انڈیا میں آسان ڈیجیٹل قرضوں کے ذریعے سادہ لوح افراد کو کس طرح پھنسایا جاتا ہے؟
بہت سے لوگوں کی طرح راج (اصلی نام نہیں) بھی قرض کی فوری منظوری اور آسان عمل سے متاثر ہوئے۔ اس کے لیے انھیں بس اتنا کرنا تھا کہ اپنے فون پر ایک ایپ ڈاؤن لوڈ کرنا تھی اور قرض کا اہل ہونے کے لیے اپنے شناختی کارڈ کی ایک کاپی فراہم کرنا تھی۔
انھیں فوری طور پر کچھ رقم مل گئی لیکن انھوں نے جتنی رقم کی درخواست کی تھی وہ اس رقم کا صرف نصف تھی۔ صرف تین دن بعد کمپنی نے ان سے مطالبہ کرنا شروع کر دیا کہ انھوں نے جتنی رقم لی ہے اس سے تین گنا رقم واپس کریں۔
پہلے قرض کی ادائیگی کے لیے انھوں نے دوسری مالی ایپس کے ذریعے قرض لیا جس سے اس کے قرضوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ بالآخر راج 33 مختلف ایپس کے تحت چھ ہزار امریکی ڈالر سے زیادہ کے مقروض ہو گئے۔
ان ایپس کو چلانے والے بہت سے لوگوں نے انھیں پیسے واپس کرنے کے لیے دھمکیاں دینا شروع کر دیں لیکن وہ پولیس کے پاس جانے سے بھی خوفزدہ تھے۔
ایپس چلانے والے لوگوں نے اس کے فون پر موجود تمام رابطوں اور اس کی تصویروں تک رسائی حاصل کر لی اور دھمکی دی کہ اس کی بیوی کی عریاں تصاویر اس کے فون پر موجود ہر کسی کو بھیج دیں گے۔
دھوکہ بازوں کی ادائیگی کے لیے راج نے اپنی بیوی کے تمام زیورات تک بیچ دیے۔ اس کے باوجود وہ کہتے ہیں کہ وہ اب بھی خوفزدہ ہیں۔
راج کہتے ہیں کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ وہ مجھے جانے دیں گے۔ مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔ مجھے ہر روز دھمکی آمیز کالز اور پیغامات موصول ہوتے ہیں۔‘
انڈیا میں موبائل فون ایپس کے ذریعے دھوکہ دہی کے یہ واقعات بہت عام ہو گئے ہیں۔ یکم جنوری 2020 اور 31 مارچ سنہ 2021 کے درمیان ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئي) کے ایک مطالعہ نے 600 غیر قانونی قرض دینے والی ایپس کی نشاندہی کی۔
اس مدت کے دوران مہاراشٹر ریاست نے قرض دینے والی ایپس سے متعلق سب سے زیادہ شکایات ریکارڈ کیں جن میں سے 572 آر بی آئی کو رپورٹ کی گئیں۔
مہاراشٹر کے سپیشل انسپکٹر جنرل آف پولیس مسٹر یاشسوی یادو کہتے ہیں کہ ’یہ ایپس بغیر کسی پریشانی کے قرضے دینے، فوری رقم کی ادائیگی کا وعدہ کرتی ہیں اور لوگ ان کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ انھیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کے فون ہیک ہو گئے ہیں، ان کا ڈیٹا چوری ہو جاتا ہے اور ان کی رازداری ختم ہو جاتی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میں کہوں گا کہ یہ ایک گھپلا ہے جو پھیل رہا ہے کیونکہ انڈیا میں بہت سے لوگ قرضوں کے اہل نہیں۔‘
انسپکٹر یادو کا کہنا ہے کہ اکثر ایپس کو چین میں سرورز کے ذریعے چلایا جاتا ہے لیکن دھوکہ دہی کرنے والے خود عام طور پر انڈیا میں موجود ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بہت سے گھپلے کرنے والوں کو ان کے بینک اکاؤنٹس اور فون نمبرز کا پتا لگا کر پکڑا گیا ہے لیکن ایک دھوکہ باز جس سے بی بی سی نے بات کی، اس نے کہا کہ ’ایپس کے بانی یا ہم جیسے لوگ جو ان کے لیے کام کرتے ہیں، کا سراغ لگانا بہت مشکل ہے کیونکہ ہم موبائل نمبر حاصل کرنے کے لیے تمام جعلی کاغذات کا استعمال کرتے ہیں۔‘
’ہم پورے انڈیا میں کام کرتے ہیں۔ ہم میں سے زیادہ تر کے پاس کام کرنے کے لیے کوئی مقررہ جگہ نہیں۔ مجھے صرف لیپ ٹاپ اور ایک فون کنیکشن کی ضرورت ہے۔ میرے جیسے ایک آپریٹر کے پاس گاہک کو دھمکیاں دینے کے لیے 10 سے زیادہ نمبر ہوتے ہیں۔‘
اس شخص نے ہمیں بتایا کہ انھیں ’سادہ اور ضرورت مند‘ افراد کو تلاش کرنے کی تربیت دی جاتی ہے، جنھیں پھر ان کی مانگ کا نصف قرض دیا جاتا ہے۔ پھر جیسا کہ راج کے معاملے میں ہوا جعل ساز مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کی رقم کو تین گنا واپس کیا جائے۔
اگر متاثرہ شخص رقم ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو فوری طور پر ڈالا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
’اگر میں نے قرضہ واپس نہ کیا تو وہ میرا گردہ نکال لیں گے‘
آن لائن فراڈ کا اگلا نشانہ کہیں آپ تو نہیں!
فون کے ذریعے ہونے والی دھوکہ بازی سے نمٹنا اتنا مشکل کیوں ہے؟
اس سکیمر نے ہمیں بتایا کہ ’پہلا مرحلہ ہراساں کرنا ہوتا ہے۔ پھر دھمکیاں دینا۔ پھر اصل کھیل اس شخص کو بلیک میل کرنے کا شروع ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ شرم اور خوف کے مارے حکام کے پاس نہیں جاتے ہیں۔‘
بی بی سی نے متاثرین کو بھیجے گئے پیغامات دیکھے ہیں۔ ان میں خاندان اور دفتر کے ساتھیوں کو متاثرہ فرد کے قرضوں کے بارے میں بتانے کی دھمکیاں شامل ہیں لیکن کچھ دھمکیاں زیادہ سفاک ہیں، جن میں متاثرہ شخص کی تصویر کا استعمال کرتے ہوئے فحش ویڈیوز بنانے اور تقسیم کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
حکومت نے قرض کا فریبی نیٹ ورک چلانے والوں کو ختم کرنے کے لیے کچھ کوششیں کی ہیں۔ پچھلے سال مئی میں حکومت نے گوگل پر زور دیا کہ وہ اپنے پلے ایپ اسٹور میں دستیاب ایپس کا جائزہ لے۔
گوگل ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے کیونکہ انڈیا میں سمارٹ فون رکھنے والے تمام صارفین کے پاس گوگل کا آپریٹنگ سافٹ ویئر ہوتا ہے، جسے اینڈروئیڈ کہا جاتا ہے اور لوگ اس کی ایپ سروس پلے کا استعمال کرتے ہیں۔
لیکن جب ان کی اس طرح کی خدمات کو بند کر دیا جاتا ہے تو دھوکے باز اور جعل ساز کہیں اور چلے جاتے ہیں اور اپنا اشتہار دینے کے لیے سادہ ٹیکسٹ میسجز کا استعمال کرتے ہیں۔
ڈیجیٹل قرض دینے کے اپنے مطالعہ کے بعد آر بی آئی نے حکومت سے کہا کہ وہ غیر قانونی قرضوں کو روکنے میں مدد کے لیے نئی قانون سازی کرے۔ اس ضمن میں آر بی آئی کی ایک مرکزی ایجنسی شامل ہے جو ایسی ایپس کی تصدیق کر سکتی ہے۔
توقع ہے کہ حکومت آنے والے ہفتوں میں اس کے متعلق جواب دے گی لیکن کوئی بھی نیا اصول کچھ لوگوں کے لیے بہت دیر سے آئے گا جیسا کہ کورگاونکر کے معاملے میں نظر آتا ہے۔
اہلخانہ کے مطابق سندیپ کورگاونکر نے 4 مئی کو خود کشی کر لی تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ انھیں لون سکیمرز کی طرف سے دھمکیاں مل رہی تھیں اور انھیں ہراساں کیا جا رہا تھا۔
ان کے بھائی دتاتریہ کا کہنا ہے کہ سندیپ نے تو قرض بھی نہیں لیا تھا اس نے صرف ایپ ڈاؤن لوڈ کی تھی۔
اس کے فوراً بعد ایجنٹس نے سندیپ کے ساتھ کام کرنے والے ان کے ساتھیوں کو فون کرنا شروع کر دیا اور بتایا کہ ان پر قرضہ ہے۔
انھوں نے سندیپ کی تصویر کے ساتھ چھیر چھاڑ کی اور ان کی عریاں تصاویر بنا کر ان کے 50 ساتھیوں کو بھیج دیںآ
دتاتریہ کہتے ہیں کہ پولیس میں شکایت درج کرانے کے بعد بھی ہراساں کرنے کا سلسلہ بند نہیں ہوا۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اس کی زندگی جیتے جی جہنم بن گئی تھی، وہ نہ سو سکتا تھا اور نہ کچھ کھا سکتا تھا۔‘
پولیس اب معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

