یہ کتوں کو ٹہلانے والے

روزانہ صبح سویرے جب مرتجز کو اسکول کی بس میں سوار کرانے کے لیے نکلتی ہوں تو سب سے پہلے ڈھیر سارے خوبصورت رنگ برنگی نسل کے کتوں اور ان کے مالکان کا سامنا ہوتا ہے۔ مسکراہٹ اور صبح کے سلام کے تبادلے کے ساتھ۔ سب سے پہلے ایمی نظر آتی ہے اور بار بار نظر آتی ہے کیونکہ وہ وہیں مارننگ واک کرتی ہے اس کے پاس بہت منا سا گھونگریالے بالوں والا پپی ہے۔ پہلے دن اس نے

Read more

آئیے خدا کی تقسیم پر راضی ہو جائیں

ہم سب نے خدا کو اپنی اپنی عقلوں کے مطابق محدود کر دیا ہے تقسیم کر دیا ہے زیادہ تر نے خدا کو خوف کی علامت اور جنت اور جہنم بانٹنے والا ہی سمجھا ہے۔ خوف خدا کی بہت غلط تفہیم بچپن دے ذہنوں میں بٹھا دی جاتی ہے۔ بچپن سے ہی اللہ ناراض ہو گا، جہنم میں جھونکے جاؤ گے، آگ میں ڈالا جائے گا، قبر پیسے کی وغیرہ وغیرہ کے الفاظ سے بچوں کو ڈراوا دیا جاتا ہے

Read more

اگلے جنم موہے بٹیا ہی کیجو – بیٹیوں کے عالمی دن پر

رضا نقوی کا شعر ہے عجیب لوگ ہیں باغ فدک کے قصے کو سنا کے روتے ہیں بیٹی کا حق نہیں دیتے گو کہ یہ شعر ایک تاریخی اور مسلکی پس منظر رکھتا ہے لیکن کھرا اور سچا شعر ہے کہ تاریخ کے الجھے دھاگوں میں باریک بینی سے چھان بین کر کے مناظرے اور مباحثے کرنے والوں سے لے کر ہر مکتب فکر کے مسلمان من حیث القوم مشترکہ طور پر بیٹیوں کے معاملے میں تقریباً ایک جیسے رویے

Read more

طلاق ناحق قتل ہونے سے بہتر ہے

جی ہاں! نور مقدم کا وحشت ناک قتل اور اب سارا کا بھیانک انجام۔ ظاہر جعفر اور شاہنواز۔ نام بدل جاتے ہیں۔ چہرے بدل جاتے ہیں لیکن کہانی کے کردار نہیں بدلتے۔ کہانی دوہرائی جاتی ہے۔ متواتر دوہرائی جاتی ہے، دہرائی جا رہی ہے اور اسی طرح دہرائی جاتی رہے گی۔ کہانی کوئی نئی بھی نہیں۔ صدیوں سے اس پدر سری معاشرے کا حصہ ہے۔ یہ مادر زاد منافق معاشرہ ہے جہاں کہیں بھی توازن نہیں ہے یہ مردہ معاشرہ

Read more

بیٹیاں تو سانجھی ہوتی ہیں

لیجیے۔ قوم کو ٹوپی پہنانے کے لیے دعائے زہرا اور اس کے نام نہاد شوہر کے انٹرویو کی صورت میں ایک نیا ڈرامہ ضمیر فروش یو ٹیوبرز کے ذریعے پیش کیا گیا لیکن ڈرامے کے ہدایت کار کو نہیں اندازہ کہ یہی ان کی فاش غلطی ہے۔ اس معاملے میں پوری قوم بیدار ہے۔ ہر صاحب اولاد اور باضمیر فرد کا دل اور دعائیں دعائے زہرا کے والدین کے ساتھ ہیں۔ لڑکی کا بار بار بدلتا بیان، اس کے چہرے

Read more

بخش دیجیے، قبل اس کہ، آپ کی بخشش کی دعا کی جائے

جی ہاں! ”بخش دیجیے جانے والے کو “ کہ وہ اپنے ساتھ یہی اعمال ہی تو لے کر گیا ہے۔ جو وہ اعمال جو وہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں یعنی اپنے اعضا و جوارح و علم و عمل سے انجام دیتا رہا۔ جو ہم آپ سب انجام دے رہے ہیں اچھے یا برے۔ ہم بھی فقط یہی لے جائیں گے بقول شاعر ”سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ“ یہی بوجھ لدا ہو گا۔ باقی

Read more

دعائے زہرا کیس: ہماری عدلیہ کو بالغ ہونے کی ضرورت ہے!

خوف، وحشت، تاسف، حیرانی، اور سراسیمگی کے بہت واضح تاثرات دعائے زہرا کی آنکھوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ جیسے ہرنی جنگل میں شکاریوں کے درمیان گھر جائے اور ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو۔ لیکن عقل اور آنکھوں پہ پردے پڑے ہوں تو بس سیاہ رنگ ہی نظر آتا ہے۔ یہاں بصارت سب کے پاس ہے لیکن بصیرت سے عاری ذہن اور نگاہیں رکھتے ہیں۔ کیونکہ ہم ایک بے حس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں

Read more