بابا دارے دار اور شیخ رشید
یہ اس وقت کی بات ہے جب ہر گاؤں میں ایک دارہ ہوتا تھا ہر دارے میں ایک دارے دار بھی ہوتا تھا۔ گاؤں کے سارے معاملات شادی بیوہ، فوتگی، پریاہ پنچایت تک سارے کام دارے میں ہی ہوتے تھے۔ دارے دار کا کام دارہ سنبھالنا، شادی ہو تو چارپائیوں کا انتظام کرنا، فوتگی ہو تو دارے میں پھوڑ پھلانا اور ہر موقع پر حقے گرم رکھنا۔ یہ کہانی ایک دارے دار کی ہے جو کافی عمر کا تھا اور گاؤں کے لڑکے اس کے پاس بیٹھ کر وقت گزاری کرتے تھے۔
بابا دارے دار گاؤں کی ستر اسی سال تک کی گاؤں کی ہسٹری سے واقف تھا اور وہ اس ہسٹری کو بڑی جرات کے ساتھ پاس بیٹھنے والا کو منتقل کرتا رہتا تھا۔ چونکہ وہ عام دنوں میں فارغ ہوتا تھا اس لیے عام طور پر وہ پھوڑ پر لیٹا رہتا، وہاں ہی سو جاتا، جب آنکھ کھلنی حقے کا کش مار لیتا اور پھر سو جانا، بیٹھتا اسی وقت تھا جب وہ کھانا کھا رہا ہوتا تھا۔ لڑکوں نے بابے دارے دار سے سوال کرنے، بابے نے لیٹے لیٹے سوالوں کے جواب دیتے جانا، حقے کے کش لگاتے جانا، ناک کے راستے مونچھوں کو چھوتا ہو دھواں باہر۔ بابے دارے دار کا تمباکو اتنا کڑوا کہ ناک سے نکلنے والے دھوئیں نے مونچھوں کو عجب قسم کا رنگ کیا ہوا تھا۔
سوال، بابا جب فلاں آدمی نے کنویں میں گر کر خود کشی کی تھی، آپ کو اس وقت کا پتہ ہے ۔ بابے نے ایک ہاکہ بھرنا، پھر ایک بڑا سوٹا، پھر ارد گرد سے دیکھنا اور کہنا، ہاں، میں ادھر اسی جگہ پھوڑ پر سویا ہوا تھا، یہ خبر نکل گئی، وہ خود کشی نہیں، گاموں کیاں نے اس کو قتل کیا تھا، وہ تیڑو بہت تھا اور ان کو وارا نہیں کھاتا تھا۔
بابا وہ بھینس چوری والی کیا بات تھی ۔ مجھے ساری بات کا پتہ ہے، میں ادھر ہی بیٹھا روٹی کھا رہا تھا، بھینس برآمد ہوئی تھی ٹھوٹھے والے میراثیوں کے گھر سے، تم بتاؤ کیا میراثی چوہدریوں کی بھینس چوری کر سکتے تھے ۔ وہ بھینس چوہدری کے فلاں بھتیجے نے چوری کروائی تھی، چوہدری نے دانائی کرتے ہوئے اپنے بھتیجے کو بدنامی سے بچا لیا اور میراثیوں کو سرسری سا جتی ترپڑ کر دیا تاکہ لوگ سمجھیں کہ وہی چور ہیں۔
بابا کہتے ہیں ایک بار ساتھ والے نالے میں بہت پانی آیا تھا ۔ کچھ گھر بھی بہہ گئے تھے ۔ وہ سیلاب سارا میں نے پاس کھڑے ہو کر دیکھا تھا، ہوا یہ عیشاء سے تھوڑا بعد میں نے یہاں بیٹھ کے کھانا کھایا اور حقہ پی رہا تھا کہ پھوار شروع ہو گئی، میں نے دارے کے صحن سے سارا سامان اکٹھا کیا اور پسار میں جا کر لیٹ گیا، بارش نے زور پکڑا، موسم اچھا ہو گیا، مجھے نیند آ گئی، میں صبح جاگا، یہاں حقے میں پانی ڈال رہا تھا کہ شور پڑ گیا کہ نالے کے پانی نے گاؤں کوڈھا لگا دی ہے، میں نے حقے کو جہاں اب تم بیٹھے ہوئے ہو وہاں رکھ دیا اور خود نالے کے کنارے پہنچ گیا، میں نے گلیوں سے جاتے ہوئے دیکھا سب عورتوں نے اللہ سے دعا کے لیے گھروں میں مصلے ڈالے ہوئے تھے اور مرد بیلچے اور کسیاں لے کر ڈھا والی جگہ پر پہنچ رہے تھے، میرے دیکھتے ہی دیکھتے پانی نے گاؤں کے آخر میں بنے ہوئے ڈنگروں والے دو احاطے بہا دیے اور کسی نیک دھی بہن کی دعا سے نالے نے گاؤں کی ڈھا چھوڑ دی۔ ساتھ والا گاؤں سارا بہہ گیا تھا، یہ جو تمہارے ہمسائے نہیں ۔ او، یہ بڑے گھر والے ۔ ان کے گھر کا چھت کبھی دیکھا ہے ۔ سارے بالے اور شہتیر انہوں نے اس دن چوری کیے تھے۔
سوال یہ ہے کہ بابے دارے دار کی اتنی پرانی باتیں آج کیوں یاد آ رہی ہیں ۔ میں نے ہر طرح کی وزارت کا مزہ لینے والے محترم شیخ رشید صاحب کے ایک دو انٹرویو سنے، اس کے بعد مجھے بابا دارے دار یاد آ گیا۔ شیخ صاحب سے جب بھی کسی وقوعے بارے سوال ہوتا ہے تو بابے دارے دار کی طرح ان کا جواب ہوتا ہے، او بھائی میں نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوا ہے، ہوا یوں کہ میں اپنی وزارت کے دفتر میں سویا ہوا تھا یا میں اپنے دفتر میں کھانا کھا رہا تھا۔
سوال شیخ صاحب کیا آپ کو پتہ ہے مئی کی گرم رات بارہ بجے وزیر اعظم ہاؤس میں ہیلی کاپٹر پر کون آیا تھا ۔ آپ اب کی بات کر رہے ہو، میں اس وقت کا بھی چشم دید گواہ ہوں جب کباڑی بازار سے بلے آئے تھے، مجھے یہ بھی پتہ ہے بلے کس دکان سے آئے تھے، حالانکہ میں اس وقت وزارت والے دفتر میں صوفے پر سویا ہو تھا۔ سوال بلے کون لے کر آیا تھا؟ سب کو پتہ ہے، آپ مجھ سے کیوں پوچھتے ہیں۔ ہاں میں وزارت داخلہ والے اپنے آفس میں کھانا کھا رہا تھا تو مجھے کسی نے بتایا کہ ہیلی آیا ہوا ہے۔
شیخ صاحب پھر آپ نے کیا کیا ۔ میں کھانا کھاتا رہا، اور میں نے کیا کرنا تھا۔ شیخ صاحب آپ کو پتہ ہے وزیر اعظم ہاؤس قیدیوں والی گاڑی آئی تھی۔ مجھے سب پتہ ہے، جناب اس دن میرا کوئی دوست کراچی سے آیا اور میرے لیے وہاں سے برفی لایا، مجھے یاد ہے جب قیدیوں والی گاڑی آئی اس وقت میں اپنی وزارت کے دفتر میں صوفے پر بیٹھ کر وہی برفی کھا رہا تھا۔ قیدیوں والی گاڑی آپ نے بھیجی تھی ۔ ۔ نہیں میں کیوں بھیجتا ۔ آپ وزیر داخلہ تھے۔ میں تھا پر گاڑی کسی اور نے بھیجی تھی۔ گاڑی کس نے بھیجی تھی ۔ سب کو پتہ ہے، آپ مجھ سے کیوں پوچھتے ہیں ۔ اس لیے پوچھ رہا ہوں کہ قیدیوں والی گاڑی پر وزارت داخلہ کا حکم چلتا ہے۔ ( ارد گرد دیکھتے ہوئے ) اور بھی ہیں جن کا چلتا ہے۔ اور کون ۔ سب کو پتہ ہے آپ مجھ سے کیوں پوچھتے ہیں ۔
بابے دارے دار اور شیخ صاحب میں کچھ باتیں مشترک ہیں، جیسے ہر وقوعے کا چشم دید گواہ ہونا، بابا دار اور شیخ صاحب ہر وقوعے کے وقت اپنے اپنے دفاتر میں ہوتے ہیں۔ بابا دارا حقہ پی رہا ہوتا ہے یا سو رہا ہوتا ہے اور شیخ صاحب کھانا کھا رہے ہوتے ہیں یا سو رہے ہوتے ہیں۔ دونوں میں تھوڑا سا فرق بھی ہے۔ مثلاً بابا دارا بات سے پہلے ارد گرد نہیں دیکھتا اور گاؤں کی درست تاریخ جرات سے بتاتا ہے جبکہ شیخ صاحب اردگرد دیکھتے ہیں اور تاریخ بیان نہیں کرتے صرف یہ کہتے ہیں کہ سب کو پتہ ہے مجھ سے کیوں پوچھتے ہو۔
مجھے اگر ان دونوں میں سے کسی ایک کے پاس بیٹھنے کا موقع ملے تو میں بابے دارے کے پاس بیٹھنا پسند کروں گا۔



Very nice Raza sb