بارش سے نہ بچانے والی چھتری گوچی اور ایڈیڈاس کو ہی مہنگی پڑ گئی


فیشن کے بڑے برانڈز گوچی اور ایڈیڈاس چین میں ایک ایسی منفرد چھتری فروخت کرنے جا رہے ہیں جس کی قیمت 11100 یوان (یعنی 1329 پاؤنڈز) ہے۔ مگر اس کی خاصیت بارش سے بچانا نہیں جس پر چینی سوشل میڈیا پر ان برانڈز پر تنقید کی جا رہی ہے۔

چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر بعض صارفین اس ’سن امبریلا (سورج کی چھتری)‘ سے زیادہ متاثر نظر نہیں آ رہے۔

گوچی کی ویب سائٹ پر اس چھتری کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ’واٹر پروف نہیں (یعنی یہ بارش کے پانی سے نہیں بچاتی) اور اسے صرف سورج سے بچنے یا سجاوٹ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

یہ چھتری ایڈیڈاس اور گوچی کی ایک مشترکہ کولیکشن کا حصہ ہے جسے آئندہ ماہ متعارف کرایا جائے گا اور فی الحال اس کی آن لائن تشہیر جاری ہے۔

ویبو پر اس چھتری کے بارے میں اتنی بحث ہوئی ہے کہ وہاں ایک ہیش ٹیگ بھی ٹرینڈ کرنے لگا ہے جس کا ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے کہ: ’11 ہزار ایک سو یوان میں فروخت ہونے والی یہ چھتری واٹر پروف ہی نہیں۔‘ اس ہیش ٹیگ کو تاحال 14 کروڑ صارفین دیکھ چکے ہیں۔

ایک صارف نے کہا کہ یہ چھتری ’بہت بڑی مگر بیکار فیشن سٹیٹمنٹ ہے۔‘ ایک دوسرے صارف کی رائے میں ’جب تک میں غریب ہوں، یہ لوگ مجھے کوئی ایسی چیز خریدنے کے لیے بیوقوف نہیں بنا سکیں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

کپڑوں کا وہ برانڈ جس نے فیشن کو بدل کر رکھ دیا

چینی اور ان کی آنکھیں: ’میری آنکھیں ایسی ہی ہیں ۔۔۔ ہر کسی کی اپنی ایک دلکشی ہوتی ہے‘

پب جی میں لاکھوں ڈالر کمانے والے 23 سالہ ’پرنس‘ جنھوں نے ای سپورٹس کو بطور کریئر اپنایا

انڈیا کی بڑی کاروباری کمپنیاں مہنگے ملکی ڈیزائنر برانڈز پر سرمایہ کیوں لگا رہی ہیں؟

تاہم بعض صارفین نے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اس چھتری میں اتنی دلچسپی کیوں ہے۔

جیسے ایک صارف لکھتے ہیں کہ ’جو لوگ اس چھتری جیسی لگژری چیزیں خریدنے کے لیے تیار ہیں وہ دراصل یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ کس قابل ہیں۔۔۔ وہ اس کے استعمال پر دھیان نہیں دیتے۔‘

یہ چھتری 7 جون کو متعارف کرائی جائے گی۔ اسے لگژری فیشن برانڈ گوچی اور سپورٹس ویئر کمپنی ایڈیڈاس نے ایک مشترکہ کولیکشن میں شامل کیا ہے۔

بی بی سی کی جانب سے گوچی اور ایڈیڈاس سے رابطہ کیا گیا تاہم انھوں نے فوری طور پر اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

ادھر گوچی کے ایک ترجمان نے بیجنگ میں قائم میگزین سائشین کو بتایا کہ اس پراڈکٹ کو ’کسی عام چھتری کی طرح استعمال کے لیے تجویز نہیں کیا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ اس چھتری کی اچھی قیمت ہے اور اسے محض روزانہ کے استعمال کی ’اسیسری‘ (جیسے گھڑی یا بیگ) کے طور پر اپنے ساتھ رکھا جاسکتا ہے۔

لگژری برانڈز کے لیے چین ایک اہم مارکیٹ خیال کی جاتی ہے۔

کنسلٹنسی کی فرم بین اینڈ کمپنی کے مطابق گذشتہ سال دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت یعنی چین میں لگژری اشیا کی فروخت 36 فیصد تک بڑھی ہے۔

بین اینڈ کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئندہ تین برسوں کے دوران چین دنیا بھر میں لگژری اشیا کی فروخت کی سب سے بڑی مارکیٹ بن سکتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24793 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments