اونچے گهرانوں کے لاوارث لوگ

وہ شہر کے سب سے پوش علاقے کے ایک بنگلے میں نہایت عجلت میں داخل ہوئے تاکہ جلدی فارغ ہو پائے لیکن معلوم ہوا کہ ان کی باری آنے میں کافی وقت لگے گا کیونکہ بہت سارے مریض پہلے سے انتظار کر رہے تھے۔ وہ ڈاکٹر صاحب کے کمرے کے باہر دیگر بہت سارے غم کے ماروں کے ساتھ بیٹھ ہی گئے جن میں سے ہر ایک بیچارہ مایوسی، لاچاری اور بے بسی کا تصویر بنا بیٹھا تھا کیونکہ چکروں پہ چکر، دوائیوں پہ دوائی لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، خیر وہ بھی اپنے خیالوں میں گم رہا کہ بنگلے کے صحن یعنی چمن میں کرسی پر بیٹھے ایک بزرگ پر ان کی نظر پڑی جو دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنی خیالوں میں گم تھے نہ جانے کیوں وہ اس باریش بزرگ کے قریب جانے پر مجبور ہوا۔
بابا نے بھی ناگواری کی بجائے نہایت خندہ پیشانی سے ان کا استقبال کیا اور ساتھ والی کرسی پر بیٹھنے کا کہا۔ بیٹھتے ہی وہ بابا سے گویا ہوئے اور کہا کہ کسی نے یہاں کے ڈاکٹر کا پتہ دیا ہے کہ بہت ہی معروف، لائق اور باہر کی کئی کئی ڈگریاں رکھنے والے ڈاکٹر ہیں اور ہاں یہ بھی سنا ہے کہ صاحب نے بڑی غربت کی زندگی گزاری ہے، پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی لیکن والد نے خون پسینہ ایک کر کے دن رات محنت مزدوری کر کے انہیں پڑھوایا اور اس مقام تک پہنچایا وہ بولتا رہا اور کہا کہ کتنا خوش قسمت باپ ہے کہ اتنا بڑا بیٹا پایا لیکن جونہی ان کی نظریں اٹھی تو بابا کے آنکھوں سے آنسوؤں کے موٹے موٹے قطروں کو ان کی سفید داڑھی میں جذب ہوتے دیکھا، بابا حسرت بھرے لہجے میں بولا کہ ہاں اس معروف، بڑے اور خوش قسمت ڈاکٹر کا میں ہی خوش نصیب نہیں بلکہ بدنصیب باپ ہو، بہت ہی ارمانوں، خواہشوں، حسرتوں کو دل میں لئے ”جہنم“ سے گزر کر ”جنت“ میں آ ہی گئے لیکن یہاں تنہائیوں نے آ گھیرا، شوخیاں اور محبتیں روٹھ گئیں اپنائیت کے جذبات مانند پڑ گئے اور زندگی کے احساسات نے گویا دم توڑ دیا اور شاید زندوں کے قبرستان میں بسیرا ہونے لگا۔
بدگمانی کا شکار تو میں نہیں لیکن خوش فہمی میں کب تک مبتلا رہوں کہ شاید بیٹے کے ساتھ میرے لئے وقت ہی نہیں یا اس جانب اس کی توجہ ہی نہیں، بہو پہ بوجھ ہوں اس کا تو شکوہ ہی نہیں، لیکن یہ جو نواسے، نواسیوں کو دور رکھا جا رہا ہے تو یہ رلاتا بھی ہے اور تڑپاتا بھی اور جب دیکھتا ہوں کہ بہنوں کے لیے اکلوتا بھائی پھیکا پھیکا اور یہ بنگلہ اور اس کے مکین ان کے لیے تمام تر جذبات اور احساسات سے عاری ہوتے نظر آتے ہیں تو کلیجہ منہ کو آ جاتا ہے، خواہش ہے کہ دل پھٹے لیکن!
مریض مہمان نے آنسو پونچھتے ہوئے رخصت چاہی، سوری بابا پھر تو میں ہی خوش نصیب ہوں کہ کم وسائل کے ساتھ ہی سہی اپنے بچوں، نواسوں، نواسیوں اور انسانوں کے درمیان محبت اور چاہت کی زندگی گزار رہا ہو!
”عبدالستار ایدھی مرحوم سے ایک انٹرویو میں پوچھا گیا، آپ نے ہزاروں لاوارث لاشیں دفنائیں، کبھی کسی لاش کی بگڑی حالت یا اس پر تشدد دیکھ کر رونا آیا؟
انھوں نے آنکھیں بند کر کے گہری سوچ میں غوطہ زن ہوتے ہوئے کہا تشدد یا بگڑی لاش تو نہیں البتہ ایک مرتبہ میرے رضاکار ایک صاف ستھری لاش لے کر آئے جو تازہ انتقال کیے بوڑھے مگر کسی پڑھے لکھے اور کھاتے پیتے گھرانے کی لگ رہی تھی۔ اس کے سفید چاندی جیسے بالوں میں تیل لگا ہوا تھا۔ اور سلیقے سے کنگھی کی ہوئی تھی۔ دھوبی کے دھلے ہوئے سفید اجلے کلف لگے سوٹ میں اس کی شخصیت بڑی باوقار لگ رہی تھی۔ مگر تھی وہ اب صرف ایک لاش، ایدھی صاحب پھر کچھ سوچتے ہوئے گویا ہوئے۔
ہمارے پاس روزانہ کئی لاشیں لائی جاتی ہیں۔ مگر ایسی لاش جو اپنے نقش چھوڑ جائے۔ کم ہی آتی ہیں اس لاش کو میں غور سے دیکھ رہا تھا۔ کہ میرے رضاکار نے بتایا۔ اس نے کراچی کی ایک پوش بستی کا نام لے کر کہا کہ یہ لاش اس کے بنگلے کے باہر پڑی تھی۔
ہم جونہی بنگلے کے سامنے پہنچے تو ایک ٹیکسی میں سوار فیملی جو ہمارا ہی انتظار کر رہی تھی اس میں سے ایک نوجواں برآمد ہوا اور جلدبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک لفافہ ہمیں تھماتے ہوئے بولا۔ یہ تدفین کے اخراجات ہیں۔ پھر وہ خود ہی بڑبڑایا۔ یہ میرے والد ہیں۔ ان کا خیال رکھنا اچھی طرح غسل دے کر تدفین کر دینا۔ اتنے میں ٹیکسی سے آواز آئی۔ تمھاری تقریر میں فلائٹ نکل جائے گی۔ یہ سنتے ہی نوجواں پلٹا اور مزید کوئی بات کیے ٹیکسی میں سوار ہو گیا اور ٹیکسی فراٹے بھرتی ہوئی آنکھوں سے اوجھل ہو گئی۔
ایدھی صاحب بولے اس لاش کے متعلق جان کر مجھے بہت دکھ ہوا اور میں ایک بار پھر اس بدقسمت شخص کی جانب دیکھنے لگا تو مجھے ایسے لگا جیسے وہ بازو وا کیے مجھے درخواست کر رہا ہو کہ ایدھی صاحب ساری لاوارث لاشوں کے وارث آپ ہوتے ہیں مجھ بدقسمت کے وارث بھی آپ بن جائیں میں نے فوراً فیصلہ کیا کہ اس لاش کو غسل بھی میں دوں گا اور تدفین بھی خود کروں گا پھر جونہی غسل دینے لگا تو اس اجلے جسم کو دیکھ کر میں سوچ میں پڑ گیا کہ جو شخص اپنی زندگی میں اس قدر معتبر اور حساس ہو گا۔
اس نے اپنی اولاد کی پرورش میں کیا ناز و نعم نہ اٹھائے ہوں گے ۔ مگر بیٹے کے پاس تدفین کا وقت بھی نہ تھا۔ اسے باپ کو قبر میں اتارنے سے زیادہ فلائٹ نکل جانے کی فکر تھی۔ اور یوں اس لاش کو غسل دیتے ہوئے میرے آنسو چھلک پڑے۔ پھر وہ اپنے کندھے پر رکھے کپڑے سے آنسو پونچھتے ہوئے بولے، اس دن میں انسانیت کی ڈوبتی نئیا پر رو پڑا۔ کاش کہ ہم اپنی اولادوں کی عیش و عشرت کی بجائے بہتر تعلیم و تربیت پر زیادہ فوکس کریں۔ ”
یہ ایک دو نہیں بلکہ بیسیوں واقعات ہیں جو ہمارے مشاہدے میں ہیں اور ایسے بہت سارے کردار ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔
بڑے بڑے لوگ یاد رکھئے کہ کامیاب آخرت یعنی جنت پانے سے غافل رہنا تو اپنی جگہ جہالت اور حماقت ہے لیکن خوبصورت دنیا یعنی اپنی دنیا اور گھروں کو جنت بنانے سے غفلت برتنا بھی سراسر گھاٹے کا سودا ہے اور کبھی زندگی میں حسرت اور پچھتاوے کے سوا پھر کچھ بھی ہاتھ نہیں اتا۔
گھروں کا ٹوٹنا خاندانوں کا بکھر جانا، رشتوں کا تقدس ختم ہونا، صلہ رحمی کا نایاب ہوتا جانا اور معاشرتی اقدار کی اہمیت، حیثیت اور مقام کم سے کم تر ہونا بلکہ سرے سے ختم ہوکے رہنا ایک بڑا المیہ ہے جو اجتماعی دانش کے لئے ایک بڑا امتحان ہے کہ کس طرح تعمیر افکار اور اصلاح معاشرہ کی ایک بڑی تحریک اٹھائی جائے کہ معاشرتی قدروں کو زندہ کر کے ایک خوبصورت معاشرے کی تشکیل کی جا سکے۔
یاد رہنا چاہیے کہ ایک اچھے اور قابل اطمینان معاشرے کی بنیاد ایک خوبصورت گھر ہی پر ہے۔ گھروں کو جنت بنانے میں اولین اور اہم ترین کردار بڑوں یعنی والدین ہی کا ہے۔ اپنی نئی نسل کو دین الہی، دینی و معاشرتی اقدار، روایات اور آداب سے روشناس کرانا والدین کی اولین ذمہ داری، وقت کا تقاضا اور بڑھاپے کا سہارا ہے۔
”اونچے گھرانوں“ کے مکینوں اور بڑے بڑے رتبے حاصل کرنے والے دوستوں کو فادر ڈے مبارک ہو۔
(تاخیر کے لئے معذرت)

