وہیں ہم بھی تھے


ایک حادثے نے پروفیشنل یا بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کا خواب کیا چھینا کہ ہم نے لوگوں سے ملاقاتوں کو درد دل کا درماں بنا لیا۔ پھر کیا تھا کہ اگلے سال دو سال میں تقریبا تمام معروف بین الاقوامی کھلاڑیوں، فنکاروں، شاعروں، ادیبوں، صحافیوں، سیاست دانوں اور ماڈلز تک سے ملاقاتوں کا تانتا سا بندھ گیا۔ مختلف لوگوں کو جاننے اور سمجھنے کی سعی لا حاصل میں خود کو کھو دینے کا احساس ہوتے خاصی دیر ہو چلی تھی۔ مایوسیوں اور صدمات کا نہ ختم ہونے والے سلسلہ۔

لوگ ان کے تراشے بت جیسے تھے نہ ان کی اپنی تحریروں و تقریروں کا عملی اظہار ان کی زندگیوں میں تھا۔ چکا چوند کے پیچھے درد اور افسردگی، سماج سدھار کے پیچھے گھات میں بیٹھا شکاری، اونچے آدرشوں کی جگالی کی پیچھے حقیر سے نا تمام جذبوں کی تسکین کل مقصد حیات۔ لوگوں سے ملنے میں شفا ڈھونڈنا بہر حال ایک اذیت ناک تجربہ تھا۔ حال میں سابق ہو جانے والے ایک وزیر اعظم کا شمار میں انہی میں کروں گا جو ملنے سے پہلے ایک پیکر عظیم معلوم ہوتے تھے لیکن قریب سے دیکھنے اور سمجھنے پر میں اپنے آپ کو یہ یہ یقین دلائے بغیر نہ رہ سکا کہ موصوف کچھ بھی ہوں گے مگر ان کا کوی جوہر انہیں ایک معقول اور کم ترین سطح کا مثبت شخص قرار دلانے کے لیے کافی نہیں۔ ہاں اتنا ضرور ہوا کہ ان ابولعجوب کے باعث یہ عقدہ تو کھلا کہ تاریخ میں اس سے ملتے جلتے وصف رکھنے والے ہر دل عزیز اور محبوب رہنماؤں کے درجے پر کیسے فائز ہوئے گے۔ کلٹ اور کلٹ رہنما بہر حال ایک الگ موضوع ہے۔

تمہید طویل ہو جانے کا اندیشہ لاحق ہے جو اس وضاحت کے لیے ضروری تھی کہ سطحیت ایک سکہ رائج الوقت ہے۔ مگر ایسا بھی نہیں کہ ہیرے جواہر سرے سے وجود ہی نہ رکھتے ہوں۔ خال خال ہی سہی مگر اپنے کردار و افکار اور برتاؤ سے حیراں کر دینے والے زندگی پر اعتماد بنائے رکھتے ہیں۔ آپا نجمہ صدیقی کو ہم ایسا ہی اک گوہر خیال کرتے ہیں جن سے ہر بار ملنا اس خیال کو تقویت دیتا ہے کہ کچھ بھی ہو، زمین ابھی بانجھ نہیں ہوئی۔ سینکڑوں ’دوستوں‘ کو ہم پاگل پن کی جھلک دکھا کر بھگا دیا کہ اس ہجوم کے ہوتے زندگی میں سکون محال تھا۔

نجمہ آپا سے ایک بار میں نے کہا آپ کو پتہ ہے کہ میں پاگل ہوں۔ بولیں تبھی تو تم سے بات کر لیتی ہوں کہ خدا نارمل انسان کی بوریت سے بچائے۔ برسوں بعد ملاقات ہوتی ہے اور ہر بار تا دیر ان کی موجودگی کا احساس فضا کو معطر رکھتا ہے۔ اس بار آپا سے ملنا ایک اور شادمانی کا باعث رہا کہ وہ اپنی تحریریوں کا مجموعہ جسے انہوں نے ’وہیں ہم بھی تھے‘ کے زیر عنوان ایک نظمیہ جرنل قرار دیا، اپنے ساتھ لائی تھیں۔

آپا نجمہ صدیقی کی زندگی ڈویلپمنٹ سیکٹر میں گزری۔ استادوں کی استاد ہو کر بھی اپنا تعارف ایک ڈویلپمنٹ ورکر کے طور پر کراتی ہیں۔ ان کی نفیس اور وضع دار شخصیت کے باوجود ان کی لکھی کتاب کے اوراق الٹتے میں خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ ایک متمول زندگی گزاری لیکن مفلس و بے کس کے درد کو ایسے بیان کرتی ہیں گویا ان کی اپنی آپ بیتی ہو۔ کمزور طبقات کے آنسوو ںئی اور آہوں کو الفاظ کا روپ دینے کے ساتھ ساتھ انہوں نے آمروں، جابروں اور ان کے کاسہ لیسوں کے چہروں پر پڑا نقاب کمال خوبی سے اتار پھینکا ہے۔

اپنے کھرے جذبات کے اظہار کے لیے آپا نے بہت اچھا کیا کہ خود کو کسی لگے بندے اسلوب کے تابع نہ کیا۔ بندشیں ہمیں بے ساختگی سے محروم کر دیتی ہیں۔ آپا لبادے اوڑھ لیتیں تو سماج کے بدن میں پھیلے ناسور ان کی جراحی سے محفوظ رہ جاتا۔ انہوں نے عورت، اقلیت اور دوسرے کمزور لوگوں نوحہ لکھ کر سماج کے ٹھیکیداروں کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی اور یہ اس لیے سمجھ میں آتا ہے کہ ڈویلپمنٹ سیکٹر میں رہ کر انہوں نے ہمارے سماج میں گندھی گہری نا انصافیوں کو بہت قریب سے دیکھا۔

تاہم سہ سب لکھتے کبھی وہ ایک ننھی سی بچی کے خوابوں کی طرح اڑن کھٹولے میں بیٹھتی ہیں، بادلوں کے اس طرف خلاؤں کے اندر جھانک کر دیکھتی ہیں، آسانوں اور بادلوں سے محو گفتگو ہوتی ہیں اور پڑھنے والے کو گماں گزرنے لگتا ہے کہ جیسے وہ اس دلفریب سفر میں اکیلی نہ تھیں اور ’وہیں ہم بھی تھے‘ ۔ بس وہیں کہیں، قریب ہی۔

Facebook Comments HS