پاکستانی ٹیم سے دور ہوتا ہوا گال ٹیسٹ، ڈی سلوا کی سنچری

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


دھنن جایا ڈی سلوا کی نویں ٹیسٹ سنچری سری لنکا کو گال کے دوسرے ٹیسٹ میں ایسی پوزیشن پر لے آئی کہ اسے شکست دینے کے لیے پاکستانی ٹیم کو ٹیسٹ کرکٹ کی نئی تاریخ رقم کرنا ہو گی لیکن خراب موسم کی وجہ سے انہونی اب ہونی میں بدلتی نظر نہیں آ رہی۔

گال کے پہلے ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم نے 342 رنز کا ہدف عبور کر کے کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس بار یہ ہدف 508 رنز کا ہے۔

اب تک صرف چار مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کسی ٹیم نے 400 یا زیادہ رنز بنا کر ٹیسٹ میچ جیتا ہے لیکن ان چاروں میں عبور کیا جانے والا سب سے بڑا ہدف 418 رنز کا ہے جو سنہ 2003 میں ویسٹ انڈیز نے آسٹریلیا کے خلاف انٹیگا ٹیسٹ میں عبور کیا تھا۔

چوتھے دن جب کھیل خراب روشنی کے سبب وقت سے پہلے ختم ہوا تو ُاس وقت بھی 26 اوورز باقی تھے اور پاکستان نے ایک وکٹ کے نقصان پر 89 رنز بنائے تھے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جیت کے لیے اسے آخری دن 419 رنز بنانے ہوں گے۔

دوسری جانب سری لنکا کی ٹیم پراباتھ جے سوریا اور رمیش مینڈس کے ذریعے پاکستانی بلے بازوں کو شکست دینے کی پوری کوشش کرے گی۔

امام اور بابر کریز پر موجود

پاکستان کی دوسری اننگز عبداللہ شفیق اور امام الحق نے شروع کی لیکن عبداللہ شفیق کا پراباتھ جے سوریا کی گیند کو باہر نکل کر کھیلنا مہنگا پڑ گیا۔

مڈآف سے دوڑتے ہوئے ویلا لاگے نے گیند پر سے نظریں نہیں ہٹائیں اور ایک بہترین کیچ لے کر عبداللہ شفیق کی 16 رن کی اننگز کو اس کے انجام پر پہنچا دیا۔ اس وقت تک مجموعی سکور 42 رن تھا۔

امام الحق اور بابر اعظم سکور میں47 رنز کا اضافہ کر چکے تھے کہ خراب روشنی کی وجہ سے کھلاڑیوں کو میدان چھوڑنا پڑا۔

امام الحق جنھوں نے آسٹریلیا کے خلاف پنڈی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریوں کے بعد لاہور ٹیسٹ میں 70 رنز بنائے تھے اس سیریز میں اپنی پہلی نصف سنچری سے ایک باؤنڈی دور ہیں۔ کپتان بابر اعظم 26 رنز پر دوسرا اینڈ سنبھالے ہوئے تھے۔

سری لنکا کو جیت سے باز رکھنے کے لیے یہ شراکت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

پاکستانی بولنگ غیر مؤثر

سری لنکا نے چوتھے دن اپنی دوسری اننگز 176 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ پر شروع کی۔ کپتان دموتھ کرونا رتنے اور دھنن جایا ڈی سلوا چھٹی وکٹ کی شراکت میں 126 رنز کا اضافہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

کرونا رتنے ٹیسٹ کرکٹ میں چھ ہزار رنز مکمل کرنے والے چھٹے سری لنکن بیٹسمین بھی بن گئے۔ دیگر پانچ بیٹسمین کمار سنگاکارا، مہیلا جے وردھنے، سنتھ جے سوریا، اینجیلو میتھیوز اور اروندا ڈی سلوا ہیں۔

کرونا رتنے کے خلاف نعمان علی کی بولنگ پر دو مرتبہ ایل بی ڈبلیو کی اپیلیں ہوئیں لیکن دونوں مرتبہ پاکستانی ٹیم کے ریویو ضائع گئے۔

کرونا رتنے 61 رنز بنا کر نعمان علی کی گیند پر شارٹ لیگ پر عبداللہ شفیق کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

ویلا لاگے اپنے پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں بھی ناکام رہے اور 18 رنز پر محمد نواز کی گیند پر رضوان کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔

دھنن جایا ڈی سلوا کو رمیش مینڈس کی شکل میں قابل اعتماد ساتھی ملا۔ ان دونوں نے آٹھویں وکٹ کی شراکت میں 102گیندوں پر 82 رن کا اضافہ کیا۔

کپتان کرونا رتنے کو دھنن جایا ڈی سلوا کی سنچری کا انتظار تھا۔ وہ یاسر شاہ کی ڈائریکٹ تھرو پر 109 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے تو سری لنکا کی اننگز 360 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کر دی گئی۔

رمیش مینڈس نے پاکستانی بولنگ کے غیر مؤثر ہونے کا پورا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے 45 رنز ناٹ آؤٹ کی اہم اننگز کھیلی جس میں پانچ چوکے شامل تھے۔ انھوں نے حسن علی کے ایک اوور میں لگاتار تین چوکے مارے۔

رمیش مینڈس پہلی اننگز میں بھی چار چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 35 رنز بنا کر پاکستانی بولنگ کو تکلیف سے دوچار کر گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے:

508 رنز کا ریکارڈ ہدف، پاکستانی بیٹسمینوں کے لیے پھر آزمائش کی گھڑی

گال ٹیسٹ: بابر اعظم سری لنکا کو ‘بور‘ نہ کر سکے

بابر اعظم کے آؤٹ ہوتے ہی میچ بچانے کی فکر شروع

پاکستانی بولرز میں کوئی بھی دو سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ لیگ سپنر یاسر شاہ اس اننگز میں 80 رنز دے کر صرف ایک وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو پائے۔

پاکستانی ٹیم اس سیریز میں یاسر شاہ سے سب سے زیادہ توقعات وابستہ کیے ہوئے تھی اور ان کی ٹیم میں واپسی پر سنہ 2015 کے یاسر شاہ یاد دلائے گئے تھے جنھوں نے سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں 24 وکٹیں لے کر فتح گر کا کردار ادا کیا تھا لیکن اس سیریز میں وہ سات سال پہلے والے یاسر شاہ سے بہت دور دکھائی دیے۔

اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے ان کی کارکردگی میں واضح فرق آیا ہے اور اس سیریز کے لیے ان کا سلیکشن اس لیے بھی حیران کن تھا کہ وہ پچھلے سیزن میں صرف ایک فرسٹ کلاس میچ کھیلے تھے جس میں وہ ایک وکٹ بھی نہیں لے سکے تھے۔

اس سیریز میں وہ 39 کی اوسط سے صرف 9 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو پائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26019 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments