انقباض کی کیفیت

زندگی کا ہر دن امتحان ہے، امتحان اسی لیے کہ اکثر اوقات حالات ہمارے مطابق ہماری منشا جیسے نہیں ہوتے۔ ہر راستہ بند محسوس ہوتا ہے۔ یا بند نہ بھی محسوس ہو لیکن نظر کچھ نہیں آتا۔ اس کیفیت میں ذہن شدید الجھاؤ کے ساتھ ایک ایسی راہ میں بھٹکتا ہے جہاں وہ مسلسل توکل علی اللہ کی اصطلاح کو پورا پورا محسوس کرنا چاہتا ہے۔ لیکن نہیں محسوس کر پاتا، طبعیت میں اتار پن، حوصلہ شکنی یا تصورات میں صرف اندھیرا اندھیرا ہی محسوس ہوتا ہے، کیفیات بیان کرنے کے لیے الفاظ بھی نہیں ہوتے، مگر الفاظ چاہیے بھی ہوتے ہیں۔
مستقبل کے اندیشے انسان کو بعض اوقات عجیب کشمکش میں مبتلا رکھتے ہیں۔ اسی دوران میں ذہن پر دباؤ بھی بہت ہوتا ہے۔ بہت زیادہ تجربات سے گزرنے کے بعد مجھ جیسے انسان عبادات میں اپنے آپ کو اسی لیے باندھے رکھتے ہیں کہ اللہ کے احکامات کی حکم عدولی نہ ہو کیوں کہ جب اس انقباض کی کیفیت سے باہر آتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ احکامات الہی سے روگردانی نفس کا غلبہ تھا۔ خیر زندگی ہے تو اتار چڑھاؤ تو آتے رہیں گے۔ اکثر اوقات اتار چڑھاؤ کا اتار زیادہ رہتا ہے۔
بس ایسے مواقعوں پر قرآن کی آیت لاتقنطوا من الرحمة اللہ اپنے حافظے میں دہرانے سے زیادہ مایوسی کے سبب انسان کو اپنی کیفیت میں پر امیدی محسوس نہ بھی ہو، لیکن اہم پہلو یہ ہے کہ وہ خود کو قرآن کے الفاظ سے تسلی تو دے سکتا ہے اور یہ تسلی کچھ وقت بعد کیفیت میں اترتی محسوس ہوتی ہے۔ جب کہ انسانوں کی جانب سے دی جانے والی ہر تسلی، ہر ساتھ، ہر حوصلہ عارضی ہے۔ اسی لیے ہر کیفیت میں اللہ کے حکم پر عمل پیرا ہونا، چاہے، دل اس جانب مائل ہو یا نہ ہو مگر خود کو احکامات کی پیروی میں مصروف رکھا جائے۔
جب انقباض کی کیفیت ختم ہوجاتی ہے اور ذہن میں تصورات واضح ہو جاتے ہیں کہ سب ستھرا محسوس ہوتا ہے تب ان نافرمانیوں پر شدید دکھ اور غم ہوتا ہے اسی لیے پہلے ہی اس رویے سے خود کو بچا لیا جائے۔ اور اپنی ساری وفاداریاں صرف اللہ کے لیے رکھیں۔ کیوں کہ انقباض کی کیفیت ایک حقیقت ہے جو بامقصد کام کرنے والوں پر وقفے وقفے سے آتی ضرور ہے۔
کامیاب ہونے کا سب سے بہترین عمل یہی ہے کہ جس چیز کو حاصل کرنے کا مقصد ہو، یا جس روٹین پر عمل پیرا ہونے کے لیے خود سے وعدہ کیا ہو تو طبعیت اس جانب مائل ہو یا نہ ہو، اس کام کو کر گزرنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ انقباض کی کیفیت مقصد کے حصول کی راہ کے دوران ہی آتی ہے اسی لیے اس کیفیت کو قبول کیجیے لیکن اپنے اس عمل کو نہ چھوڑیے جو آپ پر لازم ہے، فرض ہے جیسے نماز، یا وہ کام جو مقصد تک پہنچانے کے لیے اہم ترین ہے۔ کیوں کہ انقباض کی کیفیت کا آنا جانا تو رہے گا لیکن گزرا وقت پھر نہیں آئے گا۔

