تنہا آصف علی زرداری اور پنجاب کی اشرافیہ!


آصف علی زرداری کو بی بی صاحبہ سے شادی سے پہلے کبھی میڈیا والوں نے اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے ان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈوں کا حصہ نہ بنایا نہ ہی کبھی ان کے خلاف کوئی ایسے پروگرام ہوئے جن پر حکومتی خزانوں سے اربوں لگا کر یہ ثابت کیا جاتا رہا کہ آصف علی زرداری پاکستان کی تباہی کا ذمہ دار ہیں۔ بی بی صاحبہ سے شادی کے بعد مسلسل ان کو مختلف سیاسی کیسوں میں مجرم ٹھہرانے کی ناکام کوشش کی جاتی رہی تمام ادارے بشمول حکومتیں ان پر سیاسی کیس بنا کر ان کو اپنے حق میں دستبردار ہونے کے لئے دباؤ ڈالتی رہیں لیکن آصف علی زرداری نے ان کے آگے جھکنے سے ہمیشہ انکار کیا اور اپنی زوجہ محترمہ شہید کے ساتھ ہمیشہ وفا کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا۔

بی بی شہید کی شہادت کے بعد جب ملک میں ہر طرف انتشار پھیلا ہوا تھا اسی وقت آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ بلند کر کہ پورے پاکستان میں موجود اپنے جیالوں کو پر امن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی کمان کو سنبھالا اور آئین و قانون کی پاسداری کو اول ترجیح دیتے ہوئے بی بی شہید کی آخری رسومات کو ادا کرنے کے ساتھ اپنے ورکرز و جیالوں کو بار بار پر امن رہنے کی تلقین کی۔ بہت سے سندھ کے لوگوں کا کہنا اور ماننا ہے کہ اگر آصف علی زرداری اس وقت پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر اپنے ورکرز و جیالوں کو پر امن رہنے کی ریکویسٹ نہ کرتے تو بیشک ملک ایک دفعہ پھر ٹوٹنے کی طرف جا رہا تھا اور شاید پاکستان میں بیٹھ کر پاکستان سے منافقت رکھنے والے کچھ سیاہ کرتوت عناصر بھی ایسا ہی چاہتے تھے لیکن اس وقت آصف علی زرداری کا صبر کام آیا اور جیالوں نے ان کی بات پر لبیک کہتے ہوئے پاکستان میں پر امن احتجاج کیا اور پورے پاکستان میں بی بی شہید کے لئے قرآن خوانی کا سلسلہ شروع ہوا۔

اسی دوران آصف علی زرداری نے بی بی شہید کی وصیت کے مطابق پارٹی کا چیئرمین ان کے اکلوتے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو نامزد کیا۔ بی بی کی شہادت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی وفاق میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی لیکن اس وقت بھی ملکی حالات کافی کشیدہ تھے جن میں دہشت گردی، لوڈ شیڈنگ جیسے معاملات سر فہرست تھے۔ آصف علی زرداری نے ان سب چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے ایک حکومت بنائی جس میں ان کو پنجاب میں حکومت بنانے کا بھی موقع ملا لیکن انہوں نے اپنی اتحادی جماعتوں کو ان کا مکمل حق دیا جس کی بدولت انہوں نے آئین کو اپنی اصل حالت میں بحال کرنے کے ساتھ اٹھارہویں ترمیم پر کام کیا۔

بی بی صاحبہ کی شہادت کے بعد جہاں پاکستان ایک لیڈر سے مرحوم ہوا وہاں دوسری طرف آصف علی زرداری نے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہاء ہونے سے بچایا۔ آصف علی زرداری نے بیشتر مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کو ترجیح دی اور کامیاب بھی رہے اسی تعلقات میں چائنہ کے ساتھ سی پیک اور ایران کے ساتھ پاک ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے کا آغاز بھی کیا۔ دوسری طرف افغانستان ملائیشیا بھارت جیسے ممالک کے ساتھ بھی تعلقات کو بہتر بنایا۔

آصف علی زرداری نے اقتدار میں آتے ہی ایڈ نہیں ٹریڈ کے بیانیے پر دوسرے ممالک سے ملاقاتیں کیں۔ دوسری طرف پاکستان کو دہشت گردی سے نکالنے کے لئے اہم فیصلے کیے اور کامیاب رہے۔ لیکن اس وقت لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ زیادہ اہم تھا اس کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے 2008 ہے دوران بتا دیا تھا کہ 2018 تک لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس وقت پنجاب کو صدر زرداری کے دور حکومت میں مکمل فنڈ مہیا کیے گئے جن کی وجہ سے پنجاب میں ترقیاتی کام جاری ہوا لیکن اسی پنجاب کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون نے ہر طرح کے اتحاد کو سائیڈ پر رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی کے خلاف پہلے سال ہی جلسے جلوس اور احتجاج کرنے شروع کر دیے اور پیپلز پارٹی کی حکومت کو کام کرنے سے مسلسل کوشش کرتے رہے اس کے باوجود بھی آصف علی زرداری نے صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ سے نوازا اور پنجاب کے حصے میں اسی ایوارڈ کی وجہ سے تقریباً 500 ارب روپے کا حصہ آیا۔

اس دوران بجلی کی لوڈ شیڈنگ ایک اہم مسئلہ تھی جس کو لے کر پنجاب کی اشرفیہ نے آصف علی زرداری کی کردار کشی میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی لیکن کسی میڈیا میں آصف علی زرداری کا صدر کے اختیارات پارلیمنٹ کو سونپ دینے پر کبھی کوئی تعریفی پروگرام نہ کیا گیا بلکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ میڈیا و پنجاب میں سوتیلوں جیسا سلوک جاری رکھا۔ اسی دوران راجہ پرویز اشرف پر اورینٹل پاور پلانٹ کا کیس شروع ہوا جس پر نون لیگ اپنے آنے والے دور حکومت میں ناکامی کا شکار ہوئی لیکن اس کے باوجود کسی میڈیا میں یہ پروگرام نہ کیا گیا کہ یہ سب پیپلز پارٹی کے خلاف محض ایک جھوٹے پروپیگنڈوں کے علاوہ کچھ نہ تھا۔

آصف علی زرداری نے پنجاب کی عوام اور پنجاب کے حقوق مکمل طور پر ان کو دیے ان کے بدور حکومت میں ریکارڈ تنخواہیں اور پینشنز بڑھائی گئی پرائیویٹ سیکٹر میں بھی تنخواہیں بڑھائیں گئی اسی دور حکومت میں آئین بنایا گیا جس میں وفاقی اداروں میں 12 فیصد حصہ عوام کا مختص کیا گیا لیکن اس پر بھی نون لیگ کے دور حکومت میں عدالت سے سٹے لے کر اس کو روک دیا گیا۔ اس طرح کے بیشتر عوامی کام صرف پیپلز پارٹی و صدر زرداری کے دور میں ممکن ہوئے۔

اس دور میں بجلی 3 سے 4 روپے فی یونٹ تھی اور پنجاب کی ہر گلی میں شاید آصف علی زرداری کو برا بھلا کہہ کر پاکستان پیپلز پارٹی کی کردار کشی کی گئی۔ پیپلز پارٹی کے اپنے بیشتر پنجاب کے وہ ممبر اسمبلی جنہوں نے 5 سال پورے اقتدار کے مزے لئے اپنے علاقوں کے لئے مکمل فنڈ لئے وزارتیں بھی لیں اور پارٹی یہ کہہ کر چھوڑ دی کہ آصف علی زرداری ملک کھا گیا لیکن کسی ممبر اسمبلی یا وزیر مشیر نے اپنی 5 سال کی کارگردگی نہ بتائی کہ اس نے عوام کے لئے کون سا اچھا کام کیا؟

2008 سے 2013 تک مسلسل پاکستان پیپلز پارٹی و آصف علی زرداری کی کردار کشی کرنا اور اسٹیبلشمنٹ و اپوزیشن کا مل کر پاکستان پیپلز پارٹی کے کاموں میں مداخلت کر کہ ان کو حکومت نہ کرنے دینا ہی حقیقت میں آج پاکستان کی تباہی کا ذمہ دار ہیں اگر آصف علی زرداری کو پاکستان یا کسی ایک صوبے کا خیال نہ ہوتا تو وہ سندھ میں چلنے والے منصوبے تھر کول پاور پلانٹ سے بننے والی بجلی کو نیشنل گریڈ میں ڈالنے کی بجائے اپنے صوبے سندھ کی عوام کو دے کر ان سے دعائیں لیتے اور سندھ میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر لیتے اگر آصف علی زرداری کو پاکستان و قوم کا احساس نہ ہوتا تو وہ بیشک اپنے دور حکومت کے آخر میں قرضہ لے کر بجلی کی لوڈ شیڈنگ مصنوعی طریقہ سے ختم تو کر دیتے لیکن انہوں نے قرض کو بوجھ عوام ہر ڈالنا مناسب نہ سمجھا ان کی حکومت کے بعد نون لیگ نے اسی طرح بجائے کو مینجمنٹ کے قرض لئے اور لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا پھر ان کے بعد عمران خان کی حکومت میں بھی یہ روایت برقرار رہی کہ قرضہ لو اور مہنگی بجلی بنا کر عوام کو مہنگائی کے بوجھ کے نیچے دبا دو اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کی جڑیں کمزور ہوتیں رہیں غیر ملکی قرضہ پاکستان کے اوپر مسلسل مسلط ہوتا رہا جس کی وجہ سے آج ملک دیوالیہ ہونے کی طرف ہے۔

اس کے باوجود ان سخت حالات میں ایک دفعہ پھر آصف علی زرداری نے ہی اس کٹھ پتلی حکومت کو گھر بھیجنے کا فیصلہ کیا اور ملک کو محفوظ ہاتھوں میں لینے کا اعلان کیا بیشک ابھی مشکل وقت ہے اور موجودہ مشترکہ حکومت کو مشکل و سخت فیصلے کرنا پڑیں گے لیکن عوام اچھے کی امید رکھیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments