ہم اور ہماری آزادی


 

پاکستانی تاریخ کے مطابق ہر سال 14 اگست کو یوم آزادی منایا جاتا ہے۔ قوم کا بچہ بچہ ہاتھ میں جھنڈیاں لیے گھروں کو سجاتا ہے اور اس کی زبان پر آزادی کے نعرے اور پاکستان کے لیے نغمے ہوتے ہیں۔ اس دن کو پورے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ اور جب کسی سے اس خوشی کا مقصد پوچھا جائے تو یہ بتایا جاتا ہے کہ 14 اگست 1947 ء کو پاکستان آزاد ہوا تھا لیکن کوئی یہ نہیں جانتا کہ یہ آزادی حقیقی ہے یا صرف نام کی۔ ہمیں جیسا مطالعہ پاکستان میں بتا دیا جاتا ہے ہمارا یہ عمل ہوتا ہے کہ اس پر اندھے دن یقین کیا جائے۔

کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ کیا ہم آزادی کے اصل معنی کے مطابق آزاد ہیں یا نہیں؟
کیا یہ آزادی ہمیں اجازت دیتی ہے کہ ہم اپنی مرضی کے مطابق اپنی زندگی بسر کر سکیں؟

نہیں! ہم ایسا نہیں کر سکتے کیوں کہ ہم صرف نام کے آزاد ہیں۔ ہمارے بڑوں، ہمارے ملک کے عظیم لوگوں نے بہت سی قربانیاں دے کر الگ وطن تو حاصل کر لیا لیکن ابھی بھی ہم خود کو مکمل طور پر آزاد نہیں کہہ سکتے ہم سمجھتے ہیں کے ہم ایک الگ وطن میں رہ رہیں ہیں تو ہم آزاد ہیں۔

نہیں بالکل بھی نہیں!
کیا ہم الگ وطن میں رہ کر اپنی مرضی کے مطابق تعلیم حاصل کر رہیں ہیں؟
کیا ہمارا تعلیمی نصاب ہم نے خود طہ کیا ہے؟
کیا یہاں نوآبادیاتی نظام نہیں پایا جاتا؟

آزادی صرف یہ نہیں کے ہم الگ وطن میں رہ رہیں ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق کھا پی رہیں ہیں۔ نہ تو ہمارے پاس اپنا تعلیمی نصاب ہے، نہ ہی ہم نو آبادیت سے بچے ہوئے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کو ملک چلانے کے لیے دوسرے ممالک کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے ان سے قرض لینا پڑتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی شرائط کا احترام بھی کرنا پڑتا ہے ان کے بنائے ہوئے پروپیگنڈے کو بروے کار بھی لایا جاتا ہے۔ اور جب ان کے مفادات نکل جائیں تو منہ کے بل گراتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی حکمرانی نے پاکستان پر ایسی حکومت جما لی ہے کے پاکستان چاہ کے بھی اس سے چھٹکارا نہیں پا سکتا پاکستان اس کے سامنے کٹھ پتلی بنا ہوا ہے۔ جیسے آئی ایم ایف کہے گی پاکستان کو کرنا پڑتا ہے کیوں کے ہمارا ملک اس کے قرض تلے دب چکا ہے۔

دیکھا جائے تو ملک کے سیاستدان ہی ملک سے مخلص نہیں ہیں سب اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں ہر چیز آٹا، گھی، چینی، بجلی اور باقی ضروریات کا سامان سب ان سیاستدان کے قبضہ میں ہے۔ ملک کی سیاسی قیادت اس حد تک اقتصادی پالیسیوں پر اثر انداز ہو چکی ہے کہ وہ اپنے چند مفادات کے لیے ملک و قوم کو قرض کے بوجھ تلے دبانے سے بھی نہیں ہچکچاتی۔

ملک کے سیاست دان خود کو ملک سے مخلص دکھانے کے لئے ملک کی بہتری کے نعرے لگاتے ہیں اور سرکاری طور پر یوم آزادی انتہائی شاندار طریقے سے مناتے ہوئے اعلیٰ عہدہ دار اپنی حکومت کی کامیابیوں اور بہترین حکمت عملیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے عوام سے یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے تن من دھن کی بازی لگا کر بھی اس وطن عزیز کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھیں گے اور ہمیشہ اپنے رہنما قائد اعظم محمد علی جناح کے قول ”ایمان، اتحاد اور تنظیم“ کی پاسداری کریں گے لیکن حقیقت میں ان کی وفاداری کا کوئی عمل نظر نہیں آتا۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو ہمیں اپنے ملک و قوم کی مکمل آزادی اور بہتری کے خواب دیکھنے چھوڑنا ہوں گے اور ہاتھ پہ ہاتھ دھرے اپنی قسمت کو کوسنا ہو گا۔

ضرورت اب اس امر کی ہے کہ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا ہم اصل آزادی چاہتے ہیں یا اسی آزادی میں خوش ہیں اور ہم یہ آزادی کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ آزادی individually نہیں ہونی چاہے بلکہ پورے ملک و قوم کی مشترک ہو۔ ہمیں جوش و جذبے کے ساتھ ساتھ صحت محنت اور شعور کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال فرماتے ہیں :

”خدا نے آج تک اس قوم کی نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا ”

Facebook Comments HS