مسلم لیگ ن لاہور سے اپنے ووٹرز کو نکالنے میں ناکام کیوں رہی؟


مسلم لیگ نون اپنے قلعہ قرار دیے جانے والے لاہور میں چار میں سے تین نشستیں ہار گئی، ان میں پہلی نشست پی پی 158 تھی، جہاں سے دو ہزار اٹھارہ میں علیم خان 52319 ووٹ لے کامیاب ہوئے، ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے اکرم عثمان 37463 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، پی ٹی آئی کے ووٹ بینک میں 14856 ووٹوں کی کمی ہوئی، نون لیگ کے ووٹ 45229 سے کم ہو کر 31906 ہو گئے

پی پی 167 سے 2018 میں تحریک انصاف نے 40680 ووٹ لیے، ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کا ووٹ بینک تقریباً قائم رہا، شبیر گجر 40511 ووٹ لے کر جیت گئے، نون لیگ کے ووٹ بینک میں 11971 ووٹوں کی کمی ہوئی، نون لیگ کے ووٹ 38444 سے کم ہو کر 26473 ہو گئے

پی پی 168 پر تیسری بار الیکشن ہوا، 2018 میں سعد رفیق جیتے، خواجہ سعد رفیق نے بعد میں قومی اسمبلی کی نشست جیتی تو یہ صوبائی نشست خالی کر دی، ضمنی الیکشن میں اسد کھوکھر تحریک انصاف کے ٹکٹ پر جیتے، منحرف ہونے کے بعد اسد کھوکھر نون لیگ کے ٹکٹ پر سیٹ جیت گئے، 2018 میں سعد رفیق 34119 ووٹ لیے، جبکہ حالیہ ضمنی الیکشن میں اسد کھوکھر 26169 ووٹ لے سکے، مجموعی طور پر نون لیگ کے 7950 ووٹ کم ہوئے گئے

پی پی 170 سے 2018 میں تحریک انصاف نے 25215 ووٹ لیے، جن میں ابھی صرف 527 ووٹوں کی کمی ہوئی، ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی امیدوار ظہیر کھوکھر 24688 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، نون لیگ نے 2018 میں 20765 ووٹ لیے، جو اب کم ہو کر 17519 ہو گئے، مجموعی طور پر نون لیگ کے ووٹوں میں 3246 کی کمی ہوئی

لاہور کے چار حلقوں میں دیکھیں تو نون لیگ 2018 کی نسبت 36 ہزار 490 ووٹ کم لے سکی، تحریک انصاف کے ووٹوں میں 14 ہزار 735 کی کمی ہوئی، جس میں سب سے بڑا حصہ پی پی 158 سے 13323 ووٹوں کی کمی تھا، باقی تینوں حلقوں میں تحریک انصاف کا ووٹ بینک قائم رہا، نون لیگ کو غور کرنا ہو گا کہ ان کو 2018 کی نسبت اب ووٹ کیوں کم ملے؟

Facebook Comments HS