حقیقی آزادی مارچ، اسلامی ٹچ اور جلانے کا شوق
لگا کر آگ شہر کو یہ بادشاہ نے کہا
اٹھا ہے دل میں تماشے کا آج شوق بہت
جھکا کر سر کو سبھی شاہ پرست بول اٹھے
حضور کا شوق سلامت رہے تو شہر بہت
پاکستان تحریک انصاف کے حقیقی آزادی مارچ کو دیکھ کر یہی لگتا ہے جس کی تصویر مندرجہ بالا اشعار میں شاعر نے کھینچی ہے۔ لگتا یہی ہے کہ جناب عمران خان صاحب کے من میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد جیسے شہر کو آگ لگا کر تماشا دیکھنے کا شوق تھا ورنہ وہ یوں اپنے پجاریوں جیسے کارکنان کو ڈی چوک پہنچنے کا نہ کہتے۔
عمران خان کے اس مارچ کو ( جس کو انہوں نے حقیقی آزادی مارچ کا نام دے کر ایک بار عوام کی انکھوں میں سنہرے خواب سجانے کی کوشش کی ) دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ انہوں نے پھر سے خیبرپختونخوا کے جذباتی نوجوانوں کو اپنی خواہشات کا ایندھن بنایا ( یاد رہے کہ اس مارچ کے دوران چار کارکنان اپنے جان گنوا بیٹھے جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے، صوابی میں ہارون آباد پل سے کنٹینر ہٹاتے ہوئے تین کارکن پل سے نیچے گرے جن میں سے دو نوجوان اپنی جان سے گئے، جاں بحق ہونے والوں میں ایک سید احمد جان مردان سے تعلق رکھتے تھے ) ۔
خیبرپختونخوا کا ذکر اس لیے خصوصاً کر رہا ہوں کہ اپنے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں خان صاحب کو پشاور کی یاد نہ آئی، تب بھی جب کوچہ رسالدار میں خودکش دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کی لاشیں اور زخمی ان کی راہ تک رہے تھے مگر تعزیت اور زخمیوں کی عیادت کے لیے بھی ان کے پاس وقت نہیں تھا تاہم جیسے ہی ان کی حکومت ختم ہوئی اور ان کو لگا کہ وفاقی حکومت ان کو اور ان کی پارٹی کے سرکردہ دیگر رہنماؤں کو گرفتار کر سکتی ہے تو انہوں نے خیبرپختونخوا کا رخ کیا اور پشاور میں روپوشی کے دن گزارے۔
حقیقی آزادی مارچ کی قیادت کے لیے بھی انہوں نے شہنشاہوں جیسا آمرانہ طرز اپنانا پسند کیا، وہ پشاور سے بذریعہ ہیلی کاپٹر ولی خان انٹرچینج پہنچے، جہاں عمران فوبیا کے شکار کارکنان سخت گرمی اور دھوپ میں ان کا انتظار کر رہے تھے، ولی انٹر چینج سے عمران خان صاحب نے اے سی لگے کنٹینر پر مارچ کی قیادت سنبھالی اور شہر اقتدار کی جانب روانہ ہوئے
10 اپریل کی رات جب عمران خان کی حکومت ختم کی گئی اور بادل ناخواستہ وزیراعظم ہاؤس نے نکلنے پر مجبور کیے گئے، سے لے کر 25 مارچ کو حقیقی آزادی مارچ کی تاریخ دینے تک تحریک انصاف نے ملک کے مختلف شہروں میں جتنے بھی جلسے کیے، لوگوں سے خطاب کیا، کوئی ایک بھی تقریر ایسی نہیں جس میں اپنی حکومت کے ساڑھے تین سالہ کارکردگی کا ذکر کیا گیا ہو یا اپنے ساڑھے تین سال کا حساب دیا گیا ہو۔
خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو نو سال ہونے کو ہیں تاہم خیبرپختونخوا میں بھی جتنے جلسے پلان کیے گئے، کسی ایک میں بھی اپنی تاریخی کارکردگی کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔
جب مارچ کے شرکا عمران خان کی قیادت میں پنجاب میں داخل ہوئے تو حسن ابدال کے مقام پر انہوں نے اپنے کارکنان کا لہو گرمانا ضروری سمجھا اور تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حکومت اسمبلیاں تحلیل اور نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں کرتی تب تک ہم اسلام آباد میں بیٹھے رہیں گے تاہم 2014 دھرنے کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے خان صاحب نے ایک رات بھی دھرنا دینا مناسب نہ سمجھا اور مارچ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو نئے انتخابات کی تاریخ کے لیے چھ دن کی مہلت دی او بنی گالہ کی راہ لی جبکہ کارکن سڑکوں پر ذلیل ہوتے رہے۔
لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کنٹینر پر موجود (میرے خیال میں وہ قاسم سوری تھے ) ایک بندے نے خان صاحب کے کان میں سرگوشی کی جو مائیک آن ہونے کی وجہ سے سنائی دی گئی، سرگوشی کیا تھی اپنی بات اور تقریر کو اسلامی ٹچ دینے کی یاد دہانی۔ (عامر خان کی فلم پی کے تو اپ نے دیکھی ہوگی۔ اگر نہیں دیکھی تو دیکھ لیں۔ کیونکہ اسلامی ٹچ دینا، ریاست مدینہ کا ورد مگر عمل اس کے برعکس یہ تمام باتیں خان صاحب رانگ نمبر ظاہر کر رہی ہیں۔
چلیں عمران خان تو اپنی کارکردگی کا حساب دینا اپنے توہین سمجھتے ہیں ( کیونکہ پی ٹی آئی کارکنان کی نظر میں عمران خان کا رتبہ کسی ولی یا دیوتا کے برابر ہے اور وہ خود بھی اپنے کو اس سے کم تصور نہیں کرتے۔ ان کی ہر تقریر ”میں“ سے شروع ہو کر ”میں“ پر ہی ختم ہوجاتی ہے ) تاہم وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان سمیت دیگر وزرا کو کم از کم ان جلسوں میں اپنی نو سالہ کارکردگی کا حساب دینا چاہیے تھا۔ ساڑھے تین سال مرکز میں بھی تحریک انصاف کی حکومت تھی اور صوبے میں بھی۔
تو کم از کم بجلی کے خالص منافع کی مد میں ان ساڑھے تین سال میں خیبرپختونخوا کو اپنا حصہ پورا ملنا چاہیے تھا تاہم ہوا اس برعکس، اس کے بجائے صوبائی حکومت کے کسی رکن میں اتنی جرات نہیں تھی کہ ان ساڑھے تین سالوں میں وزیراعظم عمران خان کے سامنے اپنے صوبے کے بقایاجات کی بات کرتا۔ بلکہ الٹا سبھی شاہ پرست بادشاہ کے مزاج کو دیکھتے ہوئے ان کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتے اور جس بات سے بادشاہ سلامت کے چہرے پر ہنسی یا خوشی اتی وہی بات ان کے سامنے کی جاتی۔ اور اگر کسی ایک نے اپنے صوبے کا حق مانگا بھی تو اس کو جلد ہی اپنے وزارت سے کسی دوسرے کام پر لگا دیا گیا۔
حقیقی آزادی مارچ کا حال دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ شاہ کو شہر جلتا ہوا دیکھنا تھا اس لیے سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود کارکنان کو ڈی چوک پہنچنے کی ہدایات دی گئیں۔ اب کیا ہو گا یہ کل پر منحصر ہے۔ بادشاہ سلامت اور کیا کیا جلانے کا شوق رکھتے ہیں اور باقی کن کن چیزوں کو اسلامی ٹچ دیتے ہیں اس کے لیے تھوڑا سا انتظار کرنا ہو گا۔ شاید کہ سمجھ آئے اس ملک کے جذباتی عوام کو !


