نوجوان سرمایہ کاروں کو پیسے کمانے کا راستہ دکھانے والے انڈین یوٹیوبرز جو راتوں رات مشہور ہوئے


انڈین نوجوان سٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے
دو سال قبل جب دنیا بھر میں کورونا کا پھیلاؤ اپنے عروج پر تھا اور بالی وڈ کے معروف فلم سٹوڈیوز نے غیر معینہ مدت کے لیے اپنے دروازے بند کر دیے تو 23 سالہ نوجوان فلمساز شیوم کھتری نے پیسے کے انتظام و انصرام کا ہُنر سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ ہنر تھا جو انھوں نے سکول یا کالج میں نہیں سیکھا تھا۔

انھوں نے اس کے متعلق کتابیں پڑھیں اور انٹرنیٹ پر موجود مواد (ویڈیوز) کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انھیں جلد ہی یہ پتا چل گیا کہ ویڈیو پلیٹ فارم ’یو ٹیوب‘ پر مالیاتی مواد (فنانشل کانٹینٹ) تیار کرنے والے زیادہ تر نوجوان تخلیق کار تھے جو اُن کی ہی کی زبان بول رہے تھے یعنی سادہ، سہل اور عام لوگوں کو سمجھ آنے والی زبان۔

شیوم کھتری کہتے ہیں کہ ’اُن نوجوانوں کی ویڈیوز سادہ اور سمجھنے میں آسان ہیں۔ اور یہ یو ٹیوبرز مختلف موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔‘

ان میں سے ایک تخلیق کار کو وہ بڑے شوق و ذوق سے فالو کرنے لگے۔ اُن کا نام رچنا راناڈے ہے اور ان کے یو ٹیوب چینل کے 35 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔

رچنا اپنے مخصوص شرارتی انداز میں پیچیدہ مالیاتی مسائل کو آسانی سے ہضم کرنے کے قابل مواد میں پیش کرنے کا ہنر جانتی ہیں۔ اتنے زیادہ فالوورز ہونے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ انڈیا میں نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو مالیاتی امور کو آسان زبان میں سمجھنے کا خواہاں ہیں۔

رچنا راناڈے

رچنا راناڈے انتہائی سہل الفاظ اور فلمی ڈائیلاگز کی مدد سے مالیاتی امور سمجھاتی ہیں

مغربی شہر پونے میں اپنے شاندار نئے دفتر میں رچنا راناڈے نے ہمیں تفصیلی گرافک دکھائے جس میں ایک یوٹیوبر کے طور پر انھوں نے اپنے عروج کا نقشہ پیش کیا۔ انھوں نے اپنی پہلی ویڈیو فروری 2019 میں اپ لوڈ کی تھی اور بمشکل پانچ ماہ میں اُن کے یوٹیوب چینل پر فالوورز کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد سے اُن کی ترقی خیرہ کرنے والی تھی۔

رچنا راناڈے کو اکثر آٹوگراف اور سیلفیز کے لیے لوگ گھیر لیتے ہیں اور یہ ایک ایسی بات ہے جو عموماً بالی وڈ کی مشہور شخصیات یا کھلاڑیوں کے لیے مخصوص ہوتی ہے۔

رچنا خود کو ’فلم بین‘ کہنے سے نہیں ہچکچاتیں۔ ان کے دفتر کی ایک دیوار پر بالی وڈ سپر سٹار شاہ رخ خان کی فلموں کے ڈائیلاگ لگے ہوئے ہیں۔ وہ ان ڈائیلاگز کو ایسے مالی تصورات کی وضاحت کے لیے استعمال کرتی ہیں جن کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ لائف انشورنس خریدنے کی ضرورت پر زور دینے کے لیے ہٹ فلم ’کل ہو نا ہو‘ کی مثال دیتی ہیں۔

رچنا راناڈے کہتی ہیں کہ اُن کا ایک منتر ہے یعنی ’فنانس جو آسان ہے۔‘

یہ بالکل وہی ہے جو انڈیا کے نوجوان سرمایہ کار چاہتے ہیں۔ ان میں سے لاکھوں نے وبائی امراض کے دوران بازار حصص (سٹاک مارکیٹ) کی گھڑ دوڑ میں حصہ لینے کے لیے تجارتی اکاؤنٹس کھولے اور انھوں نے اُن کی طرح کے ہی لوگوں سے آن لائن سرمایہ کاری کی خدمات حاصل کیں۔

رچنا راناڈے

رچنا راناڈے کے یوٹیوب چینل کے ساڑھے تین لاکھ فالوروز ہیں

لیکن سرکاری سروے بتاتے ہیں کہ 10 میں سے صرف تین ہندوستانی مالی طور پر خواندہ ہیں۔ اور وہ یہ جاننے کی خواہش رکھتے ہیں کہ سٹاک مارکیٹ میں آسانی سے پیسہ کیسے کمایا جائے یا ایسا کیا کریں کہ راتوں رات ارب پتی بن جائیں۔

یہ وہی خوشگوار موڑ ہے جس نے مالیاتی مواد کو انٹرنیٹ کی دنیا میں سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی چیزوں میں سے ایک میں تبدیل کر دیا ہے۔

ایک کاروباری انفلوئنسر انکور واریکو کہتے ہیں کہ ’انڈیا میں جین-زیڈ یا اس صدی کے اوائل میں پیدا ہونے والے افراد کے لیے یوٹیوب کسی یونیورسٹی کی طرح ہے۔‘

انکور کے ویڈیوز ذاتی مالیات، انٹرپرینیورشپ اور پیداواری صلاحیتوں پر مرکوز ہیں۔ ان کی زبردست مقبولیت نے پچھلے سال انھیں ایک کتاب کی اشاعت کا معاہدہ بھی دلوایا اور ان کی پہلی کتاب ‘ڈو ایپک شٹ’ اشاعت کے ساتھ ہی تیزی سے بیسٹ سیلر بن گئی۔

اگرچہ عام خیال یہ ہے کہ وہ راتوں رات مشہور ہو گئے لیکن واریکو کہتے ہیں کہ مواد کے تخلیق کار کے طور پر ان کا سفر تقریباً ایک دہائی قبل شروع ہوا تھا۔ لیکن کورونا کی وبا کا دور وہ موڑ ثابت ہوا جہاں سے انھیں زبردست کامیابی ملی۔

واریکو کہتے ہیں کہ ’اچانک، بہت سارے تخلیق کاروں کی طرف سے پیش کیے جانے والے اعلیٰ معیار کے مواد میں اضافہ ہوا۔ وقت اور پیسہ ہاتھ میں رکھنے والے ناظرین تھے، اور ایک ایسی مارکیٹ بھی تھی جو انتہائی معاون تھی۔‘

یہ بھی پڑھیے

یوٹیوب سے لاکھوں روپے کمانے والا دیہاڑی دار مزدور

’میں نے یوٹیوب سے گانا سیکھا اور اب یہی میرا پیشہ ہے‘

انڈین یوٹیوبر پالتو کتے کو غباروں سے باندھ کر ’اڑانے‘ پر گرفتار

خیرپور کی رابعہ جنھوں نے یوٹیوب سے ہونے والی آمدن سے اپنا گھر بنوا لیا

انکور واریکو بتاتے ہیں کہ یہ محرک کرنے والے عوامل کا ایک ’مضبوط مرکب‘ تھا جس میں سستے ڈیٹا، انٹرنیٹ اور ٹی وی کی بڑھتی ہوئی رسائی اور انڈیا کی نوجوان ملینیئل آبادی نے اپنا اپنا کردار ادا کیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر موضوع ’پیسہ‘ ہو تو وہ خاص طور پر نوجوان انڈینز کے ذہن میں گونجتا ہے: ’یہ ایک ایسی چیز ہے جسے ہم سب سمجھنا چاہتے ہیں لیکن ہمیں [سمجھنے] کا موقع بہت کم ہی دیا گیا ہے۔‘

انکور واریکو

انکور واریکو کی ویڈیوز نے انھیں انڈین نوجوانوں میں مقبول کر دیا ہے

برسوں سے انڈیا میں کئی کاروباری چینلز ہیں جو ریئل ٹائم مالیاتی مارکیٹ کی خبریں نشر کرتے ہیں۔ لیکن وہ بہت حد تک نئے سرمایہ کاروں کے بجائے بڑے اور پرانے تاجروں اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی ضرورتوں پورا کرتے ہیں۔

اس طرح اس مارکیٹ میں ایک خلا تھا جسے بہت سے یوٹیوبرز نے پُر کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اور ان کی کامیابی کی وجہ سے اب انھیں اشتہار دینے والے اور برانڈ مینیجرز بڑی رقم کے عوض اپنی طرف راغب کر رہے ہیں۔

فوربس میگزین کے مطابق ٹاپ انفلوئنسر کسی ایک برانڈڈ ویڈیو کے لیے 20 ہزار ڈالر تک کما سکتے ہیں۔ ماہرین اس حقیقت کو سراہتے ہیں کہ مالیاتی تعلیم اب زیادہ قابل رسائی ہے، لیکن ساتھ ہی وہ احتیاط کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔

اگرچہ کاروباری نیوز چینلز کو سختی سے کنٹرول کیا جاتا ہے لیکن زیادہ تر ڈیجیٹل مواد کے تخلیق کار گرے زون میں کام کرتے ہیں۔ راناڈے اور واریکو انفرادی سٹاک کی سفارش نہیں کرتے ہیں، لیکن بہت سے دوسرے اس کی سفارش کرتے ہیں اور وہ بھی اکثر ضروری مہارت یا قابلیت کے بغیر۔

ایک کاروباری چینل کے سابق ایڈیٹر گوندراج اتھیراج اب فیکٹ چیک کی ویب سائٹ چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جب طویل مدتی سرمایہ کاری کے قدرے بہتر مسائل کی بات آتی ہے، تو میں ان لوگوں پر بھروسہ کروں گا جو مارکیٹ کے چند چکروں سے گزر چکے ہیں۔ ابھی جبکہ ڈیجیٹل کا دور ہے تو سب کچھ بس اوپر ہی گیا ہے۔‘

دو سال کی گھڑ دوڑ کے بعد انڈیا کے ایکویٹی بازار کو بہت زیادہ اتار چڑھاؤ کا سامنا ہے اور ملک سے اربوں ڈالر کا غیر ملکی پیسہ نکالا جا رہا ہے۔

لہذا، ایتھراج کہتے ہیں کہ اگلے چند سالوں میں یہ پہلا امتحان ہو گا کہ آیا انڈیا میں پیسے کے شعبے کے نئے انفلوئنسرز پائیدار ہیں یا پھر محض عارضی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24807 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments