17 مئی 2022 کی صبح تمام دوست ہمراہ استاد محترم ڈاکٹر اشفاق احمد ورک ماڈل ٹاؤن پارک پہنچے۔ جہاں پر مستنصر حسین تارڑ معروف اردو ناول اور سفر نامہ نگار سے ملاقات مقررہ وقت پر ہوئی۔ صبح کا وقت، سوچ کا جزیرہ اور خیال کا تسلسل تکیہ تارڑ کی زینت بنا ہوا تھا۔ تکیہ تارڑ کا تجسس کسی دوسری طرف دھیان کرنے نہیں دے رہا تھا۔ تکیہ تارڑ کی ایک جانب یونیورسٹی کے طالب علموں کے لیے نشست کا اہتمام کیا گیا تمام طلبہ و طالبات اپنا اپنا چپو لیے تکیہ تارڑ میں سوار ہو رہے تھے۔

حسب معمول سلام دعا ہوئی اور سوالات کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایک بات جو مجھے ذاتی طور پر دوسروں سے الگ الگ معلوم ہو رہی تھی وہ مستنصر حسین تارڑ کا تکیہ کلام اور ساتھ ساتھ سگریٹ نوشی کے لمبا لمبا قہقہہ۔ اس کو جاننے کے لیے میں نے کوشش کی مگر ناکام رہا۔ کچھ وقت کی نزاکت اور استاد کا احترام نہ جانے اور کیا جو مجھے اس بات پر مجبور کر گیا کہ رہنے دو۔ حسب روایت گفتگو کا آغاز ہوا محترم استاد ڈاکٹر اشفاق احمد ورک احمد نے بتایا کہ طالب علم ایف۔ سی کالج لاہور شعبہ اردو سے ہیں اور آپ سے موجودہ حالات کے تناظر میں آپ کی تحریروں کا تجزیہ آپ کی زبانی سننا چاہتے ہیں۔ بات ان کی تحریروں سے شروع ہوئی تو ماضی کے تناظر میں موجودہ حالات کا عکس ان کی زبانی ہمراہ سگریٹ نوشی راستے پر رواں دواں ہونے لگا جیسے چلتے وقت ٹرین کے انجن سے دھواں اٹھتا ہے۔

بات ان کے سفرناموں سے شروع ہوئی تو ان کے بقول سننے کو ملا کے :

”میں ویتنام ملک گیا جہاں مجھے نوجوانوں سے پالا پڑا۔ معلوم کرنا چاہا، تم لوگوں نے اپنے آباء و اجداد کو کیوں بھلا دیا ہے؟“

ان کا جواب بڑا ہی دلچسپ اور حیرت انگیز تھا۔

” ہم اپنے آبا و اجداد کو بھول کر مستقبل پر دھیان دیتے ہیں، جو گزر گیا سو گزر گیا اب ہمیں کرنے کی ضرورت ہے۔“

یہ سنتے ہی میرے کانوں میں تند ہوا کا جھونکا آیا اور فوراً ان کی ترقی کا راز معلوم ہو گیا اور مجھے اپنا وطن اور اس میں رہنے والوں کا کردار سامنے آ کھڑا دکھائی دیا۔

” ہم لوگوں نے نکمے پن اور نا اہلی کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔“

اس بات پر خوب قہقہے لگے۔ جیسے سبھی لوگ ایک دائرے میں بیٹھ کر سردی کی رات میں مونگ پھلی کھاتے ہنستے ہو۔ بات کا تسلسل کچھ آگے بڑھاتے ہوئے ایک نوجوان نے سوال کیا:

” آپ کی تحریروں میں عورت کا نیا کردار ملتا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟“

” میں عورت کا کردار اس وجہ سے اپنی تحریروں کا حصہ بناتا ہوں کہ وہ کائنات کا حصہ ہے، افسوس ہم لوگوں نے صرف اور صرف ماضی پرستی کو اور ہیرا منڈی کو اپنے ذہنوں پر مسلط کیا ہوا ہے۔ ہر کامیاب لکھاری مرد میں 30 فیصد عورت ہوتی ہے اور ہر کامیاب لکھاری عورت میں 30 فیصد مرد۔“

تارڑ صاحب نے مزید بات کو بڑھاتے ہوئے اپنا موقف بیان کیا کہ:

” ہم وہ لوگ ہیں جو بائیں ہاتھ کا استعمال بھی گناہ سمجھتے ہیں اگر یہی بات ہے تو دعا بھی ایک ہاتھ سے مانگو۔“

جب یہ باتیں ان کے لب و لہجہ سے نکل کر اس دائرے میں بیٹھے لوگوں کے کانوں میں پڑیں تو ایک دم خاموش آ گئی۔ بات تو واقعی ٹھیک ہے اور براہ راست آج ہمارے اوپر لاگو ہوتی ہے چاہے جتنے مرضی اپنے آپ کو پاک صاف کر لیں مگر برائی اور دوسروں کے کپڑے اتارنے میں ہم لوگ ماہر ہیں یہی وجہ ہے کہ آج ہم لوگوں نے اللہ اور خدا کا بھی فرق کر کے بڑا شرک پیدا کیا ہوا ہے۔ اس وقت تک سمجھنے سے قاصر ہیں۔ تارڑ صاحب نے اپنی بات میں اضافہ کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کردی کے :

” اللہ ساڈا اور دوسروں کا خدا یہ بڑا شرک ہے۔“

پاکستان آزاد کس لیے ہوا تاکہ مسلمانوں زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق بسر کر سکیں۔ افسوس کا مقام ہے یہ ملک ان مسلمانوں کے ہاتھوں نہیں آ سکا جن کے لیے بنایا گیا ہے یا جن کی ماؤں نے اپنی لخت جگر قربان کیے۔ عورتوں نے اپنے سہاگ قربان کیے، بہنوں نے اپنے بھائیوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس ملک میں رہنے والوں نے آج بھی خواب خرگوش کو مسلط کر رکھا ہے جس کی وجہ سے اخلاقیات، طور، طریقے، مذہب، سب رشتے بدل گئے ہیں۔ تارڑ صاحب پر سوال وارد ہوا اور پوچھا :

” تو پاکستان پھر کس لئے آزاد ہوا۔“

جواب بڑا ہی دلچسپ اور حیرت انگیز الفاظ پر مبنی ملا۔ جس کے کان ہوں وہ سنے گا اور جس کی آنکھیں وہ دیکھ لے گا۔

” پاکستان اس لئے آزاد ہوا کہ یہ لوگ نکمے اور سست ہیں۔ ان کو الگ ہی رہنے دیں تاکہ دوسروں کے راستے میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔“

جواب تو خاصا مضبوط اور براہ راست قوم کی خصلت پر پورا اترتا ہے۔ ایک طرف تو بات اپنی اندرونی کہانی لے کر اس قوم اور قوم کی جڑوں کو سیدھا ننگا کر رہی ہے۔ دوسری جانب اس سوئی ہوئی قوم کو نیند کی آغوش میں صدیوں سے بیٹھے ہوئے آگاہ بھی کر رہی ہے۔ ملاقات کے آخری لمحات میں تارڑ صاحب نے بڑی جاندار گفتگو کا پلا پکڑا جو وقت کی نزاکت اور موجودہ نسل کی تصویر کشی کرنے میں پیش پیش نظر آتا ہے۔ اسی دوران لفظ ” یادگار“ میدان میں آ کر کھڑا ہوا، گفتگو میں نیا موڑ آیا۔ اس لفظ کی مناسبت سے کافی باتیں سننے کو ملیں گے مگر صاحب نے کہا:

” یادگار اسے کہتے ہیں جو مر چکا ہے اگر اس کو سمجھنا تو“ یادگار پاکستان ”ہی کافی ہے۔“
اسی کے ساتھ آج کی ملاقات کا اہتمام ہوا۔