بخش دیجیے، قبل اس کہ، آپ کی بخشش کی دعا کی جائے


جی ہاں! ”بخش دیجیے جانے والے کو “

کہ وہ اپنے ساتھ یہی اعمال ہی تو لے کر گیا ہے۔ جو وہ اعمال جو وہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں یعنی اپنے اعضا و جوارح و علم و عمل سے انجام دیتا رہا۔ جو ہم آپ سب انجام دے رہے ہیں اچھے یا برے۔ ہم بھی فقط یہی لے جائیں گے بقول شاعر

”سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ“
یہی بوجھ لدا ہو گا۔ باقی سب یہیں اسی فانی دنیا میں رہ جائے گا۔

”ڈاکٹر عامر لیاقت حسین“ کی تمام زندگی کا سفر ہم سب کے سامنے ہے۔ نعمتوں کا ملنا، ان کا چھن جانا، عروج اور زوال کی عبرتناک کہانی ہم سب کے سامنے ہے۔ اور یہ کوئی پہلی کہانی نہیں۔ بلکہ یہ کوئی پہلا کردار نہیں۔ کہانی تو کب سے لکھی جا رہی ہے۔ کردار ایک ایک کر کے رخصت ہو رہے ہیں۔ ہم اور آپ بھی اسی کہانی کے اندر ہیں۔ ہمارے کردار بھی کہیں نہ کہیں کہانی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ ہاں کوئی کردار پورا باب بن جاتا ہے، اور کوئی چند سطروں تک محدود رہتا ہے۔ لیکن یہ تو دیکھیے کہ اپنے کردار کا تعین، کہانی میں اپنا رول کیسے کب اور کہاں کرنا ہے یہ ہمارے اور آپ کے ہاتھ میں مکالمہ سے لے کر ادائیگی تک ہے۔ لیکن فقط اس وقت تک ہے ہو گا۔ تک سانس چل رہی رہی ہے۔ کردار کو کہانی میں کب داخل ہونا اور کب کہانی سے نکل جانا ہے یہ ہمارے ہاتھ میں نہیں۔

”ڈاکٹر عامر لیاقت حسین“ اپنی کہانی کا اختتامیہ بھی اپنی آخری دنوں کی ویڈیو میں کہہ گئے۔ اب وہ اپنا اچھا یا برا کردار ادا کر کے رخصت ہوئے۔ کہانی کے اختتام کا المیہ یہ ہے کہ کردار کا نام تک چھن جاتا ہے۔ کچھ بھی تو نہیں رہتا۔ کوئی نہیں کہے گا ”ڈاکٹر عامر لیاقت دفن ہو گئے“

تخاطب کے انداز بدل جاتے ہیں۔ میت آ گئی، مردہ نہلا دیا گیا، میت کا غسل و کفن ہو گیا، جنازہ تیار ہے، نماز جنازہ ہو گئی میت کی تدفین ہو گئی ”

یہ ہے کہانی کے ہر کردار کا انجام۔ میرا اور آپ کا بھی۔ ہماری اور آپ کی کہانی جاری و ساری ہے۔ کبھی سوچا کہ ہم کیا لکھ رہے ہیں اور کیا لے کر جائیں گے؟

لیکن ہم کیوں سوچیں۔ ہمیں تو میمز بنانے اور لوگوں کی ذاتی زندگی کی راکھ کریدنے سے فرصت نہیں ہے۔ ہمیں کوئی نہ کوئی ہدف چاہیے۔ زندگی تو زندگی ہے بعد از موت بھی ہمارا کردار من حیث القوم مثالی رہا ہے۔ ایک ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی موت پر ہی نہیں منحصر ہے۔ زندگی میں تو معاملات چل ہی رہے ہوتے ہیں لیکن ہم ایسے منتقم مزاج ہیں کہ بعد از مرگ بھی نہیں چھوڑتے یہ سوچے بغیر کہ ہم بھی کہانی کا محض کردار ہی تو ہیں۔ ہماری پرفارمنس کی بنیاد پر ہمارے کردار کی کامیابی و ناکامی کا تعین بھی تو ہو گا۔

انسان خطاؤں کا پتلا ہے۔ ہم سب اپنے اپنے کردار کے ذمے دار ہیں۔ کردار اچھے ہوں گے تو کہانی خود خوبصورت موڑ لیتی ہوئی آگے بڑھتی چلی جائے گی تاوقتیکہ کہ ہمارا کردار ختم ہو اور کہانی کا ہم سے منسلک باب خوش اسلوبی سے اختتام کو پہنچے۔

کہانی کے کردار کو خوبصورتی اور خوش اسلوبی سے نبھانا ہی تو ہماری ذمے داری ہے۔ اور کون نہیں جانتا کہ کہانی کے خوبصورت کردار ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ان کی زندگی میں لوگ ان سے ملنے کو بے قرار دیتے ہیں اور مرنے کے بعد ہر آنکھ اشکبار ہوتی ہے۔ دل اور دعا میں زندہ رہتے ہیں۔ سو دل اور دعاؤں میں زندہ رہنے کے لیے اپنا کردار خوش اسلوبی اور خوبصورتی سے نبھائیے۔ بخش دیجیے جانے والوں کو قبل اس کہ آپ کی بخشش کی دعا کی جائے۔ زندہ رہیے اور زندہ رہنے دیجیے۔

Facebook Comments HS