چنیوٹی کھوجے، اور کھُجیکی سے چنیوٹی شیخ اور چنیوٹ شیخ برادری تک


بیٹوں جیسے عزیز، عامر عزیز کا سوال آیا کہ ”چنیوٹی کھوجے“ کا پس منظر کیا تھا اور اب یہ الفاظ کہاں کھو چکے۔ بات چونکنے والی تھی۔ واقعی جب ہم چھوٹے تھے تو اکثر ”ہم چنیوٹی کھوجے“ اپنی ذات کے لئے اور ”ہماری کھجیکی“ برادری کی پہچان کے لئے استعمال ہوتا سنتے۔ میرے والد محترم کو کلکتہ، ملتان، سیالکوٹ وغیرہ میں کھوجہ کا اردو متبادل خواجہ صاحب کہہ کے پکارا جانا بھی یاد ہے۔ مگر واقعی اب کئی دہائیوں سے یہ الفاظ شاذ ہی کسی کی زبان سے سنے ہوں اور ان کی جگہ چنیوٹی شیخ اور چنیوٹ شیخ برادری نے سنبھال لی اور اکثر شہروں میں اسی پہچان سے باہمی رابطہ کی سوسائٹیز بن چکیں۔

بارہویں صدی میں مسلمان حملہ آوروں کے مختلف راہوں سے بر صغیر میں داخلہ کے ساتھ ہی مسلمان مبلغین اور علماء کا ورود قدرتی تھا۔ ان کے ہاتھوں ہندوؤں کی چاروں معروف ذاتوں برہمن، کھتری یا کھشتری، ویش اور شودر قبائل بھی اسلام قبول کرنے لگے۔ اور ان کے اکرام کے لئے اور اسلام میں دلچسپی اور گہرے تعلق کی بنا پر انہیں عربی لقب ”شیخ“ یعنی بزرگ قابل احترام یا سردار وغیرہ سے نوازا گیا۔ اور آج یہ شیخ کہلانے والے بنگلہ دیش ہندوستان پاکستان ( سندھ پنجاب میں زیادہ ) اور کچھ افغانستان میں آباد ہیں۔

ایران کے ایک بزرگ جناب صدرالدین نے اسماعیلی مسلمانوں کو اسی شیخ کے لگ بھگ معانی والے فارسی لقب ”خواجہ“ سے نوازا تو یہ مسلمان صوفیاء و بزرگان دین تک پہنچا۔ اور پھر حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمت اللہ علیہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے والے انفرادی یا چھوٹے ہندو گروہوں و افراد کو آگے اسی لفظ سے خواجہ سے سرفراز فرما دیا گیا۔ اور یہ خواجہ اور شیخ کہلانے لگے، جب کہ جو پورے کے پورے قبیلے یا بڑے گروہ مسلمان ہوئے انہوں اپنی پہچان برقرار رکھی۔

جیسے جاٹ راجپوت وغیرہ۔ سنؔی مسلم خواجہ و شیخ کہلانے والوں نے تلاش معاش میں مغرب کا رخ کیا تو جنوبی سندھ کے علاوہ ملتان لیہ وغیرہ آ بسے اور آبائی پیشے سپاہ گری چھوڑ زراعت اور کاروبار کی طرف توجہ دی۔ ان میں شاخیں بڑھتی گئیں۔ شواہد ہیں کہ ملتان لیہ والوں میں سے کھتری اور اروڑہ کی کچھ ذیلی شاخیں زیادہ تر چنیوٹ کچھ جھنگ اور چند خاندان پنڈی بھٹیاں اور جلال پور بھٹیاں آ بسیں اور اپنی خواجہ کو کھوجہ میں تبدیل کرتے کھوجے شیخ کہلاتے چنیوٹی کھوجے شیخ تک پہنچے۔

اروڑوں کی مبینہ بارہ شاخوں میں سے چنیوٹ اور پہنچنے والوں میں ودھاون، پسریچہ، گوڑوواڑے، اور ڈھینگڑے تھے۔ اور کھتری یا کھشتری میں سے وہرہ، مگوں، آنول، پوری، سہگل منوں بھر اڈہ وغیرہ تھے۔ ( اس میں کچھ اختلاف رائے بھی ہے ) یہاں آنے کے بعد یہ سب آپس میں یوں گھل مل گئے کہ کھتری اروڑہ کی پہچان ختم ہو سب صرف کھوجے شیخ رہ گئے۔ تمغۂ فضیلت سے نوازے جانے والے پنڈھی بھٹیاں کی شخصیت اسد سلیم شیخ، ریٹائرڈ پرنسپل، پر بحیثیت سفر نامہ نگار پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھنے والے ان کے آبا و اجداد میں تین صدیاں قبل اسلام قبول کرنے والے بخت مل ودھاون کا ذکر کیا ہے جو پنڈی بھٹیاں آ بسے اور ان کی نسل سے کرم الہی ودھاون کی دوسری پشت کے فضل دین کے بھائی چنیوٹ سے ہوتے گواری تک پہنچے اور وہ خود امرتسر جا چمڑہ سپلائی کرتے رہے اس کے بعد ذہن رسا والے ان چنیوٹی شیخ کھوجوں نے رفتہ رفتہ کھیتی باڈی زمینداری چھوڑتے ( گو ابھی بھی چند خاندانوں نے جدی زرعی زمینوں کو گلے لگایا ہوا ہے ) ہندوستان پھر پاکستان اور دنیا بھر میں تعداد بہت کم ہونے کے باوجود اول درجہ کے کامیاب کاروباری سوجھ بوجھ رکھنے والی کمیونیٹی کی حیثیت سے دھاک بٹھا دی ہے۔

انیس سو چالیس تک تو شاذ ہی کوئی اپنی فیملی کو جائے معاش پہ مستقل لے گیا ہو مگر اس کے بعد یہ رجحان کچھ بڑھنا شروع ہوا چنانچہ بہت خاندان لائل پور۔ گوگیرہ، اوکاڑہ کلکتہ کانپور گواری وغیرہ منتقل ہوئے ملتے ہیں مگر چنیوٹ سے رشتہ قائم رہا اور جائیدادیں یہیں بنیں اور مستقل رہائش یہیں شمار ہوتی۔ پچاس کی دہائی میں یہ رجحان بڑھنا شروع ہوا او اکثر خاندان اپنے معاش کے مرکز منتقل ہونا شروع ہوئے۔ لائل پور اور کراچی اور لاہور بڑے مرکز ٹھیرے۔

لائل پور سے جمعرات کی شام چنیوٹ جانے والی بسوں کے ٹکٹوں کی بلیک اور اوور لوڈنگ ختم اور چنیوٹ میں ان کے منتظر چہروں کے انتظار کی کہانیاں اور لطیفے ختم ہوئے۔ تب انہیں آپس میں رابطہ اور برادری کے مسائل کے اجتماعی حل طلب معاملات سے نمٹنے کے لئے ایسوسی ایشنز بنانا پڑیں۔ اور پڑھے لکھے محرک نوجوان اس مہم میں آگے تھے اور یہ ایسوسی ایشن پہلی جب چنیوٹ شیخ ایسوسی ایشن یا چنیوٹ شیخ برادری قسم کے ناموں سے بننی شروع ہوئیں اور اس میں کھوجے یا خواجہ کا نام نکال دیا گیا تو آہستہ آہستہ یہ پہچان استعمال ہونا بھی بند ہو گئی اور اب بس بڑے بوڑھے کبھی کبھار استعمال کرتے دکھائی دیتے ہوں گے۔ اگلی نسل شاید مکمل نظر انداز کر چکی ہو۔

اب چنیوٹ میں تو خال خال چنیوٹی کھوجے یا شیخ نظر آئیں گے اور ان کے محل نما مکانات مالکان کی عدم دلچسپی اور آبائی شہر سے عملاً لاتعلقی کی وجہ سے لاوارث، قبضہ گروپوں کے ہاتھ، کھنڈر بنے یا فروخت ہو چکے۔ جس کی طرف سابقہ مضمون میں اشارہ کیا تھا۔

پنڈی بھٹیاں میں صرف ودھاون ( میرا ننھیالی خاندان ) دو چار گھرانے موجود جبکہ سہگل اور پھپھرے چھوڑ چکے۔ جلال پور بھٹیاں کا پوری خاندان بھی شاید نکل چکا۔ اور کھوجے سے پہچان اور کھجیکی کی برادری والی پہچان بھی نئے زمانے نے ماضی کی داستان بنا دی۔ ویسے عجیب اتفاق ہے کہ خواجہ یا کھوجے شیخ کی پہچان رکھنے والی دوسری نسلیں۔ مثلاً جنوبی سندھ اور جنوبی پنجاب کے باسی، مکھڈ اور بھیرہ وغیرہ کے پراچے بھی اس پہچان کو زمانہ قبل بھول چکے البتہ چکوال کے سہگلوں میں سے کافی لفظ خواجہ کو گلے لگائے اور پہچان بنائے میرے پاکستان سے نقل وطن کے وقت تک تو موجود تھے۔ اسماعیلی کھوجوں کا علم نہیں البتہ صوفیاء اور مشائخ کی اولادوں میں خواجہ کی پہچان کہیں کہیں موجود ہے اور چنیوٹ میں ہمارے دوست عارف خواجہ یہ پہچان ہمیں یاد کراتے رہتے ہیں

یوں صدیوں قبل ایران سے نکلتے وسط ایشیا اور ہندوستان تک پہنچنے والا لفظ خواجہ جو تاجکستان کی تاجک زبان میں بھی کھوجہ ہے اور چنیوٹ میں بھی اب قصۂ پارینہ بنتے تاریخ کی گہرائیوں میں دفن ہوتا جا رہا ہے۔

نوٹ۔ اس مضمون کی تیاری میں انٹرنیٹ پر موجود مواد اور نظر سے گزرے دیگر گروپس و مضامین سے مدد لی گئی ہے۔ جہاں تک رہنمائی کے لئے خدائے برتر کا شکر گزار بھی ہوں اور کسی فروگزاشت یا غلطی کے لئے معافی کا خواستگار بھی، اور اس کی نشان دہی یا تصحیح کے لئے ممنون بھی ہوں گا۔

Facebook Comments HS

One thought on “چنیوٹی کھوجے، اور کھُجیکی سے چنیوٹی شیخ اور چنیوٹ شیخ برادری تک

  • 11/09/2024 at 11:00 صبح
    Permalink

    جناب شیخ لیئیق احمد صاحب کی محققانه کاوش در باره کھوجے مگوں ودھاون پسند آئی٠محترم محمد صدیق بانی ودھان کا اگرچه براه راست ذکر تو نهیں لیکن ان کی ودھاون شاخ کا پڑھ کر معلومات میں اضافه ھوا٠ شکریه

Comments are closed.