ایدھی صاحب کی سالگرہ اور گوگل والے

دنیا میں بہت سے امیر لوگ اپنے نام سے فلاحی ادارے قائم کرتے ہیں لیکن عبدالستار ایدھی نے بیس برس کی عمر میں اپنے آپ کو غریبوں کی خدمت کے لئے وقف کیا جب وہ خود کراچی کے ایک بے حد غریب شہری تھے۔ انہوں نے ایک چھوٹے سے کمرے کو ڈسپنسری میں تبدیل کر دیا۔ اور ایک ایمبولنس خریدی جسے وہ خود چلاتے تھے۔ میڈیکل طالب علموں کی بطور رضاکار شمولیت کے نتیجے میں ان کی تنظیم کا دائرہ کار ملک بھر میں پھیل گیا۔ اب یہ تنظیم متعدد ہسپتال، بے سہارا بچوں کے مراکز اور امدادی کشتیاں چلا رہی ہے۔ یہ تنظیم لاوارث لاشیں دفن کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے دفاتر کے باہر جھولے لٹکائے گئے ہیں جیہاں ماں باپ ایسے بچے ڈال جاتے ہیں جن کی معمول کے مطابق پرورش ممکن نہ ہو۔
ایدھی فاؤنڈیشن کا کام عالمی سطح پر پھیلتا گیا ۔ 2015 میں قطرینہ طوفان کے متاثرین کی مدد کے لئے ایدھی 
عبدالستار ایدھی 28 فروری 1928 کو غیر منقسم ہندوستان کے شہر گجرات میں پیدا ہوئے تھے۔ گزشتہ برس گردوں کے مرض میں ان کا انتقال ہوا۔ انہیں بارہا بیرون ملک علاج کی پیش کش کی گئی لیکن انہوں نے پاکستان کے ایک سرکاری ہسپتال میں علاج کروانے پر اصرار کیا۔
ایدھی صاحب کی 89 ویں سالگرہ کے موقع پر گوگل نے ان کے اعزاز میں ایک ڈوڈل بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج (28 فروری) کو امریکا، آئس لینڈ، پرتگال، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، ایسٹونیا، انگلینڈ، ڈنمارک، آئرلینڈ اور پاکستان میں گوگل کے سرچ انجن پر عبدالستار ایدھی کی شبیہ جگمگا رہی ہے۔
ایدھی فاؤنڈیشن کا نعرہ ہے، "جیو اور جینے دو”۔ عبدالستار ایدھی کا قول تھا کہ انسانیت سے بڑا کوئی مذہب نہیں ۔ ایدھی فاؤنڈیشن مذہب ، زبان اور نسل کی بنا پر کوئی تفریق کئے بغیر سب ضرورت مند انسانوں کی خدمت کرتی ہے۔ ایک دفعہ ایدھٰی صاحب سے پوچھا گیا کہ وہ غیر مسلم افراد کی مدد کیوں کرتے ہیں ۔ انہوں نے جواب دیا”۔۔۔۔ کیونکہ میری ایمبولنس تم سے زیادہ اچھی مسلمان ہے۔”

