مخولیہ اور خواہ مخواہ حکومت کی باہمی چپقلش: نتیجہ صفر!

حکومت مخولیہ تمام صورتحال کو مخول پرمبنی تصور کرتے ہوئے، اپنی دنیا میں مگن اور تفریح کے موڈ میں تھی۔ اسی لیے ماڈل ٹاو¿ن میں بیرون ملک مقیم جماعتی سربراہ کے استقبال کے لیے جمع ہونے والے عقیدت مندوں کے مشتعل ہونے پر ہلکے پھلکے لاٹھی چارج سے کارروائی کا آغاز کیا لیکن خلاف توقع معاملہ سنگین ہوگیا اور نتیجتاً 14 لوگ ہلاک ہوئے اور سو سے زائد زخمی! ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت اور اس کے وزیر معاملے کی سنگینی کا احساس کرتے اور صورتحال کو قابو میں کرتے لیکن سانحہ ماڈل ٹاون کے بعد بھی مخول کے ہی موڈ میں رہے۔ دونوں کزنز نے تحریک چلانے کا اعلان کیا اور وزارت داخلہ کو مختلف سیاسی شخصیات کے ذریعے اورتحریری یقین دہانی کرائی کہ ہم پر امن طور پر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔ یقین دہانی ملک کی ایک اور بااثر شخصیت کو بھی کرائی کہ یہ لانگ مارچ، ملین مارچ ہوگااور ہم اسلام آباد پہنچ کر آپ کی انگلی اٹھنے کے منتظر رہیں گے۔ انتخابی شغل کے بعد میڈیا اور عوام کو ایک نیا شغل دھرنے کی صورت میں مل گیا تھا۔ اسلام آباد میں شغلی لوگ مقام دھرنا، شغل لگانے اور تفریح کرنے سر شام پہنچ جاتے اور دوسرے شہروں میں رہنے والے ٹیلی ویژن کے گرد جمع ہوجاتے، ٹی وی چینلز بھی خوش کہ دھندا اچھا چل رہا ہے۔
دھرنا جاری تھا کہ ایک کزن نے انگلی بروقت نہ اٹھنے پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا اور علاج کے بہانے بیرون ملک سدھار گئے۔ تحریک انکشاف نے دھرنا اور حکومت کے خلاف انکشافات کا سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر قائم رکھا۔ دھرنا جاری تھا کہ سانحہ اے پی ایس رونما ہوگیا اور دھرنے سے باعزت فرار کا موقع مل گیا۔ دھرنے کے اختتام کے بعد، دھاندلی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشنل کمیشن بنا۔ الزامات کے ثبوت دینے میں تحریک انکشاف ناکام ہوگئی اوریوں معاملہ رفع دفع ہوا۔ باشعور عوام نے سکھ کا سانس لیا کہ اب حکومت مخولیہ اور حکومت خواہ مخواہ چین سے بیٹھیں گی اور عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دیں گی۔ لیکن پانامہ لیکس نے تحریک انکشاف اور حکومت خواہ مخواہ کو پھر سے جلسے جلوس اور دھرنے کا موقع فراہم کردیا۔ تحریک ا نکشاف اور دیگر جماعتیں سپریم کورٹ چلی گئیں۔
معاملے کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے، سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کی تحقیقات کا آغاز کیا اور فریقین کو طلب کرلیا۔ الزامات کے ثبوت اس دفعہ بھی موثر طور پر پیش نہ کیے جاسکے۔ اسی طرح وکلائے صفائی بھی رقم کی بیرون ملک شفاف منتقلی کے ثبوت مہیا کرنے میں ناکام رہے۔ اب عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ حسب سابق امید تو یہی ہے کہ کیس کا فیصلہ کلی طور تحریک انکشاف اور دیگر فریقین کی توقع پر پورا نہیں اترے گا۔
سانحہ ماڈل ٹاو¿ن ہو یا ڈان و پانامہ لیکس حکومت مخولیہ کے مخول ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے اور دوسری جانب حکومت خوامخواہ اور تحریک انکشاف بھی چین سے نہیں بیٹھ رہیں۔ اس وجہ سے عوام کے مسائل کے حل کی طرف دونوں حکومتوں کی توجہ کم رہی اور عوامی مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھے ہیں۔ گزشتہ کچھ روزسے دہشت گردی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اب جب کہ سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے تو دونوں حکومتوں اور جماعتوں کو اپنی باہمی چپقلش ختم کردینی چاہیے اور عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور امن و امان کی صورتحال کو قابو کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے کیونکہ اس باہمی چپقلش کا نتیجہ، اب تک صفر ہی نکلا ہے۔

