پانی کی قلت اور تباہ ہوتی معیشت


پاکستان میں عموماً پانی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے پانی کے ذخائر کی منیجمنٹ اور صوبوں کے درمیان تقسیم کی پالیسی اور پولیٹیکل اکانومی موضوعات پر گفتگو ہوتیہےمگر ان کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے استعمال کے لئے زیر زمین پانی کے بے محابا اور بے ہنگم استعمال کے بارے میں بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ نئی آبادیاں دھڑادھڑ وجود میں آ رہی ہیں اور پانی کی دستیابی کا واحد ذریعہ زیر زمین پانی کی بورنگ اور کنویں بن چکے ہیں پاکستان میں پانی کی شدید قلت کا جائز لیتے ہوئے سندھ پانی کی شدید قلت کا شکار ہو گیا ہے، سندھ صوبے میں پینے کے پانی کی شدید قلت کے ساتھ آبپاشی کی نہروں میں مسائل ہر روز بڑھتے جا رہے ہیں، پانی کی قلت پر توجہ نہ دی گئی تو معیشت مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔

زرعی پیداوار پر شدید اثر پڑ رہا ہے اور مقامی کسان اور کاشتکار فصل کی کٹائی اور پیداوار کے لیے پریشان ہیں اس لیے پاکستان کے 1991 کے پانی کی تقسیم کے معاہدے کے تحت سندھ کو پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، پانی کی تقسیم کے معاہدے 1991 کے مطابق، پاکستان کے صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاہدے پر دستخط کیے گئے، سندھ کو سندھ طاس سے پانی کا 42 فیصد حصہ ملتا ہے۔ اس معاہدے پر 1991 میں دستخط ہوئے تھے۔

1998 میں سندھ کی آبادی تقریباً 30 ملین تھی۔ آج 2017 کی مردم شماری کے مطابق 47 ملین سے زائد افراد کی تعداد ہے۔ اس کے باوجود پانی کی دستیابی میں آبادی میں اضافے، تیزی سے صنعت کاری اور شہری کاری کے مطابق نظر ثانی نہیں کی گئی ہے جو صوبے نے دیکھا ہے۔ مجموعی طور پر، سندھ میں صرف 41 فیصد گھرانوں کو نلکے کے پانی تک رسائی حاصل ہے، اور اگر صرف دیہی تناظر پر غور کیا جائے تو یہ تعداد ڈرامائی طور پر کم ہو کر سات فیصد رہ جاتی ہے۔

زراعت کے شعبے میں، پانی کا سب سے بڑا صارف، موجودہ نہری آبپاشی کے نظام کی کارکردگی 34 فیصد ناقص ہے اور اسے مزید بہتر کرنے اور سندھ کے بنجر علاقوں تک بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں کی زراعت آبی ذخائر اور نمکیات کے مسائل سے گہرا متاثر ہے اور بہت سے مواقع پر کسان فصلوں کو اگانے کے لیے کھارے اور آلودہ پانی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اگر اس مسئلے پر توجہ نہ دی گئی تو صوبے کو صحت عامہ کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

گزشتہ سال پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (PCRWR) نے پایا کہ سندھ کے 14 اضلاع سے جمع کیے گئے پانی کے 80 فیصد نمونے انسانی استعمال کے لیے نامناسب تھے۔ اس میں مزید کہا گیا کہ کراچی کے بڑے شہر میں 90 فیصد پانی غیر محفوظ ہے۔ مزید یہ کہ سندھ کے اسپتالوں میں استعمال ہونے والا 78 فیصد پانی آلودہ اور غیر معیاری پایا گیا۔ تھرپارکر میں ہر سال بہت سے چھوٹے بچے اور خواتین مر جاتے ہیں، جہاں سطح کا پانی دستیاب نہیں ہے۔

علاقے کے لوگ پانی کی کمی اور خوراک اگانے سے قاصر ہونے کی وجہ سے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ اس طرح کے منظر نامے کے ساتھ سندھ اور توسیعی طور پر، پاکستان، ملک اپنا اختیار کردہ پائیدار ترقی کے ہدف نمبر چھ کو حاصل کرنے سے بہت دور ہے جو سال 2030 تک سب کے لیے پینے کے صاف اور سستے پانی تک رسائی کا وعدہ کرتا ہے۔

پاکستان میں میٹھے پانی کی دو بڑی جھیلیں، کینجھر اور ہالیجی، سندھ میں پائی جاتی ہیں۔ تاہم، دریائے سندھ سے پانی کی آمد میں کمی ان آبی زمینوں اور ان کے آس پاس کے ماحولیاتی نظام کو نمایاں طور پر متاثر کرتی ہے۔ اس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ پانی کا بحران ہمارے ہاں ٹریجڈی آف کامنز کی ایک نمایاں مثال بن چکا ہے۔ یعنی زیر زمین پانی کو ہر شخص اپنی ملکیت اور حق سمجھ کر اس طرح استعمال کر رہا ہے کہ یہ ریسورس اجڑ کر خاتمے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جب کوئی شے سب کی ملکیت بن جائے تو اسے بلا روک ٹوک سب ہی تار تار کرتے ہیں اور یہی کچھ ہمارے ہاں ہو رہا ہے۔

پانی کے اس بحران سے نمٹنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ہم آنے والی نسلوں کو دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ پیاس بھی وراثت میں دے کر جائیں گے مندرجہ بالا منظر نامے کی روشنی میں، سندھ حکومت کو بلدیاتی نظام، میونسپل اتھارٹیز اور متعلقہ محکموں میں بنیادی خامیوں کو دور کرنے کے لیے اپنی طرز حکمرانی اور قیادت کی حکمت عملی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کو سندھ کے لوگوں کے فائدے اور اس کے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے آبی قوانین اور ضابطوں کو نافذ کرنے اور لاگو کرنے کے قابل بنایا جائے۔ تمام شعبوں میں پانی کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے تکنیکی اختراعات، تحقیق اور شواہد پر مبنی مداخلتوں کو اپنانا چاہیے۔

Facebook Comments HS