ایف اے ٹی ایف کی ”تلوار“ لٹک رہی ہے


برلن میں ایف اے ٹی ایف کا چار روزہ اجلاس ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ پاکستان میں ”گرے لسٹ“ سے نکلنے کا شور برپا ہو گیا۔ چار سال بعد پاکستان کا ایف اے ٹی ایف سے نکلنا بڑی خبر تھی۔ سابق حکومت کے عہدیداروں نے ایف ٹی ایف سے نکلنے کے لئے کیے جانے والے اقدامات کی بنیاد پر کامیابی کا سہرا باندھنے کی کوششیں شروع کر دیں کچھ دیگر اداروں کی طرف سے ایسے بیانات آئے جن سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ گرے لسٹ سے نکلے جانے کا سارا کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈالنا چاہتے ہیں لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔

امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کی آڑ میں پاکستان کا بازو مروڑنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ کبھی پاکستان کا نام گرے لسٹ میں ڈال دیا جا تا کبھی نکال دیا جاتا پاکستان کے خلاف یہ کھیل کئی سالوں سے جاری ہے۔ امریکہ اور یورپی ممالک نے پاکستان کو دباؤ میں رکھنے کے لئے مستقل طور پر ایف اے ٹی ایف کی تلوار لٹکا رکھی ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش سمیت کچھ ممالک پاکستان ایف اے ٹی ایف کی لگائی گئی پابندیوں سے پاکستان کے نکل جانے کے خلاف ہیں۔

بھارت اپنی مضبوط سفارتی لابی کے ذریعے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف سے نکلنے نہیں دے رہا تھا۔ مختلف اوقات میں پاکستان نے نہ صرف ایف اے ٹی ایف کی فرمائش پر سخت نوعیت کی قانون سازی کی بلکہ حافظ محمد سعید سمیت کئی سرکردہ رہنماؤں کو پابند سلاسل کر دیا گیا۔ حافظ محمد سعید کو مجموعی طور 33 سال قید کی سزا سنائی گئی وہ اس وقت اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔ حافظ محمد سعید کا شمار پاکستان کے جید علما کرام میں ہوتا ہے۔ وہ 2019 سے پابند سلاسل ہیں۔ ان کے خلاف 27 مقدمات میں عدالتوں نے فیصلے بھی سنا دیے ہیں۔

پاکستان تین گرے لسٹ میں رہا لیکن پہلی بار ایف اے ٹی ایف پاکستان کو طویل عرصہ تک گرے لسٹ میں رکھا گرے لسٹ در اصل پاکستان کو دباؤ میں رکھنے کا حربہ ہے۔ پاکستان کو پہلی بار 2008 ء میں دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی نہ کرنے پر گرے لسٹ میں شامل کر لیا گیا پھر 2010 میں گرے لسٹ سے نکال دیا گیا لیکن 2012 ء میں ایک بار ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں ڈال دیا۔ پاکستان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کی روک تھام میں موثر طور کامیاب نہیں ہوا پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے میں تین سال لگ گئے لیکن جون 2018 ء میں ایک بار پھر پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کر لیا گیا اس بار پاکستان کو 27 نکات پر مشتمل ایک فہرست تھما دی گئی ان نکات پر عمل درآمد کی فرمائش کی گئی اس بار ایف اے ٹی ایف نے سخت وارننگ دی کہ اگر پاکستان ٹائم فریم کے اندر ان نکات پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہا تو پاکستان کو ”بلیک لسٹ“ میں شامل کر دیا جائے گا۔

بھارت کی مضبوط لابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے۔ بار بار پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کر دیا جاتا رہا ہے۔ ہر چار ماہ بعد پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی عدالت میں کھڑا کر دیا جاتا اور اسے اس کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑتا اس عرصہ کے دوران ایف اے ٹی ایف کی طرف سے جن تنظیموں کو کالعدم قرار دے کر ان کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا ٹاسک دیا گیا ان کی سرگرمیاں عملاً ختم کر دی گئیں دہشت گردوں تک مالی وسائل کی فراہمی کو روکنے کے لئے سخت اقدامات اٹھائے گئے پاکستان بار بار اس بات پر احتجاج کرتا رہا کہ ایف اے ٹی ایف ایک سیاسی ادارہ نہیں ٹیکنیکل ادارہ ہے۔

لہذا اس کے اٹھائے گئے اقدامات کو پذیرائی بخشی جائے حکومت اور ریاستی اداروں کے ایک ”صفحہ پر ہونے کی وجہ سے ہی ہم اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوئے سر دست ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو مستقل طور پر مشروط طور پر“ گرے لسٹ سے نکالنے آمادگی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ”پاکستان پر نظر برقرار رکھی جائے گی۔ پاکستان نے تمام شرائط پوری کرلی ہیں۔ 34 آئٹمز پر مبنی دو ایکشن پلان مکمل کیے ہیں۔ تاہم اکتوبر 2022 ء میں اے ایف ٹی ایف کی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کر کے اینٹی منی لانڈرنگ اور کاؤنٹر ٹیررسٹ فنانسنگ سسٹم کی پائیداری اور ناقابل تنسیخ ہونے کا جائزہ لیں گی۔

اے ایف ٹی ایف نے پراسیکیوشن کے سلسلے میں پیش رفت کو سراہا ہے۔ صدر فیٹف نے کہا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی تجویز کردہ اصلاحات کو نافذ کرنا پاکستان کے استحکام و سلامتی کے لئے اچھا ہے۔ اگر ایک طرف بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈلوانے کے لئے کوشاں تھا تو دوسری طرف عوامی جمہوریہ چین کھلم کھلا پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلوانے کے لئے کوشاں تھا جب کہ کچھ دوست ممالک نے خاموشی پاکستان کی مدد کی۔ اس وقت ایف اے ٹی ایف میں 23 ممالک شامل ہیں۔

پاکستان گرے لسٹ میں ہے جب کہ ایران اور شمالی کوریا بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔ برلن اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے۔ کہ ”جشن منانا قبل از وقت ہے۔“ ان کی بات میں بڑا وزن ہے۔ ابھی ایف اے ٹی ایف کی ٹیموں نے دورہ کر کے پاکستان میں اس کی سفارشات پر عمل درآمد کا جائزہ لینا ہے۔ لہذا ہمیں اس ایشو پر محتاط انداز میں گفتگو کرنی چاہیے کیونکہ یہ کامیابی ایک دن کی کوششوں کا نتیجہ ہے اور نہ ہی کس فرد واحد نے کوئی کارنامہ سر انجام دیا ہے بلکہ پاکستان کو 4 سال کا طویل اور تھکا دینے والا سفر طے کرنا پڑا اسٹینڈ ایلون منی لانڈرنگ ایکٹ نافذ کر کے 26630 شکایات پر کارروائی کی گئی۔

ایف بی آر نے 22 ہزار سے زائد کیسز میں 351 ملین کے جرمانے کیے، ایس ای سی پی نے ایک لاکھ 46 ہزار کیسز کا جائزہ لیا ایف اے ٹی ایف کے دباؤ میں آ کر متعدد مذہبی شخصیات کو جیلوں ڈالا گیا ہے۔ اب ایف اے ٹی کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرنے کے دوران جہاں دیگر امور کا جائزہ لے گی۔ وہاں اس بات کا بھی معائنہ کر سکتی ہے۔ کیا واقعی ہم نے اقوام متحدہ کے مطلوب افراد کو جیلوں میں ڈالا ہے اور ان کے اداروں کو بند کیا ہے؟

لہذا اکتوبر 2022 ء پاکستان کے لئے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ٹیرر فنانسنگ کے 27 اور منی لانڈرنگ کے 7 پوائنٹس پر عمل درآمد کو یقینی بنا کر پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کا ثبوت دیا ہے۔ اس سلسلے میں افواج پاکستان نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں حکومت اور قومی اداروں نے مل کر تمام نکات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا سابق دور حکومت میں کئی قوانین کی منظوری کی راہ میں اپوزیشن تو ریاستی اداروں کی مداخلت سے کئی قوانین پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہوا اپوزیشن کو اس بات کا خدشہ تھا کہ یہ قوانین اس کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں۔

اپوزیشن کو اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی کہ ان قوانین کو سیاسی انتقام کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کروانے کے لئے کوشاں رہتا ہے اور مختلف حیلوں بہانوں سے پاکستان کے لئے مشکلات پیدا کرتا رہتا ہے۔ سول حکومت کے ساتھ ساتھ پاک فوج نے بھارت کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے حکمت عملی تیار کی جی ایچ کیو میں قائم سیل نے دن رات کام کر کے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فائنانسنگ پر ایک موثر لائحہ عمل ترتیب دیا جس کی وجہ سے فیٹف میں کامیابی حاصل ہوئی۔

حکومت سے مشاورت کے بعد 2019 ء میں جی ایچ کیو میں ڈی جی ایم او کی سربراہی میں اسپیشل سیل قائم کیا گیا۔ سیل نے دن رات کام کر کے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فائنانسنگ پر ایک موثر لائحہ عمل ترتیب دیا، پاکستان نے اپنا 2021 کا ایکشن پلان فیٹف کی طرف سے مقرر کردہ ٹائم لائنز یعنی جنوری 2023 سے پہلے مکمل کر لیا۔ پاکستان میں منی لانڈرنگ کے 800 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جن کی گزشتہ 13 مہینوں کے دوران تحقیقات مکمل کی گئیں۔

فیٹف پلان کے مطابق اس رپورٹنگ سائیکل میں ضبط کیے گئے اثاثوں کی تعداد اور مالیت میں خاطر خواہ اضافہ ظاہر کیا جن میں سے 71 فیصد اثاثے ضبط کیے گئے 85 فیصد اثاثوں کی مالیت میں اضافہ ہوا۔ جی ایچ کیو میں قائم سیل نے اپنی قومی رسک اسیسمنٹ ( 2019 NRA) کے عمل کو اپنے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے خطرات اور اس کی بنیاد پر جامع پلان مرتب کیا۔ منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں گزشتہ ایک سال کے دوران 123 فیصد اضافہ ہوا۔

وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر نے برلن سے واپسی پر ذمہ دارانہ طرز عمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ”بہت کچھ ہو گیا کہنے سے گریز کریں، گرے لسٹ سے نکلنے میں ابھی ایک قدم دور ہیں“ ۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے۔ اکتوبر تک گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ پاکستان نے بھارت کی لابی کے باوجود یہ کامیابی حاصل کر لی ہے۔ پاکستان کے گرے لسٹ سے نکل جانے سے جہاں ہماری معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔ وہاں غیر ملکی سرمایہ کاری کے دروازے کھل جائیں گے۔

لیکن پاکستان کو چو کنا رہنا پڑے پڑے گا۔ بھارت کوئی نئی واردات کر کے پاکستان کو ایک بار پھر ایف اے ٹی ایف کے شکنجے میں پھنسوا سکتا پاکستان کے تمام سٹیک ہولڈرز کو اب کریڈٹ کی دوڑ میں شریک ہونے کی بجائے ایف اے ٹی ایف کی ٹیم کے دورے کی تیاری کرنی شروع کر دینی چاہیے ایف اے ٹی ایف کے معاملہ کو غیر سیاسی ہونا چاہیے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے موقف کی پذیرائی دراصل بھارت کی ایک بڑی شکست ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے دوست ممالک کے کر دار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ بات سب جانتے ہیں کہ کس ملک نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا اور کس نے نکالا؟ اگر یہ سمجھا جائے کہ پاکستان آسانی سے گرے لسٹ سے نکل آیا ہے تو یہ اپنے آپ کو دھوکا دینے کے مترادف ہو گا۔ پاکستان کو جید عالم دین حافظ محمد سعید کو 33 سال کے لئے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلنا پڑا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی فیٹف میں کامیابی پر خوشی دیدنی ہے۔ انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ قوم کو مایوسی اور معاشی ابتری سے نکال کر تعمیر و ترقی اور خوشحالی کی طرف واپس لائیں گے، وزیراعظم نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر کو بھی ٹیلیفون کر کے انہیں ”شاباش“ دی، وائٹ لسٹ میں پاکستان کی واپسی کی راہ ہموار ہونے کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اکتوبر میں فیٹف ٹیم کے دورے کے بعد پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔ گرے لسٹ سے پاکستان کا نکلنا نیک شگون ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments