عدل کا معیار اور ہماری عدلیہ: ایک وکیل کی عاجزانہ استدعا
میں بطور ایک ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، وکلاء رہنماؤں کی اس تجویز کی مکمل حمایت کرتا ہوں کہ اس بد نصیب قوم کو روز روز کی چخ چخ سے نجات دلانے کے لیے سپریم کورٹ کے ایک فل بنچ کے سامنے وہ تمام مقدمات سماعت کے لئے مقرر کئیے جائیں جو کہ عرصۂ دراز سے چھچھوندر کی طرح ہمارے حلق میں پھنسے ہوئے ہیں تا کہ ماضی کے تمام معلق متنازعہ آئینی نکات کی عدالتی وضاحت اور ان پر عملدرآمد کے بعد یہ جھنجھٹ سدا کے لیے اختتام پذیر ہو سکے جس نے پوری قوم کو ذہنی مریض بنا رکھا ہے۔
ایک ہی بنچ، ایک ہی قسم کے دو آئینی تنازعات پر دو مختلف ورڈکٹ دے کر پیچیدہ آئینی معاملات کو مزید بھول بھلیوں میں ڈال دیتا ہے، مثال کے طور پر اگر پنجاب اسمبلی کے معاملے میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان صاحب کا خط قانون کے مطابق تھا اور اس پر 25 اراکین اسمبلی کو ڈی سیٹ کر دیا گیا تھا اور ووٹ بھی گنتی سے باہر پھینک دیے گئے تھے، تو پھر چوہدری شجاعت صاحب کا خط اور ق لیگ کے 10 ووٹ گنتی نہ کرنے کا طریقہ کیسے غلط قرار پا گیا، کیونکہ عمران خان بھی نہ تو صوبے میں پارلیمانی لیڈر ہیں اور نہ ہی اسد عمر تھے۔ اور سبطین خان اگر پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر تھے تو وہ خط ان کی طرف سے نہ جاری کئیے جانے کے باوجود کوئی مقدس صحیفہ تھا تو چوہدری شجاعت صاحب کا خط کیوں اور کیسے خلاف قانون ٹھہرتا ہے، اگر وہ والا صحیح تھا تو پھر یہ والا بھی درست ہے۔ اگر آپ کا پہلا فیصلہ قانون کے تمام تقاضے پورے کرتا تھا تو اب آپ اپنی ہی متعین کردہ حدود و قیود سے کس طرح تجاوز کر سکتے ہیں، صائب الرائے لوگ اسے قانون کی زبان میں
Rule of Consistency
بھی کہتے ہیں۔ نیز یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ سپریم کورٹ کا ایک آٹھ رکنی بینچ آرٹیکل 63 اے کی 2015 میں تشریح کرتے ہوئے قرار دے چکا ہے کہ اس صورتحال میں پارٹی قائد ہی ہدایات دینے اور خلاف ورزی کی صورت میں الیکشن کمیشن سے رجوع کا مجاز ہو گا۔ اب سیاسی جماعت کے قائد کی بجائے پارلیمانی لیڈر کو یہ اختیار کیونکر سونپا جاسکتا ہے۔ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ سیاسی جماعت ہی پارلیمانی پارٹی کی مدر فگر ہوتی ہے۔ اگر یہ نیا اصول وضع کیا گیا تو پارلیمانی لیڈر بے لگام گھوڑوں کی طرح سرپٹ دوڑیں گے اور ہارس ٹریڈنگ کا نیا ٹرینڈ متعارف ہونے کا شدید خدشہ پیدا ہو جائے گا۔
براہ کرم اگر آپ ایک فل بنچ تشکیل دے سکیں تو یہ قضیہ بھی ہمیشہ کے لیے نمٹا دیں کہ پارلیمنٹ کوئی سپریم ادارہ ہے اور یہ ایک آئینی و قانونی، غلط العام، مغالطہ ہے کہ پارلیمان ایک برتر، ترین آئینی ادارہ ہے اور دیگر تمام ادارے اول تو اسی کے بطن (آئین سازی کا عمل) سے جنم لیتے ہیں اور دوئم یہ کہ، کوئی دیگر ادارہ بھلے وہ فوج ہو عدالت ہائے عظمی و عالیہ ہوں یا انتظامی ادارے
(اسٹیبلشمنٹ) سب کے سب پارلیمنٹ کو نہ صرف جوابدہ ہوں گے بلکہ اس کے امور میں مداخلت کے مجاز نہیں ہوں گے۔ تمام اسمبلیوں کے اسپیکرز اور ڈپٹی اسپیکرز اپنی رولنگز پر کسی عدالت میں نہ تو طلب کیے جا سکتے ہیں اور نہ اس رولنگ پر ان کی جواب طلبی یا وضاحت طلبی ہو سکتی ہے، قاسم سوری خلائی مخلوق ہے، جو پونے 4 برس تک حکم امتناعی کی آڑ میں رکن قومی اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر رہا اور دوست محمد مزاری خدانخواستہ مردود حرم ہے، کہ طلب بھی ہوا اور وضاحت پیش کرنے کا سزاوار بھی۔
یہ مغالطہ بھی اگر آپ ”ونس فار آل“ ، دفن فرما دیں تو ہم پر احسان عظیم ہو گا کہ مختلف اوقات میں خود کو منتخب سمجھنے والے بے اوقاتے، وزرائے اعظم کو کبھی بندوق کی نوک پر اور کبھی جوڈیشل ایکٹو ازم کے ذریعے گھر بھجوانے اور کسی کو تختۂ دار کی سیڑھی پر گھسیٹ لانے کے تمام اعمال صالحہ مذمت کی بجائے داد و تحسین کے مستحق قرار پا جائیں گے اور ہم بحیثیت ایک ”ترقی پذیر“ قوم کے اپنے محبوب اداروں کے شانہ بشانہ تیزی سے ترقی یافتہ اقوام کی صف میں ایک ممتاز مقام پر کھڑے ہو کر وکٹری کے نشان بنایا کریں گے۔ یہ مجوزہ فل بنچ اگر مزید مہربانی فرما سکے تو سول سپریمیسی نام کی مدقوق اور نحیف مخلوق کو بھی کسی دور دراز شکار گاہ میں کسی ائر گن سے شکار کر کے اس سے متصل شہر خموشاں میں دفن فرما دیں کہ یہ اکثر اوقات کسی خوش فہمی کے زیر اثر کہیں نہ کہیں چوں چوں کرتی پائی جاتی ہے جو حقیقی مقتدر اداروں کی طبع نازک پر گراں گزرتی ہے۔
براہ کرم آئین نامی 146 صفحات کی کتاب کے سرورق پر محسن قوم و ملک شہید بہاولپور جناب ضیاع الحق کا یہ قول زریں، جلی الفاظ میں کندہ کر دیا جائے کہ آئین کوئی صحیفۂ مقدس نہیں ہے بلکہ چند صفحات پر مشتمل ایک کتاب ہے، جسے جب چاہوں، پھاڑ کر پھینک سکتا ہوں۔ اگر مزید ممکن ہو سکے تو 3، 4، یا 5 قابل ترین معزز جج صاحبان ( جو ماشاءاللہ ہر آئینی بنچ میں شامل کئیے جاتے ہیں ) کے علاوہ دیگر تمام معزز جج صاحبان کو پاکستان میں قلت آب کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ڈیمز بنانے کے مقدس امور پر متعین فرما دیا جائے تا کہ وہ بلا عدالتی امور انجام دیے، کار سرکار سے پگار نہ وصولتے رہیں۔ واضح رہے کہ قریب قریب ڈھائی لاکھ مقدمات اپنے مقدر کے فیصلوں کی منتظر صلیب پر لٹک رہے ہیں اور ہم دنیا کے بہترین عدالتی نظاموں میں معیار کے حساب سے پہلے ہی 134 نمبر پر با عزت طریقے سے براجمان ہیں۔
عدالتیں ماضی بعید میں صرف اپنے فیصلوں کے ذریعے بولتی تھیں، اب کہا جاتا ہے کہ آپ خاموش رہیں ہم آپ کی بات سمجھ گئے ہیں اور پھر طویل تبصرے قبل از فیصلہ ہمارے گوش گزار کئیے جاتے ہیں اور پھر خدا جانے کیسے مبنی بر تضادات فیصلے نازل ہوتے ہیں، کبھی حکومت لڈیاں ڈال رہی ہوتی ہے تو کبھی اپوزیشن شادیانے بجاتی ہو تو پھر ہم اچنبھے کا شکار ہوتے ہیں کہ یہ فیصلے کیا کوئی درپردہ طاقت ڈکٹیٹ کرواتی ہے جو اس کے اپنے مفادات کی نگہداشت کے لیے ضروری ہوتے ہیں تو پھر یہ شعر ضرب المثل کی طرح زبان زد عام ہو جاتا ہے کہ،
”ماہر تھا وہ سیاست ہجر و وصال میں
اس نے کبھی رقیب کو چاہا کبھی ہمیں“
عاجزانہ التماس ہے کہ ہمیں اب جسٹس منیر، افتخار چوہدری اور ثاقب نثار کے بھوت بار بار ہمیں نہ چمٹائے جائیں۔
”جزاک اللہ خیر کثیرا“
تھوڑے لکھے کو بہت جانیں اور قانون سے ناواقف حضرات تبصروں سے گریز فرمائیں، یہ ایک علمی اور قانونی تحریر ہے صرف صائب الرائے اور اہل دانش دوستوں سے مثبت رویے اور دلیل کی بنیاد پر اختلاف کی امید پر لکھی گئی ہے۔
تمت بالخیر۔
احقر العباد۔
طیب جعفری ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان


