پہلا تاثر حتمی یا فریبی؟
ہم نے اپنی زندگیوں میں لوگوں کو پہچاننے کے پیمانے، اندازے بہت محدود رکھے ہیں اور ایک سب سے غلط چیز یہ ہے کہ ہم محض ایک سے دو ملاقات میں ہی اگلے کے بارے میں اپنی حتمی رائے دے دیتے ہیں۔ وہ رائے اچھی بھی ہو سکتی ہے اور بری بھی ہو سکتی ہے۔ ہر انسان پیاز کی مانند ہوتا ہے۔ ہر ملاقات، نشست، گفت گو کے بعد شخصیت کے مزید پہلو وا ہوتے ہیں۔ پرتیں ہٹتی ہیں۔ اگر پہلے سے ہی کوئی حتمی رائے قائم کرلی جائے تو بہت سی ملاقات کے بعد شخصیت کے جب مزید پردے ہٹتے ہیں، کردار کی حقیقت کی عیاں ہوتی ہے تو دو رویے سامنے آتے ہیں۔
پہلا رویہ تو خوشی کا ہوتا ہے کہ اگلے کے بارے میں جو اچھی رائے قائم کی، دل میں جو مقام دیا، جس لائق سمجھا، جو اہمیت دی وہ بالکل درست تھی کہ اگلا واقعی بلند کردار اور اچھے اوصاف کا حامل ہے، جس کے بعد اس سے تعلق مزید گہرا، اپنائیت اور انسیت کا قائم ہوتا چلا جاتا ہے جو عقیدت و احترام کا روپ دھار لیتا ہے۔
دوسرا رویہ عموماً حیرانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ حیرانی دو طرح کی ہوتی ہے اور میں یہ حیرانی زندگی میں لوگوں کو پہچاننے کے مختلف تجربات میں سے ایک اہم تجربے میں شمار کرتی ہوں۔ پہلی حیرانی اسی لیے ہوتی ہے کہ ہم نے اگلے جو سمجھا تھا وہ ویسا بالکل بھی نہ تھا۔ وہ باہر سے یا شروع میں جس رویے کو ظاہر کر رہا تھا وہ اس کی حقیقت اور اندرون خانہ کے عین برعکس تھا۔ تب اس شخصیت پر قائم کی جانے والی جلد بازی کی ایسی رائے جس نے اس کے ساتھ تعلق کو مضبوطی کی علامت سمجھا وہ کردار کی پرتیں ہٹنے، کھلنے اور مزاج سے آگاہ ہونے کے بعد ڈھیر ہوجاتا ہے۔
دوسری حیرانی اس لیے ہوتی ہے کہ اگلے کے بارے میں جن سنی سنائی باتوں پر یقین کیا اور پھر یقین کی اسی عینک سے اس کو دیکھا۔ دل میں اس کے متعلق اچھا گمان نہ رکھا اور ساتھ اگلے کو بھی اس سے بدظن کیا۔ حتٰی کہ بالمشافہ ملاقات کے بعد بھی دل میں تنگی رہتی ہے۔ لیکن جب اس انسان کوئی معاملہ ہو، کسی حوالے سے کھل کر بات ہو کہ وہ روا روی میں کچھ بول جائے تب معلوم ہوتا ہے کہ اس سے متعلق جو منفی رائے یا رائے عامہ مشہور ہے یا جو پیدا کی جا رہی ہے وہ تو سراسر جھوٹ تھی۔
یہ تو اچھا اور نیک فطرت بندہ ہے اور خوامخواہ اسے بغیر جانے اس کے بارے اپنے دل میں کتنے غلط جذبات رکھے جس پر ایک باضمیر اور حساس انسان اندر ہی اندر شرمندہ ضرور ہوتا ہے اور پھر اگلے کے بارے میں اپنی رائے تبدیل کر کے درست کر لیتا ہے۔ کردار کے ظاہر ہونے کی حقیقت کی یہ حیرانی بھی اسے بہت کچھ سکھاتی ہے کہ آئندہ کسی کی سنی سنائی بات پر کسی شخصیت یا کردار پر اس بندے جس کے بارے میں رائے دی جا رہی ہے، خود ملنے سے پہلے اس کے لیے کوئی حتمی سوچ یا رائے نہ رکھی جائے۔
اکثر اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی انسان پریشان نظر آتا ہے، غصے میں ہوتا ہے یا پھر جھنجھلا رہا ہوتا ہے، یا اس کا کوئی کام خراب نظر آتا ہے تو اس کے پیچھے ضرور کوئی نہ کوئی ایسی بات یا واقعہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ پریشان ہوا اور پھر اس رویے کا اظہار کیا، یہی صورت کسی خوش اخلاقی پر مبنی رویے کے اظہار کی بھی ہوتی ہے کہ پس پردہ کوئی کام بن گیا ہوتا ہے یا کوئی اچھی خبر ملتی ہے جس کی وجہ سے اگلا خوش باش نظر آتا ہے تو اس خوشی کے پیچھے بھی کام کے ہو جانے جیسے اسباب ہوتے ہیں۔ تو ہر تاثر کا کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے اور بعض اوقات جب نہیں ہوتا تب حقیقت عیاں ہوتی ہے جس کے ظاہر ہونے میں وقت لگتا ہے۔
مشہور جملہ ہے ”پہلا تاثر ہی حتمی اور قطعی تاثر ہوتا ہے“ ۔ یہ سراسر غلط اور دھوکے باز جملہ ہے کیوں کہ ہماری زندگیوں میں آنے والے کئی کردار اس قدر گہرے اور خاموش ہوتے ہیں کہ ہم ان کی گہرائی کا احاطہ نہیں کر پاتے اور نہ ہی سمجھ پاتے ہیں اور پھر یہی کردار ہمیں زندگی کے سب سے اہم اسباق، تجربات اور کیفیات سے متعارف کرواتے ہیں جس کے بعد ہماری زندگیوں اور شعور میں لوگوں کو سمجھنے میں احتیاط کے پہلو نمایاں ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے کبھی کسی پر فوراً سے کوئی رائے مت قائم کیجیے۔ پہلے دیکھیے، سمجھیے، تولیے، ٹٹولیے، کھنگالیے پھر کوئی رائے قائم کیجیے۔


