کیا آپ ماضی میں سفر کرنا پسند کریں گے؟


اگر آپ ماضی دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں تو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ آپ کی خواہش کی تعمیل ہو سکتی ہے محض رات کے وقت تاروں بھرے اسمان کو دیکھئے۔ رات کے وقت تاروں بھرا اسمان ایک ٹائم مشین کے طرح ہے۔ جتنے دور ستاروں کا آپ مشاہدہ کرتے ہیں اتنی ہی دور آپ وقت میں پیچھے دیکھتے ہیں۔

مگر یہ کیسے ممکن ہے؟ کس طرح ایک ستارے کو دیکھنا گزرے وقت کو دیکھنے کی مترادف ہے؟ کیا تاروں بھرا اسمان ایک ٹائم مشین ہے؟

جب آپ کسی ستارے کا مشاہدہ کرتے ہیں تو آپ وہ روشنی دیکھتے ہیں جو ان سے خارج ہوتی ہے۔ زمین سے پرے اور بہت دور کے ستاروں و دیگر اجرام فلکی کی ساتھ ہماری مشاہداتی تعلقات روشنی تک محدود ہے۔ طویل عرصے تک سائنسدان یہی سمجھتے رہے کہ روشنی کی رفتار لامحدود ہے۔ مگر سترہویں صدی میں اول رومر نے ایک تجربے سے روشنی کی رفتار کو کیلکولیٹ کیا۔ آج ہم سب کو معلوم ہے کہ روشنی ایک سیکنڈ میں تین لاکھ کلومیٹر کا سفر کرتی ہے۔

تین لاکھ کلومیٹر پر سیکنڈ کے رفتار سے سفر کرتے ہوئے روشنی ایک سال میں 9.6 کھرب کلو میٹر فاصلہ طے کرتی ہے۔ اسی فاصلے کو ایک نوری سال کہا جاتا ہے۔ نوری سال وقت کی نہیں، فاصلے کی اکائی ہے جس کا عام استعمال فلکیات میں ہوتا ہے۔ فلکیات میں فاصلہ ناپنے کے لئے SI یونٹ یعنی میٹر کا استعمال نہیں ہوتا کیونکہ یہ بہت چھوٹا پڑ جاتا ہے۔ اس لئے بہت بڑے اکائی کی ضرورت ہے جو نوری سال ہے۔

نظام شمسی کا سب سے قریبی ستارہ پراکسیما سینتوری ہے جس کا زمین سے فاصلہ 4.2 نوری سال ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ روشنی کو پراکسیما سینتوری سے زمیں تک پہنچنے میں 4.2 سال لگتے ہیں۔ اس طرح جب ہم اس ستارے کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہمیں 4.2 سال پرانا ستارہ نظر آتا ہے۔

بالکل اسی طرح، ہمارا اپنا سورج زمین سے 500 نوری سیکنڈ کے فاصلے پر ہے۔ روشنی کو وہاں سے زمیں تک پہنچنے میں 500 سو سیکنڈ (اٹھ منٹ 20 سیکنڈ) لگتے ہیں۔ اگر سورج پر ایک کرن نمودار ہوتی ہے  تو وہ اسے اٹھ منٹ 20 سیکنڈ بعد ہی دیکھ سکیں گے۔ یا بالفرض اگر سورج کہیں غائب ہو جائے تو اٹھ منٹ اور 20 سیکنڈ تک یہ ہمیں نظر آئے گا اور اتنی ہی وقت کے لئے زمین اپنی مدار میں سورج کا چکر لگاتی رہی گی کیونکہ کشش ثقل کی معلومات بھی روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔

فرض کریں ہماری زمیں سے سو نوری سال دور ایک ترقی یافتہ/ ذہین تہذیب پنپ رہی ہے۔ انہوں ہماری ہی طرح ریڈیو ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے۔ وہ اس کے قابل ہیں کہ ہماری ریڈیو براڈکاسٹنگ ڈیٹیکٹ کر سکیں تو جو پہلی براڈ کاسٹ وہ سنیں گے وہ سو سال پرانی ہوگی کیونکہ ریڈیو ویو الیکٹرومیگنیٹک ویو ہوتی ہیں جس کی رفتار تین لاکھ کلو میٹر پر سیکنڈ ہے۔ وہی جو روشنی کی ہے۔

سو نوری سال دور کے لوگ ان واقعات کے بارے میں سنیں گے جو سو سال پہلے زمیں پر رونما ہوئے تھے اور جنہیں ریڈیو پر براڈ کاسٹ کیا گیا تھا۔ مثلاً وہ سنیں گے کہ آئین سٹائن کا نظریہ اضافت درست ثابت ہوا ہے۔ سیورے معاہدے کے تحت مشرقی وسطی میں متعدد نئے ممالک وجود میں آ گئے۔ ہندوستان میں تحریک خلافت زور پکڑ رہی ہے اور کانگریس تحریک عدم تعاون چلا رہی ہے۔ وہاں ریڈیو سیٹس پر وہ واقعات سنیں جائیں گے جو 1921۔ 22 میں رونماء ہوئے تھے۔

Andromeda Galaxy

اگر ملکی وے کہکشاں سے نکل تھوڑی دور چلے جائیں تو ہماری قریبی کہکشاں انڈرومیڈا ہے۔ انڈرومیڈا گلیکسی اپنے لوکل گروپ کی سب سی بڑی کہکشاں ہے۔ اگر مطلع بالکل صاف ہو اور رات کے وقت آلودگی بھی نہ ہو تو ننگی انکھ سے انڈرومیڈا کو دیکھا جا سکتا ہے۔ انڈرومیڈا ہم سے تقریباً تئیس لاکھ نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ تو جیسے پہلے کہا گیا کہ ہم اگر انڈرمیڈا کہکشاں کا مشاہدہ کریں تو ہمیں تئیس لاکھ سال پرانی انڈرومیڈا دکھائی دے گی۔

بالفرض وہاں کسی ستاروی نظام میں کسی سیارے پر ایسا مناسب ماحول بن چکا ہے جو زندگی کے لئے موزوں ہیں اور کوئی ذہین تہذیب بھی وجود میں آ چکی ہے۔ ہماری انسانوں کی طرح ان میں کائنات کو تسخیر کرنے والا کیڑا بھی موجود ہیں اور بڑی بڑی رسد گاہیں قائم ہو چکی ہے۔ ناسا کے طرز پر فلکیاتی ادارے تحقیقات کر رہی ہے۔ اب اگر کسی رسد گاہ میں ایک دور بین کو ملکی وے کی طرف کیا گیا تو فی الوقت وہ تئیس لاکھ سال پرانی ملکی وے دیکھیں گے۔

بالفرض وہ ہم سے ٹیکنالوجی میں کچھ زیادہ آگے ہیں۔ انہوں نے نظام شمسی میں ہماری زمین کو دریافت کیا ہے اور اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں تو وہ زمیں پر ہمیں نہیں دیکھ پائیں گے۔ یہ بلکہ اس وقت کام شاہدہ کریں گے جہاں جدید انسانوں کے بجائے انسانوں کی سب سے کامیاب ترین نسل ہومو ایرکٹس دیگر جانداروں کے طرح زمین پر گھومتے پھیر رہے تھے۔

ذرا اور دور چلیں جائیں۔ کوئی سڑسٹھ ملین نوری سال کے فاصلے پر موجود کسی رسد گاہ سے زمیں کا مشاہدہ کر رہا ہے تو انہیں زمین پر قوی الجثہ ڈائنو سار گھومتے پھرتے نظر آئے گے۔ چار ارب نوری سال دوری سے اگر کوئی زمین کو دیکھ رہا ہے تو انہیں زمین آگ کے الاؤ کے علاوہ کچھ نہیں دکھائی دے گی۔ اس طرح جتنی دور سے زمین کا مشاہدہ کیا جائے اتنی ہی پرانی ان کو زمیں نظر آئی گی اور جتنی دوری کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں اتنے ہی ہم وقت میں پیچھے دیکھتے ہیں۔ تو امید ہے اب آپ سمجھ گئے ہو گے کہ کس طرح رات کی وقت تاروں بھرا اسمان ہمارے لئے ایک ٹائم مشین کی طرح ہیں۔

Artist's impression of the James Webb Space Telescope
Artist’s impression of the James Webb Space Telescope

ناسا نے جدید ٹیکنالوجیز سے مزین جیمز ویب ٹیلی سکوپ لانچ کیا ہے۔ توقع ہے کہ وہ رواں مہینے آپریشنل ہو جائے۔ اس ٹیلی سکوپ کو ایلیکٹرو میگنیٹیک ویو کی انفرا ریڈ سپیکٹرم پروسس کرتی ہے چونکہ انفرا ریڈ شعاؤں کی ویو لینتھ لمبی ہوتی ہے اس لئے یہ الٹرا وائلٹ شعائیں ڈیٹیکٹ کر سکتی ہے۔ سو اس کے ذریعے ہم وہ سب اجسام دیکھنے کی قابل ہوجائیں گے جو انٹرسپیلر میں موجود گرد غبار کے عظیم بادلوں کے پیچھے ہماری نظروں سے اوجھل تھے اور جن کا ہبل ٹیلی سکوپ زیادہ گہرائی میں مشاہدہ نہیں کر سکتا تھا۔ ستاروں اور یہاں تک کہ کہکشاؤں کی پیدائش کا مرحلہ جس کی براہ راست مشاہدے سے فلکیاتی ماہرین محروم تھے اب ان کا مشاہدہ ممکن ہو جائے گا۔ ہماری زمیں، نظامی شمسی میں موجود اجرام فلکی یہاں تک کہ ہمارے جسموں کے خلیات کی تمام مالیکولز جو کبھی قوی الچثہ ستاروں کے قلبوں میں پنپ رہے تھے ان کا مشاہدہ ممکن ہو جائے گا۔

جمیز ویب ٹیلی سکوپ کی مدد سے ستاروی نظاموں کی وجود میں آنے کا مشاہدہ بھی کیا جا سکے گا۔ ہم دیکھ سکیں گے کہ پانچ ارب سال پہلے ہمارا نظام شمسی کیسی وجود میں آیا تھا۔ تیرہ ارب نوری سال دور موجود کہکشاں کا مشاہدہ کرنا اس طرح ہو گا کہ ہم بگ بینک کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ توقع کی جاتی ہے کہ اس سے بہت اہم فلکیاتی راز آشکار ہوجائیں گے۔

ہماری کائنات بے حد پر اسرار ہے۔ ہم اپنی ٹیکنالوجیز اور قابلیت پر اس کو تسخیر کر رہے ہیں لیکن اب بھی بہت کچھ کرنا ہے۔ ابھی ہم بہت کم جان پائے ہیں۔ کاسمولوجی بہت سارے سوالوں کی جواب نہیں دے پا رہی۔ بگ بینک سے پہلے کیا تھا؟ یہ کیوں ہوا؟ متوازی کائناتوں کا سوال؟ تاریک مادہ؟ بلیک ہول کی مرکز وغیرہ۔ بہت کچھ تسخیر کرنا باقی ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “کیا آپ ماضی میں سفر کرنا پسند کریں گے؟

  • 05/06/2022 at 2:57 صبح
    Permalink

     کائنات اور ستاروں کے بارے میں بہت عمدہ معلوماتی مضمون. آفرین ساجد خان یوسفزئی صاحب. —-
    محمد حنیف بلوچ 
    کراچی پاکستان 

Comments are closed.