سدھو موسے والا: ایک گلو کار کا سیاسی قتل
سدھو موسے والا کا قتل ایک گلوکار کے قتل سے بڑھ کر پنجاب کے باغی کسان کی سوچ کو قتل کرنے کی وہ ناکام کوشش ہے جو گزشتہ سات دہائیوں سے حقوق طلبی پر بھارت مشرقی پنجاب کے کسانوں پر روا رکھے ہوئے ہے۔ قائد اعظم کی دور اندیشی کو داد دیجئے کہ انہوں نے برصغیر کی تیسری بڑی قوم کو ان کی اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے سکھ رہنما ماسٹر تارا سنگھ کو اپنی ریاست پنجاب کو پاکستان کے ساتھ الحاق کی دعوت دی۔ ماسٹر تارا سنگھ نے ذاتی عناد کی خاطر دعوت کو قبول نہ کر کے آئندہ تاریخ میں نا غیر شعوری طور پر پنجاب کے کسان پر ہونے والے مظالم کے لئے ایک نیا باب کھولا دیا۔
جناح صاحب کو ادراک تھا کہ یہ فیصلہ ماسٹر تارا سنگھ کا ذاتی عناد پر مبنی فیصلہ ہے لہذا جناح صاحب نے اس کے بعد پٹیالہ کے مہاراجہ سے بھی بات کی، حتیٰ کہ انھیں خالی کاغذ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس پر اپنی شرائط لکھیں اور وہ اس میں بغیر ردو بدل کیے بغیر دستخط کرنے کو تیار ہیں۔ اگرچہ مہاراجہ اس پر خوش گوار حیرت ہوئی لیکن بالآخر انھوں نے بھارت ہی کے چرنوں میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔ جناح صاحب جانتے تھے کہ اگر ہندتوا نظریہ کی کم ظرفی نسبتاً ایک بڑی قوم مسلمانوں پر مظالم ڈھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا، سکھ تو پھر تیسری بڑی قوم ہیں اور جناح کی اس دور اندیشی نے ہر آنے والے دور میں ثابت کیا کہ یہ مسئلہ ایک سدھو موسے والا تک محدود نہیں بلکہ یہ پنجاب کی قوم کا مسئلہ ہے۔ بھارت نے ہر دور میں پنجاب کے مسئلے کو حل کرنے کی بجائے با زور طاقت ختم کرنے کی کوشش کی جس میں نہ صرف پنجاب کے کسانوں کا خون بہتا رہا بلکہ عالمی سطح پر بھارت کو بھی مسلسل جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑا۔
جون 1984 میں بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ظالمانہ اقدام بھی پنجاب کے مسئلے کو حل کرنے کی بجائے ختم کرنے کی ہی ایک کڑی تھی۔ امرتسر میں سکھ علیحدگی پسندوں کی تحریک زوروں پر تھی، علیحدہ ملک کے خواب کو تعبیر ملنے والی تھی اور حالات کی کشیدگی کے باعث علیحدگی پسندوں کی تحریک کے بانی جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ نے گولڈن ٹیمپل میں پناہ لے کر یہیں سے تحریک کو چلانے کا فیصلہ کیا۔ دوسری جانب سن 47ء میں پنڈت نہرو کی بنائی گئی پالیسیوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے فوج کو آپریشن بلیو سٹار کے احکامات جاری ہوئے جس میں سکھوں کے مقدس ترین مقام گولڈن ٹیمپل میں جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کو سینکڑوں حریت پسندوں سمیت بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا گیا۔
آج اگر جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کا بھگت سدھو موسے والا ریاستی بے حسی کا شکار ہوجاتا ہے تو اس کا واضح پیغام یہی ہے کہ پنڈت نہرو کی پالیسی اور آپریشن بلیو سٹار ابھی بھی کسی نہ کسی صورت علیحدگی پسند تحریک کو نشانے پر رکھے ہوئے ہیں۔ گو کہ آپریشن بلیو سٹار پنجاب کی علیحدگی پسند تحریک کے خاتمے کے لئے کیا گیا تھا مگر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انارکی نے نہ صرف اندرا گاندھی کو موت کے گھاٹ اتارا بلکہ تحریک میں مزید شدت بھی آئی۔
بھارت کی ریاستی کوتاہ اندیشی کی حد یہ ہے کہ وہ عوامی ترجمانوں کے سمندر کے سامنے جبر کی ڈھال لیے کھڑا ہے۔ بھارت ہر قیمت پر اپنی اقلیت دشمن پالیسیوں کو جاری رکھتے ہوئے مظالم میں کمی نہ لانے پر پہلے دن سے ہی اپنے آپ کو آمادہ کر چکا ہے جس کا عملی ثبوت ہر اٹھتی آواز کا گلہ دبا دیے جانے کی صورت میں موجود ہے۔ سدھو موسے والا بھی اپنے گانے کے شبدوں کی ٹھوکر سے بھارت کی اقلیت کش پالیسیوں کی دیوار میں شگاف ڈالنے والا پنجاب کا ایک بے باک نوجوان تھا۔
اس نے اپنی جد و جہد کسانوں کے حقوق اور علیحدگی پسند تحریک پر مرکوز رکھنے کا ابھی اعادہ ہی کیا تھا کہ اس کا قلع قمع کر دیا گیا۔ گزشتہ برس کسان احتجاج میں سدھو نے نہ صرف بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ تحریک کے ایک نابغہ روزگار رہنما کے طور پر سامنے آیا، احتجاج کی کامیابی کے بعد اس نے کانگریس کی طرف سے آئندہ الیکشن میں حصہ لینے کا بھی اعلان کر دیا۔ قتل سے صرف ایک دو روز قبل مودی سرکار نے سیاسی اختلافات کے باعث سدھو سے سیکیورٹی پروٹوکول واپس لے لیا۔
اب جبکہ بھارت آرٹ کی مثبت اور تعمیری اقدار کا سہرا بھی اپنے سر سجاتا ہے تو یہاں موسے والا کی سیکیورٹی واپس لے کر کون سی اقدار کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی گئی تھی یہ بھی سب پر عیاں ہو گیا ہے۔ لہذا زمینی حقائق یہ ہیں کہ بھارت کو یہ فرق ہی نہیں پڑتا کہ کون کتنا بڑا گلو کار ہے یا اداکار بلکہ فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ آواز کب اور کس کی دبانی ہے چاہے پھر وہ خالصتان تحریک کا بانی، جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ ہو یا سکھ قوم کے مجموعی سیاسی شعور کی ترجمانی کرنے والا، جرنیل سنگھ کا بھگت سدھو موسے والا ہو۔ اس کے لئے چاہے بھارت کو مقدس مقامات کی بے حرمتی کرنا پڑے یا سیکیورٹی واپس لینا پڑے وہ ہر حد کو عبور کرنے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔
تحریکوں کے جلتے دیے بجھانے سے کبھی تحریکیں نہیں رکا کرتیں بلکہ ان بجھتے دیوں کا خون ہی تحریکوں کو جلا بخشتا ہے۔ ایسے ہی سدھو کے قتل ہو جانے سے کسان احتجاج کی شدت میں کمی نہیں آئے گی بلکہ کسان کے حقوق کی جنگ اور خالصتان کا مطالبہ مزید پروان چڑھے گا۔ بہر حال پنجاب کے کسان پر ہونے والے ہر ظلم پر جناح صاحب پھر سے یاد آئے گا۔ جناح کے خالی صفحہ پر دستخط کی پیشکش یاد آئے گی لیکن جب کسان حقوق حاصل کر لے گا اور پنجاب، خالصتان کی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہو گی تو جناح کی دور اندیشی ثابت ہو جائے گی کہ پنجاب کے سکھوں کا بھارت کے چرنوں میں بیٹھنے کا فیصلہ غلط تھا لیکن اس کامیابی کی بنیادوں میں سدھو موسے والا جیسے نوجوانوں کا قیمتی خون شامل ہو گا۔



Aryyyyyyy masha Allah .kamyab raho hr qadam happy to see you