قرآن کیوں اور کیسے پڑھیں
انسان کی مجبوری ہے کہ وہ اپنی مرضی سے پیدا نہیں ہوتا اور نہ وہ اپنی چاہت سے مر سکتا ہے۔ دنیا میں کب، کس وقت وہ آتا ہے اس کا علم خود پیدا ہونے والے کو بہت بعد میں ہوتا ہے جب اس کی شعور کی آنکھیں کھلتی ہیں۔ زندگی کے سفر میں آہستہ آہستہ انساں کی معلومات بڑھتی رہتی ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ دنیا میں کیوں آیا ہے، اس ہنگامہ خیز دنیا میں اسے بھیجنے کا مقصد کیا ہے، کیا اسے اور کسی زندگی کی طرف سفر کرنا ہے، کیا یہ جگہ جہاں وہ رہ رہا ہے، عارضی اور ناپائیدار ہے ؛ کیونکہ انسان اپنے اس دنیاوی سفر میں لاکھوں کروڑوں انسانوں کو مرتے دیکھتا ہے۔ آج دنیا کے کسی گوشہ میں کسی کی موت واقع ہوتی ہے تو خبر سب کو ملتی ہے۔ اگر انساں ذرا بھی احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرے تو یہ سؤالات ضرور عقل اور ذہن کو جھنجوڑیں گے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب اسے اختیار ہی نہیں اس عالم میں آنے کا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ جب وہ یہاں سے دوسری دنیا میں سفر کرتا ہے تو معلوم نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ خدانخواستہ ہم سارے لامعلوم انسان تو نہیں! کیونکہ ہمیں تو اپنی ماضی کا حقیقتاً اور شعورا پتہ ہی نہیں کہ کدھر سے ہم آئے ہیں، اب جبکہ ہم پیدا ہوئے ہیں اور ساتھ ہی اپنوں اور دوسروں کو مرتے بھی دیکھ رہے ہیں، بہت سوں کو زیر زمین دفن ہوتے، آگ کا ایندھن بنتے اور دریا برد ہوتے دیکھ رہے ہیں اور ساتھ ساتھ کبھی حکومتی اہلکاروں کے تو کبھی دہشت گردوں کا نشانہ بھی بنتے دیکھ رہے ہیں ؛ تو یہ سوال مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ یہ سب کس دوسری نامعلوم دنیا میں سفر کر رہے ہیں۔
ہمیں کہاں جانا ہے، ایک معلوم بات کا نامعلوم جواب تلاش کرنا ہے ؛ کیونکہ ہم سب نے زندگی کا مزہ چکھا ہے، زندگی کی رونقیں دیکھی ہیں، خوشی، غمی، دکھ اور تکالیف سہے ہیں یعنی کہ ہم ایک معلوم دنیا میں رہے ہیں اور یہاں مختصر وقت گزار چکے ہیں ؛ لیکن آئے کہاں سے ہیں اور جائیں گے کہاں کیسے معلوم ہو گا؟ کیا ایسا تو نہیں! کہ جہاں جانا ہے، بتا دیا گیا ہو مگر حافظہ اور شعور کی کمی و لاپرواہی اور جہالت کی وجہ سے ہم بھول چکے ہیں یا دنیا میں زندگی کی مصروفیات اور لہو لعب نے قلب و ذہن سے اس کا جواب محو کر دیا ہے۔ ہم شعوری طور پر دنیا سے آگاہ تو ہوئے ہیں لیکن یہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ دنیا فانی ہے اور ہمارا حقیقی اور اصلی لمبا سفر ابھی باقی ہے۔
اس نوعیت کے سوالات کے جوابات دینے کی کوشش۔ تاریخ انسانی میں مخلتف تہذیبوں سے وابستہ۔ عقلاء و فلاسفر نے کیے ہیں اور اس کے مختلف مظاہر اور جوابات ہمارے سامنے ہیں۔ لیکن یہ سب غیر تسلی بخش اور غیر عقلی بلکہ غیر معیاری جوابات ہیں، کیونکہ جنہوں نے اس کے جوابات تراشنے کی کوشش کیں انھوں نے اس کو ہی نہ مانا اور نہ ہی پہچاننے کی تگ و دو کیں، جس نے ہمیں اس دنیا میں مخلوق بنا کر بھیجا ہے۔ جب جہاں سے، جس نے (الباری : عدم سے وجود میں لانے والا) عدم سے وجود میں لا کر ادھر بھیجا ہے اس کا ہی پتہ نہیں تو جدھر جانا ہے، اس کا پتہ خود سے لگائیں گے، کیسے ممکن ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان محض اپنے عقل اور فکر سے اس کا صحیح اور متعین جواب دینے سے ابھی بھی قاصر ہے۔ صاف اور سیدھی بات ہے کہ جس نے ہمیں پیدا کیا ہے اور اس عارضی دنیا میں بھیجا ہے، اسی خالق سے پوچھنا چاہیے کہ ہم آئے کہاں سے ہیں اور جائیں گے کدھر، یعنی مرنے کے بعد ہمارا سفر کدھر کو ہو گا۔ جس موجودہ سفر میں ہم ہیں اس کی اصلی منزل کہاں ہے، لہذا فیصلہ کن اور یقینی جواب تو وہی دے سکتا ہے جو ہمارا خالق ہے۔
اس خالق کے بغیر نہ ہم خود کو جان سکتے ہیں نہ دنیا کو اور نہ مستقبل قریب میں موت کے بعد والی جہاں کو ۔ خالق کائنات کا عظیم احسان، کہ بذریعہ وحی انسان تک ان سؤالات کے کامل جوابات پہنچایا اور انبیاء کرام کے واسطے سے ہدایت کا اعلی اور منظم انتظام فرمایا۔ اس سلسلہ انبیاء میں آخری وحی جس پر نازل ہوئی، وہ محمد ﷺ ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ نے اس وحی کو دفتین (رجسٹر) میں محفوظ فرمایا تاکہ بعد میں آنے والی نسلیں بھی اپنی زندگی کی حقیقت کو جان سکیں۔ اس مصحف یا کتاب کو انسان قرآن مجید، فرقان حمید کے نام سے جانتا ہے، جس کی زبان عربی مبین ہے۔
ہمارے ہاں یہ رجحان پختہ ہو گیا ہے کہ ہم قرآن کی منشا کو اور ان سوالوں کے جوابات کو محض سمجھے بغیر پڑھنے سے جان سکتے ہیں۔ تلاوت کا مقصد بھی ثواب کی لالچ میں کیا جاتا ہے نہ کہ اخذ نصیحت کے لیے۔
قرآن یہاں خود سے رہنمائی دیتا ہے کہ چند آیات کو پڑھ کر سمجھا جائے پھر انہی آیات کو بقدر استطاعت اپنی زندگی انطباق کر کے اس کے ثمرات اور جوابات سے مستفید ہوتے جائیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قرآن بنیادی طور پر ٹھہر ٹھہر کر نازل ہوا ہے اور اس میں تدریج کا اصول موجود ہے مثلا: وقرءاناً فرقنٰہ لتقراھۥ على ٱلناس علىٰ مکثٍۢ ونزلنٰہ تنزیلً (الاسراء: 106 ) اور قرآن کو ہم نے جدا جدا کر کے اتارا تاکہ آپ اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں اور ہم نے اسے رفتہ رفتہ (حالات اور مصالح کے مطابق) تدریجا اتارا ہے (عرفان القرآن ) ۔ جب قرآن کو ایک ہی دن میں نازل کرنے کی بجائے وقفے وقفے سے کم و بیش تئیس ( 23 ) سال کے عرصے میں مکمل فرمایا تو اس کا اہم مقصد یہ ہے کہ اسے سمجھیں، پڑھیں، یاد کریں اور زندگی میں حسب توفیق اور حسب ارادہ اختیار کریں۔


