آگے کھائی پیچھے شیر


گزشتہ ایک ماہ سے اقتدار کے مراکز میں یہ فیصلہ نہیں ہو پا رہا کہ مہنگائی، افراط زر اور کساد بازاری کی گھنٹی ملک کی ڈولتی معیشت کی بلی کے گلے میں کون باندھے گا۔ ساڑھے تین سال تک معیشت کی کشتی کے سوراخ سے پانی رستا رہا اور جب ناخداؤں کو ہوش آیا تو خطرے کے نشان سے پانی اوپر آ چکا تھا۔ ملاح بدل دیے گئے مگر چپو وہی تھے اور پتوار بھی وہی۔ نئے ملاح کی فرمائش ہے کہ منجدھار سے نکالنے کے بعد ناؤ کے نگہبان وہی ہوں گے اور پرانے اس ضد میں کہ کشتی ان ہی کی ہے جو ناخدا بن بیٹھے ہیں وہ قزاق ہیں۔

برصغیر کے بٹوارے میں مذہب کے نام پر جو ملک بنا وہ پاکستان کہلایا۔ اس ملک میں ہجرت کر کے آنے والوں نے حکومت، نیابت اور امور ریاست میں کسی پشتینی زمین زاد کو شامل نہیں کیا۔ پہلی کابینہ میں اقلیتوں کی نمائندگی جوگندر ناتھ منڈل نے کی مگر پاکستان کے حق میں قرار داد پاس کرنے والی سندھ اسمبلی اور نئے ملک میں اپنی مرضی سے شامل ہونے والے بلوچوں اور پشتونوں کی شمولیت نہ ہو سکی۔ وقت کے ساتھ نئے آنے والوں اور زمین زادوں کے درمیان پیدا ہونے والے شکوے ناراضی اور دشمنی میں بدل گئے۔

پچیس سال کی بے آئینی کا نتیجہ ایک بار پھر تقسیم کی شکل میں سامنے آنے کے بعد باقی ماندہ ملک کو جوڑے رکھنے کے لئے ایک آئین مجبوری بن گیا تو 1973ء کا دستور بنا مگر اس کو بھی اشرافیہ میں شرف قبولیت نہ ملی۔ پاکستان دنیا کے ایسے ممالک میں شامل ہے جہاں آئین سے زیادہ تقدیس ان اداروں اور شخصیات کی ہے جو اس آئین کی پاسداری کی قسم اٹھاتے ہیں۔ عوام کو یہ بتایا جاتا ہے افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر اور ایک ایسے نابغہ کی تلاش میں رہتے ہیں جو مسیحا بن کر آئے اور تمام دکھوں کا مداوا کرے۔ ایسے مسیحا کی جستجو میں کبھی وردی والوں اور کبھی داڑھی والوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے پونے صدی گزار دی۔

سرد جنگ کے دوران کابل میں روسی افواج کی پسپائی نے ان کے حوصلے بڑھا دیے جو اس جنگ میں کامیابی کو امریکی ڈالروں، حکمت عملی اور سٹنگر میزائلوں سے زیادہ جذبہ ایمانی اور تائید یزدی سمجھ رہے تھے۔ ایک ایسے شخص کی تلاش میں جو مشرق اور مغرب دونوں میں یکساں مقبول ہو اور ساتھ ہی فرمانبردار بھی ہو ایک نابغہ ہاتھ آیا جس نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار کرکٹ کا عالمی کپ بطور کپتان بھارت کی سرزمین پر جیتا تھا۔ اس نابغہ کی شخصیت سازی ہوئی، تربیت ہوئی اور میدان میں اتارا گیا۔

2011ء کے بعد اس کے لئے تنظیم کاری کی گئی اور 2018ء کے انتخابات میں کامیابی دلوا کر ملک کی باگ ڈور اس کے ہاتھوں میں تھما دی گئی۔ اس مندر میں اپنے ہی ہاتھوں سے تراشے ایک اور بت پاش پاش کر کے نئی مورتی کو صنم خانے میں سجا کر پرستش و ستائش کی منادی کرا دی گئی۔ دن، ہفتے، ماہ و سال گزرے جب ملک کا حال نہ بدلا تو لوگوں نے سوال پوچھے۔ صبر کی تلقین کے بعد جواب نہ بن پڑا تو واپسی ناگزیر ہو چکی مگر یہ سفر کٹھن بہت ہے کیونکہ ہاتھوں کی لگائی گرہیں دانتوں کو آ گئی ہیں۔

اقتدار کے سنگھاسن تک کا راستہ کچھ مشینوں کے پرزے اور کچھ لوگوں اور اداروں کا سافٹ ویر بدل کر طے کیا گیا تھا مگر واپسی پر ملک کو دنیا سے جوڑنے والی بین الاقوامی ساکھ اور اس کی اکائیوں کو جوڑنے والا آئین دونوں چور چور ہو گئے ہیں۔ تین دہائیوں تک غیرت، حمیت اور احساس برتری کی مٹی اور اینٹوں سے بنائے اس مندر میں انا کا بت اس قدر مضبوط ہوا ہے کہ اس کے آگے کسی اور کی منشا و مرضی کی کوئی حیثیت ہی نہ رہی۔ ادارے، قانون، آئین سب اس بت کے آگے ڈھیر ہوئے تو کہیں جاکر صنم خانے کی منڈیر خالی ہوئی ہے۔

کپتان نے ہاتھ میں ایک خط لہرا کر زبان پر خود ساختہ امریکی سازش کی کہانی گڑھی اور ملک کی غلامی سے حقیقی آزادی کی جنگ کا آغاز کیا۔ مگر یہ توضیح ابھی بھی تشنہ لب ہے کہ یہ حقیقی آزادی کس سے لینی ہے، ملک کے آئین و قانون کو روندنے والوں سے یا پھر ان سے جنھوں نے ان کو مضبوط کیا جن کا پاؤں عوام کے کاندھوں پر ہے۔

معیشت گزشتہ سات دہائیوں میں کوتاہ نظری کا شکار رہا، وقتی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ہمیشہ ہنگامی بنیادوں پر چلائی جاتی رہی ہے جس کے بارے میں ہر دور میں یہ کہا گیا کہ ”ملک نازک صورت حال سے گزر رہا ہے“ ۔ یہ الفاظ اچھے وقتوں میں بھی ارباب اختیار و اقتدار نے اپنے ذاتی اور گروہی مقاصد کے لئے استعمال کیے مگر نازک صورت حال اب واقعی ایک نازک موڑ پر آ پہنچی ہے۔

خزانہ خالی ہے، تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر ندارد ہیں تو دوسری طرف ڈالر نے دو سنچریاں عبور کر لی ہیں۔ اگر اگلے کچھ دنوں میں آئی ایم ایف سے پیسے نہیں ملتے تو تیل خریدنا مشکل ہو جائے گا بین الاقوامی ادائیگیاں نہ کرنے کی صورت میں ملک کا دیوالیہ نکل سکتا ہے۔ اس صورت حال میں جن کے ہاتھوں میں ملک کی باگ ڈور دی گئی ہے ان کو اپنی کارکردگی کی ذمہ داری نہیں دی گئی اور نہ ہی وقت دیا گیا ہے۔ بے یقینی کا راج چہار سو ہے۔

آگے حکومت بین الاقوامی اداروں سے مذاکرات کرنے جا رہی ہے جو ماضی کے تجربات کی روشنی میں ایک گہری کھائی دکھائی دے رہی ہے۔ ان مذاکرات کی کامیابی کے بعد مہنگائی کا ایک طوفان آنے والا ہے اور اشیائے ضروریہ غریب لوگوں کی پہنچ سے باہر جانے والی ہیں۔ ملک کو گرتی ہوئی معیشت کے اس گرداب سے نکالنے کے لئے ایک طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس کے لئے عوام، حکومت اور تمام ریاستی اداروں کو ایک صفحے پر یکجا ہونا ہو گا اور وہ صفحہ آئین و قانون کی تقدیس اور پارلیمان کی بالا دستی کا ہے۔ ہمارے ہمسائے میں بنگلہ دیش اور بھارت نے اسی راستے پر چل کر ہی اس گھن چکر سے نجات حاصل کیا ہے اور سری لنکا نے اس سے روگردانی کر کے سزا پائی ہے۔ ہمیں اپنے جیسے حالات سے دوچار ممالک بنگلہ دیش اور سری لنکا میں سے ایک کے راستے کا انتخاب کرنا ہے اور بنگلہ دیش ہی بہتر انتخاب ہے۔

مگر بدقسمتی سے طاقت کے مراکز کا حمایت یافتہ وہ کپتان جس کی جھولی میں 1992ء کے کرکٹ کے ورلڈ کپ کے علاوہ کچھ نہیں اور جس کو ملک کی تاریخ میں پہلی بار آئینی اور قانونی طریقے سے اقتدار سے الگ کیا گیا وہ ابدالی، غوری اور غزنوی کے راستے پر ملک کے جمہوری ایوانوں پر یلغار پر کمر بستہ ہے۔ قومیت، مذہب اور نسلی تنگ نظری کے ہتھیاروں سے لیس جتھوں کا ایک کمزور معیشت والا ملک متحمل نہیں ہو سکتا جو دو دہائیوں تک دہشت گردی کا شکار رہا ہو اور اپنی کمزور داخلی اور خارجی پالیسیوں کی وجہ سے بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہو۔ اگر یلغار کرنے والے بہتر لوگ ہیں تو ان کو مضبوط کیا جانا چاہیے تھا اور اگر نہیں تو ان کو بھر پور طریقے سے مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔

ملک کو اس گرداب سے نکالنے کے لئے آگے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے امداد کی کھائی اور خان کے جتھے کی شکل میں پیچھے سے آنے والے شیر میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ ملک کی تاریخ میں انتخاب کے اس دوراہے پر عمومی مکالمہ کی ضرورت ہے جو ایک منطقی اجتماعی فیصلے تک پہنچنے میں مددگار ہو نہ کہ مناظرے اور مباہلے کی جو معاشرے میں پہلے سے موجود تضادات کی کھائیوں کو مزید گہری اور وسیع کردے۔ غیر معمولی صورت حال میں غیر معمولی فیصلے ہی کیے جاتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 256 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan