بھوک تہذیب بھلا دیتی ہے


موجودہ مہنگائی کی پیش نظر غریب طبقہ کے لوگوں نے تنگ گھریلو معاشی حالات کی وجہ سے اپنے بچوں کو روزمرہ ضروریات زندگی کو پورا کرنے کی خاطر تعلیم حاصل کرنے کی بجائے کام پہ لگا دیا ہے۔ جب زندہ رہنے کے لیے ضروریات زندگی پوری نہ ہوں گی تو تعلیم حاصل کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ جب انسان بھوکا ہو تب حلال و حرام کا بھی ذہن میں نہیں آتا۔ اب ایک بچہ اگر بھوکا ہو تو اس کو کیا فرق سمجھائیں گے کہ یہ حلال ہے یا حرام۔ آج ڈان اخبار کی ورق گردانی کرتے ہوئے ایک ایسی خبر دیکھی جس کو پڑھ کر دل خون کے آنسو رویا۔ یہ خبر کچھ یوں تھی کہ

لاہور کے ایک پوش علاقہ ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی میں مبینہ طور پر فریج سے کھانا چرانے پر مالک نے دس سالہ گھریلو ملازم کامران کو مبینہ طور پر قتل جبکہ اس کے چھ سالہ چھوٹے بھائی رضوان کو زخمی کر دیا۔ اس قتل میں گھر کے سارے افراد شامل تھے جس میں گھر کا مالک نصر اللہ، اس کی بیگم شبانہ، دو بیٹے اور ایک بہو حنا شامل تھے۔ ہوا کچھ یوں کہ اس بچے کو بہت بھوک لگی تھی لیکن اس کے پاس کھانے کے لیے کچھ بھی نہ تھا اور وہ والدین کے پاس بھی نہیں تھا جو اس کو کہیں سے کھانے کا بندوبست کر دیتے۔

کیونکہ وہ ان دونوں بھائیوں کو اس گھر کے مالک کے رحم و کرم پر چھوڑ گئے تھے۔ یہ لوگ اکثر چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر ان پر تشدد کیا کرتے تھے۔ دس سال کا بچہ ابھی اتنا سمجھدار نہیں ہوتا کہ وہ غلط اور صحیح میں فرق کر سکے۔ ایک کھانا چوری کرنے پر اس پر اس کو کمرے میں بند کر کے بہت زیادہ تشدد کیا۔ جب اس بچے کو ہسپتال لے جایا گیا تو وہ زندگی کی بازی ہار چکا تھا۔ جب ہسپتال کے عملہ نے دیکھا کہ یہ بچہ مردہ حالت میں آیا ہے اور اس کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں تو انہوں نے پولیس کو اطلاع دی اور سارا ماجرا سمجھایا۔ پولیس نے تمام گھر والوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ ایسے واقعات اکثر ہمارے ملک میں ہوتے رہتے ہیں۔ ان پر قابو کیوں نہیں پایا جا رہا؟

ارشاد ربانی ہے کہ جس نے ایک انسان کا قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا۔ حکومت کو چاہیے کہ چائلڈ پروٹیکشن کے قوانین کی پاسداری کے لیے جلد از جلد سخت اقدامات اٹھائیں اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سے سخت سزائیں دی جائیں۔ کوئی بھی ریاست تب تک قائم ہے جب تک اس میں ہر فرد ( امیر و غریب ) کے لیے انصاف کا قانون برابری کی بنیادوں پر قائم ہے۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے رزق کی تقسیم اپنے ہاتھ میں رکھی ہے کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں دی۔

یہ اگر انسان کے ہاتھ میں دی ہوتی تو ہر بندے کا یہی حال ہوتا جو آج اس دس سال کے چھوٹے سے بچے کا ہوا۔ دو چار دن سے مسلسل بارشیں اور سیلاب سے اتنا نقصان دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا کہ قدرت ہم سے بہت ناراض ہے۔ کہ ہم اس قدر ظالم ہو چکے ہیں کہ کسی بچے کو اس بات پہ قتل کر دیں کہ اس نے کھانا ہم سے پوچھ کے نہیں کھایا۔ اب بھوک کا احساس تو ایک بھوکا ہی جان سکتا ہے۔ بھوک تہذیب بھلا دیتی ہے۔ شکر کریں کہ ہم اللہ تبارک و تعالی کے پیارے محبوب حضرت محمد ﷺ کی امت میں سے ہیں۔ یہی نسبت ہمیں ان عذابوں سے بچا رہی ہے جو ہم سے پہلی امتوں پر آئے۔

ابھی بھی وقت ہے کہ اپنے رویوں اور سوچوں کو بدلیں۔ یہ دنیا کی زندگی تو ایک آزمائش ہے۔ ہم جھوٹی اناؤں کے چکروں میں اپنی آخرت خراب کر رہے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں حقوق اللہ تو معاف کر سکتا ہوں لیکن حقوق العباد تب تک معاف نہیں کروں گا جب تک وہ بندہ خود معاف نہ کر دے۔ خدارا اس غفلت، لالچ، جھوٹی اناؤں، تکبر، ظالمانہ سوچوں اور رویوں سے نکلیں اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔

Facebook Comments HS