غذائی نظام میں بڑی تبدیلی کی ضرورت


غذائی تحفظ کو بہتر بنانے کے لئے موثر زرعی خوراک کی پالیسیاں اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانا انتہائی ضروری اقدام تصور کیا جاتا ہے۔ بھوک اور غذائی قلت انسانیت کو درپیش سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔ ایک شخص کا محفوظ خوراک حاصل کرنا اس کا بنیادی حق تسلیم کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس صحت مند اور اپنی غذائی ضروریات اور ترجیحات کو پورا کرنے کے لئے محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک حاصل کرنے کا جسمانی، سماجی اور معاشی امکان ہو۔

فعال زندگی کے لئے غذائی تحفظ کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی فوری ضرورت ناگزیر رہتی ہے۔ کئی دہائیوں سے بھوک کے شکار لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، 2015 کے بعد اس میں مسلسل اضافہ ہوا، موجودہ اندازوں کے مطابق قریبا 690 ملین افراد بھوک کا شکار ہیں یا 8.9 فیصد دنیا کی آبادی۔ ایک اندازے کے مطابق ایک برس میں 10 ملین افراد اور پانچ برسوں میں قریبا 60 ملین افراد غذائی قلت کا سامنا کرتے ہیں، 2030 تک غذائی قلت پر قابو پانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا لیکن اس میں کامیابی کے امکانات نظر نہیں آتے بلکہ اب خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ 2030 تک بھوکے افراد کی تعداد 840 ملین سے تجاوز کر جائے گی۔ بالخصوص وبائی امراض کے بعد سے یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، ورلڈ فوڈ پروگرام کے اعداد و شمار کے مطابق 2020 کے آخر تک 135 ملین افراد شدید غذائی عدم تحفظ کے خطرے سے دوچار ہوئے۔

دنیا کے ایک چوتھائی سے زیادہ افراد فاقہ کشی کے دہانے پر ہیں، سب سے خطرناک خطوں میں غذائی قلت کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، عالمی خوراک اور غذائی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے تاکہ 820 ملین لوگوں کو غذائی قلت کے بحران سے نکالا جا سکے، جو کہ 2050 میں دو بلین افراد تک پہنچ سکتی ہے، زرعی پیدا واری صلاحیتوں میں اضافہ اور غذائی قلت کے مسئلے کو کم کرنے کے لئے خوراک کی پیداوار کے پائدار نظام کو بنانا انتہائی ضروری خیال کیا جاتا ہے۔

دنیا میں ہر 9 میں ایک شخص غذائی قلت کا شکار ہے، دنیا میں غذائی قلت کی اکثریت ترقی پذیر ممالک میں رہتی ہے جہاں کی 12.9 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے۔ ایشیا دنیا کا وہ براعظم ہے جہاں سب سے زیادہ غذا کی کمی کا شکار افراد رہتے ہیں، ایک اندازے کے مطابق 281 ملین افراد غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ہر سال 3.1 ملین سے کم عمر بچوں کی قریبا نصف ( 45 فیصد) اموات غذائی قلت کے باعث ہوئی، دنیا میں ہر چار میں سے ایک بچہ نشوونما میں کمی کا شکار ہے، ترقی پذیر ممالک میں یہ تناسب تین میں سے ایک تک ہو سکتا ہے، ترقی پذیر ممالک میں پرائمری سکول کی عمر کے 66 ملین بچے کلاس میں بھوکے رہتے ہیں۔

صرف افریقہ میں یہ تعداد 23 ملین بتائی جاتی ہے۔ یونیسیف نے کہا ہے کہ بچوں کو جو طبی لحاظ سے ضروری تیار غذا مہیا کی جاتی ہے اس کے اجزاء کی قیمتیں خوراک کے اس عالمی بحران کی وجہ سے ایک دم بڑھ گئی ہیں۔ بچوں کے عالمی ادارے کا مزید کہنا ہے کہ آئندہ چھ ماہ میں 600,000 بچے مونگ پھلی، تیل، شکر اور دیگر ضروری غذائی اجزاء کی عدم فراہمی کے باعث علاج کی کئی سہولتوں سے محروم رہ سکتے ہیں۔

دنیا کا سب سے بڑا روزگار فراہم کرنے والا شعبہ زراعت ہے، یہ موجودہ دنیا کا 40 فیصد آبادی کا ذریعہ معاش ہے اور غریب دیہی گھرانوں کی آمدنی اور روزگار کا بنیادی ذریعہ ہے۔ 500 ملین چھوٹے فارم ترقی پذیر ممالک میں استعمال ہونے والی خوراک کا 80 فیصد فراہم کرتے ہیں۔ سرمایہ کاری غریب ترین لوگوں کی غذائی تحفظ اور غذائیت کو بہتر بنانے اور مقامی و عالمی منڈیوں کے لئے خوراک کی پیداوار بڑھانے کا ایک اہم طریقہ ہے۔

1900 کی دہائی سے قریبا 75 فیصد فصلی تنوع کسانوں کے کھیت سے غائب ہو گیا ہے، زرعی حیاتیاتی تنوع کا بہتر استعمال، زیادہ غذائیت سے بھرپور خوراک، کاشت کاروں کے لئے بہتر معاشی نظام کو از سرنو تشکیل دینے کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ اگر دیہی خواتین کو زمین، ٹیکنالوجی، معاشی خدمات، تعلیم اور بازاروں تک مردوں کی طرح سائی دی جائے تو بھوک کے شکار لوگوں کی تعداد 150 ملین سے کم ہو کر 100 ملین ہو سکتی ہے۔ اسی طرح 1.4 بلین لوگ اب بھی بجلی تک رسائی نہیں رکھتے، اب میں زیادہ تر ترقی پذیر ممالک کے دیہی علاقوں میں رہتے ہیں، بہت سے خطوں میں توانائی کے ذرائع کی کمی کی وجہ سے غربت میں اضافہ اور خوراک کی کمی کے مسائل ہیں، جنہیں مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے درکار خوراک پیدا کرنے میں ایک بنیادی رکاؤٹ تصور کیا جاتا ہے۔

اگر غذائی تحفظ کو حاصل کرنا ہے تو غریبوں کی قوت خرید کو بڑھانا اور ترقیاتی مسائل کو حل کرنا ضروری ہے لیکن یہ بھی لازم ہے کہ جہاں درکار ہو اس بات کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کیے جائیں کہ آمدنی میں اضافہ ہی غذائیت کو بہتر بنانے کے لئے معاون ثابت ہو سکتا ہے، جس کا واضح مطلب خاص طور پر صحت، تعلیم اور غذائی کمی کو دور کرنے کے لئے حوصلہ افزائی، حکومتی اور این جی اوز کی سطح پر ضروری تصور کی جاتی ہے۔ حکومت اور غیرسرکاری حلقوں کی جانب سے زرعی پالیسیوں میں خوراک کی پیداوار بڑھانے اور خوراک کی حفاظت کو بہتر بنانے کے لئے ترجیحات اپنانے کی ضرورت ہے، زرعی منڈیوں میں حکومتی مداخلت (سبسڈی یا برآمدی پابندیوں کی شکل میں ) اکثر اہم اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے کا موجب بن جاتی ہے، جس سے غریب گھرانوں کو خوراک کی مناسب فراہمی میں نقصان پہنچتا ہے، اس کے علاوہ ایسے کسان بھی پائے جاتے ہیں جو ان کے خالص صارفین ہیں، اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام ہونے کے علاوہ امدادی اقدامات سے عوامی وسائل کو دوسری کوششوں سے حل کیا جاسکتا ہیجو درحقیقت فوڈ سیکورٹی کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔

دیہی انفراسٹرکچر اور اسٹوریج کی سہولیات کی تعمیر، تربیتی سرگرمیاں اور زرعی مشاورتی خدمات میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے آگاہی فراہم کرنا ضروری خیال کیا جاتا ہے کیونکہ اس پر عمل کرنے سے خوراک کی پیداوار میں اضافے اور دستیابی کو بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے، زرعی شعبے میں لچک پیدا کرنے اور رسک مینجمنٹ کے قابل مضبوط اور موثر نظام کا ہونا بھی ضروری خیال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ قومی اور عالمی سطح پر غذائی تحفظ کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے بھی غذائی پیداوار بری طرح متاثر ہو رہی ہے بالخصوص گندم کی فصل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔

دنیا بھر میں گندم کے ذخائر میں کمی واقع ہوئی ہے اور ان حالات میں گندم پیدا کرنے والے ممالک کو بھی غذائی قلت کا سامنا ہے۔ غذائی قلت سے نہ صرف قیمتیں بڑھ رہی ہیں بلکہ بھوک کا شکار ہونے والے لوگوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے، اگر اس کا جلد متبادل تلاش نہیں کیا جاتا تو اس کے بعد کھانے کی مقدار جہاں کم ہوگی وہاں فاقہ کش افراد کی تعداد لاکھوں میں بڑھتی چلی جائے گی۔ ترقی پذیر ممالک کے لئے اناج پر انحصار کا مطلب درآمدات پر انحصار کرنا ہے، جس کے واضح معنی معاشی طور پر استحکام کا ہونا بھی ضروری ہے تاکہ اس کی ادائیگیاں بھی کی جاسکیں، اس وقت گندم برآمد کرنے والے بعض ممالک نے قیمتوں میں اضافے کے ساتھ اناج کی بیرون ملک فروخت پر پابندی بھی عائد کی ہوئی ہیں تو دوسری جانب روس۔

یوکرین جنگ کی وجہ سے دنیا کو بڑھتی قیمتوں کے ساتھ بدترین غذائی بحران کا سامنا بھی ہے۔ کیونکہ خطے میں بڑے زرعی برآمد کنندہ ممالک ہیں، لیکن سپلائی کی محفوظ فراہمی میں دشواریوں سے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے حکومت مستقل پالیسیوں پربھی مکمل توجہ نہیں دے پاتی۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کے 50 فیصد اناج کا ذخیرہ صرف چین میں ہے اور دوسرا بڑا زرعی ملک بھارت ہے۔ دیگر حکومت کو موثر حکمت عملی کے لئے سوچ بچار کرنا ہوگی کہ غذائی قلت کے بحران کو کس طرح مساوی بنیادوں پر حل کیا جاسکتا ہے۔

Facebook Comments HS