بکنی: تیراکی کا مختصر ترین لباس کیسے فیشن کی علامت بن گیا؟

کاتیا فورمین - بی بی سی


بکنی

1946 میں جب سٹِرنگ بکنی شروع کی گئی تھی تو یہ فورا ہی سنسنی خیز طور پر مشہور ہو گئی تھی۔ کاتیا فورمین بتاتی ہیں کہ کس طرح یہ چھوٹا سا لباس فیشن کی علامت بن گیا۔

کس نے سوچا ہوگا کہ 1940 کی دہائی کے اواخر میں دور دراز کے بحر الکاہل کے علاقے اٹول کا نام عوام کے ذہنوں میں موسم گرما کے سب سے پرکشش لباس سے جڑ جائے گا؟

اس سوئمنگ سوٹ میں ملبوس خواتین کے لیے ’بم شیل‘ کی اصطلاح ایک مقبول حوالہ بن چکی ہے۔

فرانسیسی مکینیکل انجینئر سے بکنی ڈیزائنر بننے والے، لوئس ریارڈ، جنھیں لباس کے جدید دور کے اوتار یا گاڈ فادر کے طور پر جانا جاتا ہے، کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چھوٹے سائز کے اس لباس کو یہ اصطلاح نوازنے والے شخص ہیں۔

سنہ 1946 میں لوئس ریارڈ نے سٹرنگ بکنی لانچ کی اور اس کی ماڈلنگ کے لیے کیسینو ڈی پیرس سے ایک رقاصہ کو بھرتی کیا۔

بکنی کا نام بحر الکاہل کے دور دراز کے علاقے اٹول سے لیا گیا، جہاں 1940 کی دہائی کے آخر میں جوہری تجربے کیے گئے تھے۔

بکنی کا سلسہ صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ سسلی میں چوتھی صدی کے رومن ولا میں ایک موزیک (پینٹنگ) ہے جسے ’بکنی گرلز‘ کہا جاتا ہے۔

سنہ 1950 میں فلم کی شوٹنگ سے وقفے کے دوران مارلن منرو ہالی ووڈ میں اپنے گھر کے قریب ساحل سمندر پر گھوم رہی ہے۔

مارلِن منرو
مارلن مونرو اپنے گھر کے نزدیک ساحلِ سمندر پر

1956 کی فرانسیسی فلم ’اینڈ گاڈ کرئیٹڈ وومین‘ میں بریجٹ بارڈوٹ کے کردار نے ایک چھوٹے سے لباس میں ناظرین کو حیران کردیا۔

1966 میں راکیل ویلچ ’ون ملین ایئرز بی سی‘ میں غاروں میں رہنے والی خاتون کے طور پر نظر آئیں، بکنی کے سفر میں یہ بھی ایک یادگار لمحہ تھا۔

اس مختصر ترین لباس کی ایجاد کی کہانی کچھ یوں ہے کہ لوئس ریارڈ نے جب پیرس میں اپنے والدین کے زیر جامہ کاروبار کو سنبھالا تو ان کا فیشن ڈیزائنر جیکوئیس ہائم سے دنیا کا مختصر ترین لباس ایجاد کرنے کا مقابلہ شروع ہو گیا۔

اس مقابلے کی وجہ یہ تھی کہ فرانس میں خواتین کو ساحلوں پر تیراکی کے لباس کے کونے موڑتے ہوئے دیکھا گیا۔ یاد رہے کہ سب سے پہلے دو حصوں پر مشتمل خواتین کے لیے تیراکی کا لباس کارل جنٹینز نامی ڈیزائنر نے سنہ 1913 میں ایجاد کیا تھا۔

اپنی تکنیکی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے لوئس ریارڈ نے اس لباس میں چند تبدیلیاں کیں اور 1946 میں سٹرنگ بکنی لانچ کی جو کپڑے کی چار تکونوں کے ذریعے تیار کی گئی تھی اور اسے باندھنے کے لیے پتلے دھاگوں کا استعمال کیا گیا تھا۔

لوئس ریارڈ نے اپنی تخلیق کی رونمائی کے لیے کسینو ڈی پیرس کی ایک رقاصہ کا استعمال کیا جو ایک ثقافتی دھماکہ ثابت ہوا۔ پہلی بار بکنی کا نچلا حصہ ناف سے نیچے تک پہنچ گیا۔

یہ ڈیزائن اب تک ساحل پر پہنے جانے والے تمام لباسوں سے بہت مختلف تھا جس کی ہوشیاری سے چلائی جانے والی اشتہاری مہم کے دوران ’کم ہی زیادہ ہے‘ کے نعرے میں دعویٰ کیا گیا کہ دو حصوں کا تیراکی کا پہناوا اس وقت تک مستند نہیں ہو سکتا جب تک کہ اسے شادی کی انگوٹھی کے سوراخ سے نہ گزارا جا سکے۔

درحقیقت بکنی کسی نہ کسی شکل میں زمانہ قدیم سے موجود رہی ہے۔ اسی طرز کے مختصر لباس میں ملبوس چنچل لڑکیوں کی تصاویر سسلی کے رومی ولا میں ملی ہیں، جس کے بارے میں گمان کیا جاتا ہے کہ یہ چوتھی صدی عیسوی سے تعلق رکھتی تھیں۔

یہ لباس جدید دور کی بکنی سے بھاری ہے کیوںکہ غالبا اسے چمڑے سے تیار کیا گیا تھا جو شاید پانی میں بہت کارآمد نہ ہوتا ہو لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔

جس طرح رومی شہنشاہ میکسملیئن جو ممکنہ طور پر اس تصویر کی تخلیق کی وجہ تھے، صرف اپنی تسکین چاہتے تھے، ویسے ہی ٹیسکٹائل انجینیئرنگ کا شاہکار سمجھی جانے والی جدید دور کی بکنی بھی دراصل حسن نظر رکھنے والوں کے لیے بنی ہے۔

فلمی پیچ و خم

بکنی کی تخلیق کا سفر طے کرنے میں فلمی دنیا کی کئی نامور شخصیات نے بھی اہم کردار ادا کیا جس سے اس مختصر لباس کو خواتین کی آزادی اور جسمانی اعتماد کے نشان کے طور پر شناخت ملی۔

اہم لمحات میں 1956 کی فرانسیسی فلم اینڈ گاڈ کرئیٹڈ وومین کا وہ سین بھی شامل ہے جس میں بریجٹ بارڈوٹ اور سامعین کے درمیان کپڑے کے چند ٹکڑے ہی باقی تھے۔

ایسے ہی پہلی جیمز بانڈ گرل ارسلا اینڈریس کا 1962 میں فلم ’ڈاکٹر نو‘ میں بکنی میں ملبوس سین بھی کافی مشہور ہے جس میں چھری کی بیلٹ لٹکائے وہ پانی سے برآمد ہو کر شائقین کے دلوں پر بجلی گراتی ہیں۔ اس سین کو بعد میں ایک اور جیمز بانڈ فلم ’ڈائی این ادر ڈے‘ میں ہیلی بیری پر بھی فلمایا گیا۔

ارسلا اینڈریس کی بکنی 2001 میں لندن کے کرسٹی میں 35000 پاؤنڈ کے عوض فروخت ہوئی۔

امریکی میگزین سپورٹس السٹریٹڈ نے سووم سوٹ کا پہلا ایڈیشن 1964 میں شائع کیا۔ اسی سال آسٹریا میں پیدا ہونے والے روڈی گرنریچ، جو جنسی آزادی کے حامی تھے، نے متنازع مونوکنی متعارف کروائی جس میں جسم کا اوپر کا حصہ مکمل طور پر عریاں تھا۔

گرنریچ کی ایجاد نے 1970 کی دہائی میں طوفان پربا کیا لیکن ان کی یہ پیشگوئی کبھی سچ ثابت نہیں ہوئی کہ پانچ سال میں عورت کی چھاتی سے پردہ اٹھ جائے گا۔

مونوکنی کی چھوٹی بہن ’پبکنی بنی‘ کو سنہ 1985 میں متعارف کروایا گیا لیکن یہ بھی زیادہ کامیابی حاصل نہیں کر پائی۔ آج مونوکنی ایسی بکنی کو کہا جاتا ہے جس میں اوپر کا حصہ نہیں ہوتا جبکہ اس کی اصلی شکل وکٹوریا سیکرٹ کے پاس ہالف کنی کی شکل میں موجود ہے جس میں زیر جامہ کو باندھنے کے لیے دو نازک سے دھاگے گردن کے گرد گزارے جاتے ہیں لیکن ان سے چھاتی نہیں ڈھانپی جا سکتی۔

ایسا لباس شاید برازیل کے شہر ریو ڈی جنیریو میں استعمال ہو جائے جہاں پر ایسے بھڑکیلے تیراکی کے لباس پہننے کا رواج کافی پرانا ہے۔ اس کی ایک مثال سنہ 1948 سے ملتی ہے جب تین لڑکیوں نے دو مختصر حصوں پر مشتمل لباس پہن کر ساحل پر ایک تنازعے کا آغاز کر دیا تھا۔

بکنی

بکنی کی جدت

گذشتہ چند دہائیوں کے دوران بکنی کی کئی نئی شکلیں بھی سامنے آئی ہیں۔ ان میں ٹینکنی، برازیلین تھونگ بھی شامل ہیں۔

لیکن حالیہ برسوں میں ایک ایسے لباس کی واپسی ہوئی ہے جس میں جسم زیادہ ڈھکا رہتا ہے اور دوسری جانب دو مختلف حصوں کی بجائے ایک ہی حصے پر مشتمل تیراکی کا لباس بھی دوبارہ سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔

ایک ایسی دنیا میں جہاں مشہور شخصیات سووم سوٹ میں شاپنگ مال جا سکتی ہیں (میں ریحانہ کی بات کر رہی ہوں) جسم کو ڈھانپنے والا لباس کئی لوگوں کے لیے ایک متبادل ہے۔

سادہ لیکن طاقتور، درحقیقت یہ بکنی کا دیرپا اثر ہے، وہ معاشی ہو یا پھر بطور ایک فیشن، جس نے مختصر ترین کپڑوں کے باوجود اس کو ایک ایسی نشانی بنا دیا جس کے ہر لمحہ بدلتے ڈیزائن میں وقت کی تبدیلی کی نشانیاں پنہاں ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25377 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments