بابر اعظم کیریئر کی بلندیوں پر: ’ایسے ریکارڈز تو صرف سر ڈان بریڈمین کے ہوتے تھے، لیکن وہ ایک مختلف دور تھا‘


103, 105*,114، 57 ، 158۔ یہ اعداد و شمار بابر اعظم کی آخری پانچ اننگز کے ہیں۔ پانچ اننگز میں چار سنچریاں اور اس کے درمیان ایک اور اننگز جس میں وہ صرف 57 رنز بنا سکے۔

بابر اعظم اس وقت اتنی زبردست فارم میں ہیں کہ ان کی نصف سنچری بھی ناکام اننگز لگتی ہے۔ ایسے ریکارڈز تو صرف سر ڈان بریڈمین کے ہوتے تھے، لیکن وہ ایک مختلف دور تھا۔ بابر اعظم کا اکثر ویراٹ کوہلی سے موازنہ کیا جاتا ہے جن کے ریکارڈ وہ اب توڑ رہے ہیں۔

سال 2019 میں جب ایک صحافی نے جب بابر اعظم کی شاندار اننگز کے بعد ان کا موازنہ ویراٹ کوہلی سے کیا تو بابر اعظم نے کہا : ‘یہ موازنہ مناسب نہیں ہے، میں تو عام سا کھلاڑی ہوں، کوہلی لیجنڈ ہیں۔‘

بابر اعظم

بابر اعظم

بابر اعظم جس کی فطرت میں انکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، وہ آج بھی کوہلی کے ساتھ موازنہ کو بے معنی ہی کہیں گے، لیکن اگر کوئی اور کھلاڑی مسلسل کسی کھلاڑی کا عالمی ریکارڈ توڑنا شروع کر دے تو بحث بھی ہوگی اور موازنہ بھی ہوگا۔

بابر اعظم نے بدھ کو ویسٹ انڈیز کے خلاف سنچری سکور کی۔ بابر اعظم نے ویسٹ انڈیز کے 305 رنز کے جواب میں 107 گیندوں پر 103 رنز بنائے اور پاکستان کو 5 وکٹوں سے فتح دلائی۔ بابر اعظم کی یہ مسلسل تیسری سنچری تھی۔ اس سے قبل انھوں نے آسٹریلیا کے خلاف مسلسل دو سنچریاں سکور کی تھیں.

یہ دوسری بار ہے جب بابر نے مسلسل تین سنچریاں سکور کی ہیں۔ اس سے قبل وہ 2016 میں مسلسل تین سنچریاں سکور کر چکے ہیں۔ بابر اعظم کے نام دو بار لگاتار تین سنچریاں بنانے کا ریکارڈ بن گیا ہے۔

ویراٹ کوہلی

بابر اعظم کا موازنہ بھارتی سٹار کرکٹر ویراٹ کوہلی سے کیا جاتا ہے

بطور کپتان تیز ترین ایک ہزار رنز کا ریکارڈ بھی ویراٹ کوہلی کے نام تھا جنھوں نے یہ کارنامہ 17 اننگز میں سر انجام دیا۔ بابر اعظم کو یہاں تک پہنچنے میں صرف 13 اننگز لگیں۔ بحیثیت کپتان بابر اعظم نے 13 اننگز میں 91.36 کی اوسط اور 103 کے سٹرائیک ریٹ سے 1005 رنز بنائے ہیں۔

عظیم بیٹسمین ڈان بریڈمین نے اپنے سارے کیریئر میں نوے سے زیادہ کی اوسط سے رنز بنائے۔ بابر پچھلے کچھ سال سے نوے سے زیادہ کی اوسط سے رنز بنا رہے ہیں۔

بابر اعظم کی شاندار بیٹنگ انھیں ون ڈے کرکٹ کی آئی سی سی رینکنگ میں پہلے نمبر پر لے آتی ہے۔ وہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں بھی پہلے نمبر پر ہیں۔

حال ہی میں ایک کرکٹ شو میں جب سابق پاکستانی کرکٹر عاقب جاوید سے پوچھا گیا کہ وہ ویراٹ کوہلی اور بابر اعظم میں کس کو بہتر سمجھتے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ دونوں کھلاڑیوں میں یکساں ٹیلنٹ ہے۔ جبکہ بابر اعظم اپنی کارکردگی کے عروج پر ہیں، کوہلی کا عروج سے نیچے آنے کا وقت آ گیا ہے۔ اب وہ اس طاقت کے ساتھ بیٹنگ نہیں کر رہے ہیں جس کے لیے وہ جانے جاتے ہیں۔

عاقب جاوید کے بیان میں بھی سچائی نظر آتی ہے اگر ہم اس حقیقت کو دیکھیں کہ نومبر 2019 کے بعد سے کوہلی نے کوئی سنچری نہیں بنائی۔

یہ بھی پڑھیئے

بابر اعظم کی ‘بادشاہت’ کا جشن

بابر اعظم پہلی بار دس بہترین بلے بازوں میں شامل

لیکن بابر اعظم سر اٹھا کے جیے۔۔۔

ویراٹ کوہلی نے 22 نومبر 2019 کو،کلکتہ کے ایڈن گارڈنز میں بنگلہ دیش کے خلاف سنچری بنائی۔ لیکن اس کے بعد 71 بین الاقوامی اننگز کھیلنے کے بعد بھی وہ سنچری کو ترس رہے ہیں۔

اگر آپ ون ڈے میں دونوں کی اوسط کا موازنہ کریں تو زیادہ فرق نظر نہیں آتا۔ کوہلی کی ون ڈے اوسط 58.07 ہے جبکہ بابر اعظم کی ون ڈے اوسط 59.78 ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں بطور کپتان ویراٹ کوہلی کے نام کئی ریکارڈز ہیں جن میں بابر اعظم بہت پیچھے ہیں۔

بطور کپتان انھوں نے 113 اننگز میں 54.80 کی اوسط سے 5864 رنز بنائے ہیں۔ بطور کپتان، کوہلی نے 20 سنچریاں اور 19 نصف سنچریاں بھی سکور کی ہیں۔ انھوں نے بطور کپتان سات ڈبل سنچریاں بھی سکور کی ہیں اور وہ ایسا کرنے والے دنیا کے واحد کپتان ہیں۔

یہ وہ اعداد و شمار ہیں جن میں بابر اعظم ابھی بہت پیچھے ہیں۔

اگر آپ دونوں بلے بازوں کے شاٹس کا موازنہ کریں تو زیادہ فرق نظر نہیں آئے گا۔ کوہلی کی طرح بابر نے بھی اپنی ٹیم کو فتح کا راستہ دکھایا ہے۔ لیکن جہاں کوہلی نے ایک عالمی فاتح ٹیم کی قیادت کی ہے جو کبھی ہار نہیں مانتی، بابر ایک نوجوان ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں جو ایسا لگتا ہے کہ جیتنا سکھا رہی ہے۔

کوہلی جس طرح ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے فتوحات دلاتے ہیں وہ بابر اعظم کے لیے بھی بڑا سبق ہے۔ کوہلی کی حالیہ اوسط درجے کی فارم کے بارے میں ہر جگہ بات ہو رہی ہے لیکن ان کے قریبی لوگ جانتے ہیں کہ وہ اپنی شاندار فارم سے صرف ایک اننگز دور ہیں۔ کامیابی کی خواہش انھیں ایک منفرد کھلاڑی بناتی ہے اور پھر بھی اسے ہلکا لینا بہت بڑی غلطی ہو گی۔

कोहली और बाबर

ویراٹ کوہلی کے نام اب بھی کئی ریکارڈز ہے، جیسے تیز ترین 8000 رنز، 9000 رنز، 10000 رنز، 12000 رنز، کا ریکارڈ ان کے کھاتے میں ہے۔

یہ وہ ریکارڈز ہیں جنھیں اگر بابر اعظم توڑ سکتے ہیں تو شاید وہ جدید کرکٹ کے کامیاب ترین بلے باز کے طور پر پہچانے جائیں گے۔

یہ دونوں اپنے دور کے بہترین کھلاڑی ہیں۔ ہاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف نے حال ہی میں کہا تھا کہ مجھے کوہلی اور اعظم دے دو اور باقی نو کھلاڑی چاہے لکڑی کے ہی کیوں نہ ہوں میں ورلڈ کپ جیت لوں گا۔ واقعی بابر اعظم اور کوہلی ایسے کھلاڑی ہیں جنھیں ہر کوئی اپنی ٹیم میں رکھنا چاہے گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26018 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments