ شاہی رہائش گاہ اور سرکاری صدرمقام دونوں کے طور پر کام آتا تھا۔ اس میں تقریباً 3,000 افراد کی رہائش تھی۔ یہ قلعہ فارسی، تیموری اور ہندوستانی عناصر کا امتزاج ہے اور اسلامی نمونوں پر مبنی ہے۔ دیواریں دو کلومیٹر سے زیادہ پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کی اونچائی دریا پر 16 میٹر سے شہر کی طرف 36 میٹر تک ہے۔

ڈاکٹر بنارسی پرشاد شرما لکھتے ہیں کہ ہر ظاہری شکل و صورت سے محسوس ہوتا تھا کہ ایک نیا عہد پیدا ہوا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دلی کبھی کسی سلطنت کو راس نہیں آئی۔ توہم پرستوں کے نزدیک دارالسلطنت کی تبدیلی مغلیہ سلطنت کے زوال کا پہلا قدم تھا۔ شاہ جہاں کو اس قلعے میں رہنا کم ہی نصیب ہوا۔

سنہ 1739 میں فارسی جنگجو نادر شاہ، کوہ نور ہیرے سمیت شہر کی زیادہ تر دولت اور زرو جواہرسے مزین تخت طاؤس لے گئے۔ بعد کے زمانے میں قلعے کو روہیلا افغانوں، مرہٹوں، جاٹوں اور بالآخر ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ مرہٹوں نے احمد شاہ درانی کی فوجوں سے دلی کے دفاع کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے دیوان خاص کی چاندی کی چھت کو ہٹا کر پگھلا دیا۔ جاٹوں نے مغلوں کا غرور کہلانے والے تخت اور لال قلعہ کے دروازے یادگار کے طور پر چھین لیے۔

شاہد احمد دہلوی کی بات ان کی تائید میں ہے۔ وہ لکھتے ہیں :یوں تو اورنگزیب کے بعد ہی مغلیہ سلطنت میں انحطاط کے آثار پیدا ہو چکے تھے لیکن ان کے بعد تو وہ افراتفری پھیلی کہ بادشاہ صرف نام کے بادشاہ رہ گئے۔ محمد شاہ رنگیلے ’پیا‘ کہلائے۔

یہ بھی پڑھیے

نادر شاہ: فارس کا بادشاہ جس نے مغلیہ سلطنت کے اختتام اور انگریز راج کی بنیاد رکھی

بادشاہ اورنگزیب اور ان کے بارے میں پھیلی ’غلط فہمیاں‘

’بادشاہ کو دوم ڈھاڑیوں نے باور کروا دیا تھا کہ آدمی تیر تلوار کا مارا بھی مرتا ہے اور تان تلوار کا بھی۔ لہٰذا ایک فوج گویوں کی بھی تیار کر لی گئی تھی۔ ان رنگ رلیوں میں تلواریں لہو چاٹنا بھول گئیں اور نیاموں میں پڑے پڑے سو گئیں۔

’نادر شاہ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور قہروغضب کی آندھی بن کر دلی کی طرف جھپٹا۔ پرچہ لگا کہ نادر شاہ دلی کے قریب آ پہنچا۔ گویوں کی فوج مقابلے کے لیے بھیج دی گئی۔

’نادر شاہ کے جانگلو ان فوجیوں کی بغلوں میں بڑے بڑے طنبورے دیکھ کر پہلے تو ڈرے کہ خدا جانے یہ کیا ہتھیار ہے مگر جب جاسوسوں نے بھانڈا پھوڑا کہ یہ ہتھیار نہیں، ایک ساز ہے، تو دم کے دم میں اُنھوں نے محمد شاہی فوج کو کھیرے ککڑی کی طرح کاٹ کر ڈال دیا۔ نادر شاہ نے دھڑی دھڑی کر کے دلی کو لوٹا۔

’نادر شاہ لوٹ لاٹ ک بل چلا گیا، اور اپنے ساتھ شاہ جہانی تخت طاؤس بھی لے گیا۔ شاہ عالم ثانی کی آنکھیں روہیلے نے نکالیں۔ ان کے درباریوں نے اُنھیں یقین دلایا کہ حضور والا بیٹھے بیٹھے ایک دم سے غائب ہو جایا کرتے ہیں۔ جب چاہتے ہیں دلی سے مکہ مدینہ پہنچ جاتے ہیں۔ بادشاہ سلامت بھی یہ سمجھنے لگے کہ واقعی میں مجھ میں یہ کرامت سما گئی ہے۔ پیری مریدی کرنے لگے اور مریدوں کے وظائف مقرر ہونے لگے۔ حکومت تباہ اور خزانے ویران ہو گئے۔ مثل مشہور ہوئی کہ ’سلطنت شاہ عالم از دہلی تا پالم۔‘ یعنی صرف چند میل کی بادشاہت رہ گئی۔

’اکبر شاہ ثانی جاٹوں کے حملے سے ایسے ناچار ہوئے کہ انگریزوں کے وظیفہ خوار ہو گئے۔ باسٹھ سال کی عمر میں بہادر شاہ کو تخت نصیب ہوا تو مغلوں کا جلال رخصت ہو رہا تھا۔ بہادر شاہ کہنے کو تو بادشاہ تھے لیکن بالکل بے دست و پا تھے۔ فرنگی سرکار کے نمک خوار تھے۔ اُنھیں اس شرط پر ایک لاکھ روپیہ ماہانہ دیا جاتا تھا کہ ان کے بعد دلی کی شاہی ختم ہو جائے گی اور دلی بھی انگریزی عملداری میں شامل ہو جائےگی۔ لال (قلعے) کے باہر بادشاہ کا حکم نہیں چلتا تھا۔‘

سید ضمیر حسن کا کہنا ہے کہ اورنگ زیب کے جانشینوں میں ایک بھی اس لائق نہ تھا کہ حکومت کی باگ ڈور سنبھال لیتا۔ محمد شاہ رنگیلے ایک دن اپنے احباب کے ساتھ محفل ناؤنوش برپا کیے بیٹھے تھے۔ جھروکوں سے اُدھر جمنا بہہ رہی تھی، مگر اب اس کے پاٹ میں کمی آ گئی تھی اور پانی قلعہ کی دیواروں سے دور ہٹ گیا تھا۔ بادشاہ نے سوال کیا، آخر یہ جمنا قلعے سے دور کیوں ہوتی جا رہی ہے۔ کسی اللہ کے بندے نے کہہ دیا کہ حضور قلعے میں گناہ زیادہ ہو رہے ہیں۔ اس لیے پانی دور بھاگ رہا ہے۔ بادشاہ نے ہنس کر جواب دیا، اچھا تو اب ہم جمنا کے اس طرف جا کر گناہ کیا کریں گے گا کہ جمنا پھر قلعے سے آن ملے۔

’دلّی کے قریب ایک آبادی شاہی زمانے میں روہیلوں کی تھی۔ وہاں کا ایک امرد غلام قادر نام کا تھا۔ شاہ عالم ثانی کی حکومت تھی۔ اس امرد پر بادشاہ کی نظر پڑی تو فریفتہ ہو گئے۔ اس کی نس کٹوا کر اسے اپنی معشوقی میں لے لیا، خدا کا کرنا یوں ہوا کہ وہ ایک دن وہاں سے نکل بھاگا اور پھر کچھ دن بعد دلّی پر اللہ کا عذاب بن کے نازل ہوا۔ اس نے شاہ عالم کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروائیں اسے اندھا کرکے اپنا کلیجہ ٹھنڈا کیا اور برہنہ کر کے اپنے روبرو ناچنے پر مجبور کیا۔‘

فراق دہلوی کا کہنا ہے کہ مغلیہ سلطنت گھٹتے گھٹتے اور سکڑتے سکڑتے لال قلعہ کی چار دیواری میں ٹھٹھر کر رہ گئی۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کی ہندوستان کی فتح کے بعد بہادر شاہ ظفر کی 1837 میں تاج پوشی کے وقت تک مغلیہ سلطنت دارالحکومت دلی کی حدود تک سکڑ چکی تھی۔

شاہد دہلوی کے مطابق ’جب 1857 میں غدر پڑا، جو در اصل پہلی جنگ آزادی تھی جو انگریزوں سے لڑی گئی، تو دیسی فوجیں چاروں طرف سے سمٹ کر دلی آنے لگیں اور زبردستی بوڑھے بادشاہ کو اپنا فرمانروا بنا کر فرنگیوں سے لڑنے لگیں، مگر اندر خانے تو دیمک لگی ہوئی تھی۔‘

’جب انگریزوں کی فوجیں دلّی پر چڑھ آئیں اور شہر کے بچنے کی کوئی امید نہ رہی تو بادشاہ لال قلعہ سے نکل کر ہمایوں کے مقبرے میں چلے گئے۔ دلی کو انگریزوں نے فتح کر لیا۔ رعایا تباہ ہو گئی۔ دلی کی اینٹ سے اینٹ بج گئی۔ بادشاہ کو لال قلعہ میں قید کر دیا گیا۔ ایک ایک کر کے شہزادوں کو گولی کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کی لاشیں خونیں دروازے پر لٹکا دی گئیں۔ بادشاہ زادیاں دلی کی ویران گلی کوچوں میں بھٹکتی پھریں۔ کوئی اُنھیں امان دینے پر تیار نہ تھا۔‘

’چاندنی چوک کے بازار میں پھانسیاں گڑی ہوئی تھیں اور جس کو انگریز کہہ دیتے کہ یہ قابلِ دار ہے، اسی کو پھانسی مل جاتی تھی۔ ہر روز سینکڑوں آدمی دار پر لٹکائے جاتے۔ گولیوں سے اڑائے جاتے اور تلوار سے ذبح ہوتے تھے۔ ہر طرف اس خون ریزی سے تہلکہ تھا۔

’بادشاہ پر لال قلعہ میں مقدمہ چلایا گیا اور اُنھیں قید کر کے رنگون بھیج دیا گیا۔ چار سال قید و بند میں رہ کر آخری مغل تاجدار نے دیار غیر میں انتقال کیا۔ لال حویلی کی کوکھ جل گئی۔‘

لال قلعہ کو برطانوی فوجیوں نے لوٹ لیا۔ سارا نیلسن نے لکھا ہے: لال قلعہ میں موجود زیادہ تر زیورات اور فن پارے نادر شاہ کے حملے کے دوران اور پھر 1857 کی ہندوستانی بغاوت کے بعد لوٹ لیے گئے تھے۔ بالآخر اُنھیں نجی جمع کرنے والوں یا برٹش میوزیم، برٹش لائبریری اور وکٹوریہ اور البرٹ میوزیم کو فروخت کر دیا گیا۔ مثال کے طور پر شاہ جہاں کا جیڈ وائن کپ اور بہادر شاہ دوم کا تاج سب اس وقت لندن میں موجود ہیں۔ واپسی کے لیے مختلف درخواستیں اب تک برطانوی حکومت کی طرف سے مسترد کر دی گئی ہیں۔

فوجی بیرکوں کے لیے راستہ بنانے کے لیے اس کے بہت سے اندرونی اپارٹمنٹس کو منہدم کر دیا گیا تھا۔ برطانوی قبضے کے دوران محل کے اندر موجود تمام ڈھانچے کا تقریباً دو تہائی حصہ غائب ہو گیا۔

محمد مجیب لکھتے ہیں: یہ ضروری سمجھا گیا کہ اسے فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا جائے۔ عمارتیں گرا دی گئیں، باغ باغیچے ختم کر دیے گئے تاکہ یہ جگہ واقعی فوجی چھاؤنی معلوم ہو۔

ممکن تھا کہ مکمل تعمیرات کو منہدم کر دیا جاتا لیکن رعنا صفوی لکھتی ہیں کہ لارڈ کیننگ نے ایسا نہ کرنے کا حکم دیا ۔ یوں لاہوری دروازہ ،چھتا بازار، نقار خانہ،دیوانِ عام اور دیوانِ خاص اوررنگ محل سمیت چار پانچ محل انگریزوں کی توڑ پھوڑسے بچ گئے۔ لال قلعہ میں ایک شاہ برج بھی موجود ہے جس میں سے نہر بہشت نکلتی ہے اور وہ نہر حمام تک جاتی ہے۔ حمام بند ہے۔

سلطانہ بیگم

عدالت نے سلطانہ بیگم لال قلعہ کی ملکیت کی درخواست کو ‘وقت کا سراسر ضیاع’ قرار دے کر خارج کردیا

سنہ 1911 میں شاہ جارج پنجم اور ملکہ کے دلی دربار کے دورے کی تیاری میں کچھ عمارتوں کو بحال کیا گیا۔ رواں سال کے شروع میں بھارت میں ایک عدالت نے ایک خاتون کی لال قلعہ کی ملکیت کی درخواست کو ‘وقت کا سراسر ضیاع’ قرار دے کر خارج کردیا ۔

لال قلعہ پر ملکیت کا دعویٰ کرنے والی سلطانہ بیگم کون ہیں؟

مغل خاندان کی وارث ہونے کی دعویدار یہ بے سہارا خاتون، سلطانہ بیگم، کولکتہ کی ایک بستی میں دو کمروں کے ایک چھوٹے سے کچے مکان میں رہتی ہیں۔ ان کی تھوڑی سے متاع میں مرزا محمد بیدار بخت سے ان کی شادی کا ریکارڈ بھی شامل ہے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہندوستان کے آخری مغل حکمران بہادر شاہ ظفر کے پڑپوتے ہیں۔ سنہ 1980 میں وفات پانے والے مرزا نجومی کے کام سے تھوڑے سے پیسے کماتے تھے اور اپنے خاندان کی کفالت سے قاصر تھے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24047 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments