تخت یا تختہ: ن اور جنون میں سے کون جیتے گا


وفاق میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد جب سپریم کورٹ نے منحرف اراکین کے ووٹ کو رد کر کے انہیں ڈی سیٹ کرنے کا فیصلہ جاری کیا تو پنجاب میں آئینی بحران نے جنم لے لیا۔ پنجاب میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے استعفیٰ کے بعد نئے وزیر اعلی ٰ کے انتخاب کے وقت 197 اراکین نے حمزہ شہباز کو ووٹ دیا جس میں 20 منحرف اراکین بھی تھے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جب یہ 20 منحرف اراکین ڈی سیٹ ہوئے تو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ان سیٹوں پر ضمنی انتخابات کا اعلان کر دیا۔

اس اعلان کے بعد پی ٹی آئی نے میدان کھولا نہ چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ان انتخابی مہم کا آغاز کر دیا۔ پاکستان تحریک انصاف نے تو آزادی کے ساتھ اپنے امیدواروں کا انتخاب کر لیا، مگر مسلم لیگ (ن) اس معاملے میں دباؤ کا شکار رہی۔ ایک طرف منحرف اراکین کو ٹکٹ دینے کا معاملہ تھا اور دوسری طرف اپنے ورکرز کی ناراضگیاں، اس مشکل مرحلے میں مسلم لیگ (ن) نے تمام حلقوں میں منحرف اراکین کو مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹیں جاری کر دیں۔

یہ ضمنی انتخابات عام انتخابات جتنی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ مستقبل وزیراعلیٰ کا فیصلہ انہی انتخابات کے نتیجے پر ہو گا۔ ان ضمنی انتخابات میں دیکھا جائے تو 10 ایسے امیدوار ہیں جو کہ 2018 ء کے عام انتخابات میں آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے تھے۔ اب ان کے پاس مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ بھی ہے مگر اس وقت پٹرول کی قیمتیں اور مہنگائی ان کے لئے بڑا چیلنج ثابت ہو رہی ہے۔ اگر ان حلقوں میں لاہور کی 4 سیٹوں کا ذکر کریں تو 2 پر مسلم لیگ (ن) ، اور 2 سیٹوں پر تحریک انصاف آگے نظر آتی ہے۔

اس کی بڑی وجہ مسلم لیگ (ن) کے ورکرز کا منحرف اراکین کو مکمل طور پر قبول نہ کرنا اور مہنگائی اور پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ مگر یہ رجحان دیہاتی علاقوں میں موجود نہیں۔ بہاولنگر میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی پوزیشن کافی اچھی نظر آ رہی ہے جبکہ یہی صورتحال لیہ اور جھنگ میں بھی نظر آ رہی ہے، جبکہ بھکر میں تحریک انصاف آگے نظر آ رہی ہے جس کی بنیادی وجہ مسلم لیگ (ن) کے مقامی عہدیداروں اور ورکرز کی نوانی گروپ کے ساتھ ناراضگیاں ہیں۔

ملتان میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سلیمان نعیم کو رفاہی کاموں کی وجہ سے پذیرائی حاصل ہے اور اب ان کے پاس مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ بھی موجود ہے۔ فیصل آباد میں مسلم لیگ (ن) کو اندرونی اختلافات جیسے مسائل کا سامنا ہے اور تنظیم پوری طرح لیگی امیدوار کی مہم نہیں چلا رہی جس کا بھرپور فائدہ تحریک انصاف اٹھا رہی ہے اور ساہی خاندان اپنا اثر و رسوخ بھی استعمال کر رہا ہے۔ لودھراں میں مسلم لیگ (ن) کا آپس میں ہی مقابلہ ہے۔

ایک طرف نذیر بلوچ مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ پر اور دوسری طرف پیر رفیع الدین جن کی صدیق بلوچ مکمل طور پر حمایت اور مہم چلا رہے ہیں۔ یہاں پر بھی مسلم لیگ (ن) کو اپنے ہی ووٹوں کی تقسیم کا مسئلہ درپیش ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے جہانگیر ترین نے لودھراں میں اس طرح کی مدد فراہم نہیں کی جس کی ان سے توقع کی جا رہی تھی۔ شیخوپورہ میں مسلم لیگ (ن) کا امیدوار تجربہ کار تو ہے مگر ان کا پچھلے تین سالوں میں عوامی رابطے نہ ہونے کے برابر تھا۔

وہاں پر تحریک انصاف کی تنظیم سازی بھی بہت اچھی ہے اور بہت سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران اپنے امیدوار کی ڈور ٹو ڈور مہم بھی چلا رہے ہیں۔ مگر وہاں پر تحریک انصاف کا امیدوار نیا ہے جس کا فائدہ مسلم لیگ (ن) اٹھا سکتی ہے۔ خوشاب میں تحریک انصاف بہترین انتخابی مہم چلا رہی ہے جس سے حلقے میں کانٹے کے مقابلہ کی توقع ہے۔ دراصل یہ مقابلہ امین اسلم اور سمیرا ملک کے درمیان ہی ہو گا۔ کون زیادہ وقت دے کر حلقے کے ووٹر کو اپنی طرف راغب کر سکتا ہے۔

ڈیرہ غازی خاں میں پی ٹی آئی پوری طرح میدان میں موجود ہے وہاں پر سردار عثمان بزدار اور زرتاج گل اہم کردار ادا کر رہی ہیں بظاہر طور پر ایسا لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی ڈیر غازی خان سے آسانی کے ساتھ جیت جائے گی۔ مظفر گرہ میں پارٹیاں ابھی تک اپنا ووٹ بنک قائم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ آج بھی وہاں پر سیاست شخصیات کے گرد گھومتی ہے اور سیاسی دھڑے آج بھی جیت اور ہار میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ ساہیوال میں مسلم لیگ کی تنظیم نعمان لنگڑیال کے ساتھ کھڑی ہے۔

مسلم لیگ نون یہ سیٹ بھی جیتنے کی پوزیشن میں ہے۔ اگر ہم مجموعی طور پر مسلم لیگ نون کا دیکھیں کہ ان انتخابات سے پہلے تو یہ جماعت جنوبی پنجاب میں جلسہ کرنے کے قابل بھی نہیں تھی اب ملتان، جھنگ، لیہ میں مریم نواز بڑے بڑے جلسے کر رہی ہیں۔ یہ نا صرف ان انتخابات میں بلکہ اگلے عام انتخابات میں بھی مسلم لیگ نون کے لیے سود مند ہوں گے۔ پاکستان تحریک انصاف اگر 13 سیٹیں حاصل کر لیتی ہے تو اس سے ناصرف قومی سیاست بدل جائے گی بلکہ اس سے عام انتخابات کی راہ بھی ہموار ہو جائے۔ بظاہر ابھی تک پاکستان تحریک انصاف 6 سیٹوں پر ایک سیٹ پر آزاد اور 13 سیٹوں پر مسلم لیگ نون کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے۔

Facebook Comments HS