اقبال کا خواب اور آج کا پاکستان
آج کے پاکستان کے بارے میں کچھ لکھنے سے قبل اگر اقبال کے ”خواب“ پر روشنی ڈال لوں تو ہمیں فرق جانچنے کی آسانی ہو جائے گی۔
علامہ محمد اقبال نے 1937 ء میں قائد اعظم کو لکھے گئے ایک خط میں تحریر کیا: ”اگر ہندوستان کے مسلمانوں کا مقصد سیاسی جدوجہد سے محض آزادی اور اقتصادی بہبود ہے اور حفاظت اسلام اس جد و جہد کا مقصد نہیں تو مسلمان اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔“
علامہ اقبال نے چونکہ ہندوستان میں مسلمانوں کے زوال کے دور میں آنکھ کھولی، مسلم امہ کی پستی کو دیکھا مگر مایوس کن حالات کے باوجود ”اپنی کشت ویراں سے“ مایوس نہیں ہوئی آپ کی جاگتی آنکھیں امت کی نشاۃ ثانیہ کا خواب دیکھتی تھیں۔ علامہ اقبال نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا درحقیقت ایک اسلامی ریاست تھی جس کے لئے رول ماڈل مدینہ کی اسلامی ریاست تھی اور وہ چاہتے تھے کہ اس ریاست میں اسلامی قانون کی بالادستی قائم رہے۔
آج وزیر اعظم عمران خان بھی اسی ریاست مدینہ کا ذکر کرتے اور پاکستان میں قانون اور اداروں کی بالادستی چاہتے ہیں۔ مگر پاکستان کے قیام کے بعد بہت سی پارٹیوں نے اپنے منشور کی پہلی شقوں میں اسلامی شریعت و قانون کی بالادستی کو قرار دیا مگر وہ اپنے منشور سے پھر گئے اور شریعت پر عمل نہ ہو سکا، اسلامی قانون کے نفاذ کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل قائم کی گئی جس نے سفارشات مرتب کر کے حکومت پاکستان کو بھیج دیں مگر ان پر بھی عمل نہ ہو سکا، دور حاضر کی ضرورت ہے کہ علامہ کے خواب کو تکمیل تک پہنچا نے کے لئے پاکستان میں اسلامی قوانین کا نفاذ کیا جائے۔
ہمیں ناز اس بات پر ہے کہ پاکستان کا خواب اقبالؒ نے دیکھا اور قائد اعظم نے اس کی تعبیر کی۔ اس کے ساتھ ہی خیال آتا ہے کہ کیا آج کا پاکستان وہی پاکستان ہے جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا اور کیا اگر ان کا خواب ”آج“ کا پاکستان ہوتا تو قائد اعظم واقعی اس کی ”تعبیر“ کے لئے کوشاں ہوتے؟ فرقہ واریت کے جن کو اقبال نے ”ہنگامہ محشر“ کی وجہ قرار دیا تھا۔ آج یہی جن بوتل سے باہر نکل آیا ہے۔ آج ہم کیوں اپنی قوتیں، اپنے امکانات اس بوتل کے جن کو بند کرنے کے لئے استعمال کر نہیں پا رہے۔
مجھے اقبال کی نظم ”صدائے درد“ یاد آ رہی ہے۔ یہ نظم اس دور کی تخلیق ہے جب نہ تو پاکستان کا تصور تھا اور شاید اس وقت اقبال نے یہ خواب دیکھا بھی نہ ہو۔ لیکن آج کے پاکستان میں، جس کی زمین تشدد کے نتیجے میں بہنے والے خون سے سرخ ہو رہی ہے، فرقہ واریت کا سانپ ہمیں ڈس رہا ہے، بنیاد پرستی کے نتیجے میں تعصب کی ہوا چل رہی ہے، یہ نظم آج کے پاکستان پر حرف بحرف صادق آتی ہے۔
اگر آج علامہ اقبال زندہ ہوتے تو شاید ان کا زیادہ وقت اپنے کلام کی وضاحتیں کرنے میں ہی گزر جاتا۔ ایسی وضاحتیں جو شاید بہت سے سیاست دانوں اور مذہبی جماعتوں کے لیے بھی قابل قبول نہ ہوتی۔ ان حالات میں نجانے اپنے خواب کی تعبیر مملکت خداداد پاکستان میں بھی رہ پاتے یا نہیں؟ آج پاکستان کے سیاسی و مذہبی حالات ہر درد مند محب وطن پاکستانی کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ کتاب و سنت کے نور سے آراستہ فکر اقبال سے دوری ہے۔
ہم نے اقبالؒ کے نظریات کو بھلا کر ایک ایسی ڈگر کو اپنا لیا جس کی وجہ سے ہم اپنے مقصد سے دور ہو گئے۔ ہم نے دین اور سیاست کو جدا جدا کر دیا اور مذہب و سیاست کو ایک دوسرے کے لئے حرام قرار دیا اور ہے l بعض مذہبی رہنماؤں نے رسم شبیری ادا کرنے کی بجائے سیاست کو اپنے سے دور کر کے قوم کی مہار، وڈیروں اور جاہلوں کے ہاتھ میں تھما دی۔ اور جنہوں نے اسلامی قوم کی قیادت کی ذمہ داری سنبھالی انہوں نے پیسوں کے عوض دین فروخت کرنا شروع کر دیا۔
کیا ہم کوئی غلام ہیں کو۔ اپنے دین حقیقی کو چھوڑ کر انگریزوں کی غلامی کریں وہ غلامی جس سے نکلنے کہ لیے اقبال نے خواب دیکھا تھا۔ آج ہمارا ملک تو۔ ہمارے پاس ہے مگر اسے چلانے کا ریموٹ کسی اور کے ہاتھوں میں ہیں مسلمان قوم حکومت کرنے کے لئے بنائی گئی نہ ہے اس پر حکومت کرنے کی لیے اور افسوس تو یہ ہے کہ اقبالؒ نے جس پاکستان کا تصور پیش کیا تھا وہ پاکستان رات کی تاریکی میں کہیں گم ہو گیا ہے اور اب ہمیں اقبالؒ جیسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو ہمیں رات کی تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے آئے لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پاکستانی قوم اور حکمران اپنے آپ کو علامہ اقبال کے نظریات و تصورات کے مطابق نہ ڈھال دیں۔
اگر ہم نے حالات پر غور و خوض نہ کیا اور اپنے حالات کو سدھارنے اور اسلام کے اصولوں کے مطابق ڈھالنے کی جدوجہد نہ کی اور انقلاب بپا نہ کیا تو ملکی حالات مستقبل قریب میں اس سے بھی زیادہ خطر ناک حد تک پہنچ سکتے ہیں اور پھر کوئی بھی کچھ نہ کر سکے گا، یہ سب کچھ اپنی جگہ خوفناک ضرور ہے مگر مایوسی بندہ مومن کا شیوہ نہیں ہے۔
آج ہم اس حالت کو پہنچ چکے ہیں کہ بے یارو مددگار ہیں۔ اسلامی دنیا سے بھی کٹ کر رہ چکے ہیں اور مغربی دنیا سے بھی۔ آج مسلمانوں بالعموم اور بالخصوص پاکستانیوں کو دہشت گردی کی علامت اور فسادی سمجھا جاتا ہے اور امت مسلمہ کا تشخص اور اسلامی ریاست کا تشخص بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ اقبال کی نظم وطنیت بحیثیت سیاسی تصویر میں اس نے سیاست دانوں کی دھجیاں اڑا دی ہیں مگر افسوس مسلمان قوم۔ یک جہت ہونا نہیں چاہتی اور غفلت کی نیند سو رہے ہیں آج کے حالات میں بھی ہمیں افکار اقبال پر عمل پیرا ہونا ہو گا۔ ورنہ ہم آج بھی گھیراؤ، جلاؤ، قتل، غارت، چوری، ڈکیتی اور ایک دوسرے کو نوچنے کی سیاست کرتے رہیں گے۔ اللہ رب العزت کی بارگاہ بے کس پناہ میں دعا ہے کہ اس پاکستان کو پھر سے امن کا گہوارہ بنا جس کے لئے مسلمانوں نے اپنے مال، جانوں اور عزتوں کی قربانیاں دیں۔

