فرد سے افراد تک کا سفر

معاشرہ افراد سے مرکب ہوتا ہے۔ اور کسی بھی معاشرے کو فوز و فلاح، تعمیر و ترقی، کامیابی و کامرانی کی راہ پہ گامزن کرنے والے چند افراد ہی ہوتے ہیں۔ کیونکہ فرد واحد کے ذہن کا تغیر اپنے گرد و پیش میں اثر انداز ہو کر افراد کے اذہان کو متغیر کرتا ہے۔ اور پھر ان افراد کے متغیر شدہ اذہان رفتہ رفتہ سارے معاشرے کو بدل کے رکھ دیتے ہیں۔ اقبال نے بھی اسی لیے کہا تھا کہ
”افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ ”
یقیناً ہر پاکیزہ روح معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ اور اچھائیوں کا فروغ چاہتی ہے لیکن ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہر شخص معاشرے کی اصلاح کا تو خواہاں ہے، اور معاشرے کی ہر برائی اس کو برائی بھی نظر آتی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ زبان کی حد تک رہتا ہے۔ اپنی مجلسوں میں بڑے طمطراق کے ساتھ ہر برائی کی تردید بھی کی جاتی ہے اور اصلاح کے عزائم بھی بھرے جاتے ہیں۔ لیکن نجی طور پر انہی برائیوں میں ملوث ہو کر عذر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ”جی جب سب یہ کام کرتے ہیں تو ایک ہمارے نہ کرنے سے کیا ہو گا“ حالانکہ یہ بات مسلم ہے کہ ”دوسروں کی اصلاح کے لیے اپنی اصلاح ازحد ضروری ہے“ ۔
یہی وجہ ہے دنیا میں بھیجے جانے والے، اور دنیا کو تاریکی سے نکال کر اجالے برپا کرنے والے تمام پیغمبر معصوم عن الخطا تھے۔ ان سے کسی خطا کا سرزد ہونا ناممکن تھا اور با الفاظ دیگر وہ مکمل طور پر ”اصلاح یافتہ“ تھے۔ اسی لیے ان کو دوسروں کی اصلاح کا بیڑہ سونپا گیا۔ اور اس مقصد میں وہ کلی طور پر کامیاب و کامران بھی ٹھہرے۔
معاشرے سے برائیوں کے خاتمے کے لیے یہ ضابطہ بہت کارگر ثابت ہو سکتا ہے کہ معاشرے کا ہر فرد برائی کی تردید کرے اور اچھائی کی حوصلہ افزائی کرے۔ جب معاشرے کے اکثر افراد برائی کو تسلیم نہیں کریں گے تو برائی اپنی موت آپ مر جائے گی۔ اور جب اچھائی کی حوصلہ افزائی کریں گے تو اچھائی خوب پھلے گی پھولے گی۔ اسی کو بیان کرتے ہوئے مولانا ابوالحسن علی ندویؒ فرماتے ہیں کہ ”عام طور پر لوگ کسی خاص طبقہ یا چند افراد اور بعض اوقات کسی ایک فرد کو پوری سوسائٹی کی خرابی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں لیکن مجھے اس سے اتفاق نہیں میں تاریخ کے مطالعے کی بنیاد پہ کہتا ہوں کہ ایک مچھلی تالاب کو گندا کر سکتی ہے لیکن ایک فرد پوری سوسائٹی کو بگاڑ نہیں سکتا واقعہ یہ ہے کہ اچھی سوسائٹی میں برے آدمی کا گزر ہرگز نہیں ہو سکتا ۔ وہ گھٹ گھٹ کر مر جاتا ہے۔ اسی طرح جو سوسائٹی برائی کی ہمت افزائی نہیں کرتی برائی اس میں تڑپنے لگے گی اس کا دم گھٹنے لگے گا اور وہ دم توڑنے لگے گی“ ۔
اگر معاشرے کا ہر فرد اپنے آپ میں خود تبدیلی پیدا کرے اور ہر برائی کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے بچنے کی تلقین بھی کرے معاشرہ بہت جلد اصلاح کی شاہراہ پہ گامزن ہو سکتا ہے۔ ہمیں معاشرے کی اصلاح کے لیے فرد کی اصلاح سے کام شروع کرنا ہو گا۔ اور پھر فرد سے افراد اور افراد سے معاشرے تک کا سفر انشااللہ بہت جلد طے ہو جائے گا

