قرضہ ادا نہ ہونے پر کیا چین ملک کی جائیدادوں پر قبضہ کر لیتا ہے؟


فائل فوٹو
سری لنکا کے سابق وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ
سری لنکا نے جو کچھ عرصے سے سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، اس بحران پر قابو پانے کے لیے چین سے مالی مدد طلب کی ہے۔

چین میں سری لنکا کے سفیر پالیتھا کوہونا نے خبر رساں ادارے رائٹرز کے ساتھ انٹرویو میں اس بات کی تصدیق کی ہے۔ اس کے علاوہ سری لنکا کی حکومت چین سے 4 ارب ڈالر کا ریلیف پیکج حاصل کرنے کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔

تقریباً 2۔2 کروڑ کی آبادی والا ملک سری لنکا اپنی حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔

حال ہی میں سری لنکا میں اشیائے خورد و نوش، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت تھی۔

اس بحران کی وجہ سے ملک کے سابق صدر گوتابایا راجا پکشے کو سری لنکا چھوڑ کر سنگاپور بھاگنا پڑا۔ سابق وزیر اعظم مہندا راجا پکشے اور سابق وزیر خزانہ باسل راجا پکشے نے بھی ملک چھوڑنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔

ان عجیب و غریب حالات میں رانیل وکرما سنگھے کو پہلے وزیر اعظم اور پھر صدر کا حلف اٹھانا پڑا۔

لیکن ان کی قیادت پر یہ سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا وہ اور ان کی حکومت سری لنکا کو اس بحران سے نکال پائیں گے۔

اس سمت میں وکرما سنگھے حکومت مختلف ممالک سے مالی مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سری لنکا: کچھ اہم حقائق

•انڈیا کا پڑوسی ملک جو 1948 میں برطانیہ سے آزاد ہوا۔

•سری لنکا کی آبادی دو کروڑ بیس لاکھ ہے، سنہالہ آبادی کی اکثریت، تامل اور مسلم اقلیتیں ہیں۔

•راجا پکشے خاندان کے کئی بھائی کئی سالوں سے اقتدار میں ہیں۔

•1983 میں تامل باغی تنظیم ایل ٹی ٹی ای اور حکومت کے درمیان خانہ جنگی شروع ہو گئی۔

•2005 میں وزیر اعظم مہندا راجا پکشے صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔

•ایل ٹی ٹی کے ساتھ طویل جنگ 2009 میں ختم ہوئی، تامل باغی ہار گئے اور مہندا راجا پکشے ہیرو بن کر ابھرے

•اس وقت گوٹابایا راجا پکشے وزیر دفاع تھے جو 2019 میں صدر بنے، وہ مہندا راجا پکشے کے چھوٹے بھائی ہیں۔

•2022 میں، مہندا راجا پکشے نے کئی مہینوں کی شدید مخالفت کے بعد وزیر اعظم اور پھر گوٹابایا صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

•رانیل وکرما سنگھے کو پہلے وزیر اعظم اور اب صدر بنایا گیا، وہ سنہ 2024 تک اس عہدے پر رہیں گے۔

•سری لنکا میں صدر ملک، حکومت اور فوج کا سربراہ ہوتا ہے۔

فائل فوٹو

بیجنگ میں سری لنکا کے سفیر پالیتھا کوہونا

سری لنکن سفیر نے کیا کہا؟

بیجنگ میں سری لنکا کے سفیر پالیتھا کوہونا نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کا ملک چاہتا ہے کہ چینی کمپنیاں سری لنکا سے کالی چائے، نیلم، مصالحے اور کپڑے کے کاروبار میں اضافہ کریں۔

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کولمبو چاہتا ہے کہ چین اپنے درآمدی قوانین میں شفافیت بڑھائے تاکہ برآمدات کو آسان بنایا جاسکے۔

کوہونا نے کہا کہ چین کولمبو اور ہمبنٹوٹا میں واقع چینی منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھا کر سری لنکا کی مدد کر سکتا ہے، سال 2020 میں کووڈ کی وجہ سے چینی سرمایہ کاری سے متعلق کئی بڑے منصوبے مکمل نہیں ہو سکے۔

اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا ملک چاہے گا کہ چینی سیاح ایک بار پھر سری لنکا آنا شروع ہوں کیونکہ 2018 میں سری لنکا آنے والے چینی سیاحوں کی تعداد 2.65 لاکھ تھی جو 2019 کے خودکش حملوں اور کووڈ 19 کے بعد صفر رہ گئی ہے۔

اس میں سے سری لنکا کو ایک ارب ڈالر کی رقم چین کو تقریباً اتنی ہی رقم کا قرض ادا کرنے کے لیے استعمال کرنا ہے۔

سری لنکا چین کو 1.5 ارب ڈالر کی کرنسی کے تبادلے کے لیے قائل کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے۔

کیا انڈیا اور چین، سری لنکا کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں؟

سری لنکا میں چین کی سرمایہ کاری کے خلاف پرتشدد احتجاج

سری لنکا کا معاشی بحران خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی

فائل فوٹو

سری لنکا اپنی جدید تاریخ کے سب سے بڑے معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے

سری لنکا کی مدد پر چین کا کیا کہنا ہے؟

سری لنکا گزشتہ کئی ہفتوں سے دنیا کے تمام ممالک سے مالی مدد کی درخواست کر رہا ہے۔ ایسے کئی ممالک میں چین بھی شامل ہے۔

لیکن چین سری لنکا کو سب سے زیادہ بڑے قرض دینے والے دو بڑے ممالک میں سے چین ایک ہے۔ اور سری لنکا پر دیگر ممالک کے کُل قرضوں میں سے 10 فیصد قرضہ چین کا ہے۔ ایسے میں سری لنکا کے اس بحران میں چین کا خاص کردار ہے۔

چین نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ وہ سری لنکا کی مدد میں مثبت کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ نے رواں ماہ کہا تھا کہ وہ دوسرے ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر سری لنکا کی مدد میں مثبت کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی

چینی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ چین کی مالی امداد کرنا چاہتتی ہے

چین کی مدد کے خطرات

چین کی وزارت خارجہ نے بحران کی اس گھڑی میں سری لنکا کی مدد کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

لیکن دنیا بھر میں ایک عرصے سے چین کی مالی امداد کو خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کے سربراہ رچرڈ مور نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین دوسرے ممالک پر اپنی برتری حاصل کرنے کے لیے ‘قرض کے جال’کا استعمال کرتا ہے۔

چین پر ایسے الزامات لگتے رہے ہیں کہ جب اس سے قرض لینے والے ممالک اسے واپس نہیں کر پاتے تو وہ ان کی جائیدادوں پر قبضہ کر لیتا ہے۔ تاہم چین ایسے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔

چین کی اس پالیسی کی حمایت میں اکثر سری لنکا کی مثال دی جاتی ہے۔ اس نے چند سال قبل چینی سرمایہ کاری کی مدد سے ہمبنٹوٹا میں بندرگاہ کا ایک بڑا منصوبہ شروع کیا تھا۔

لیکن چینی قرضوں اور ٹھیکیدار کمپنیوں کی مدد سے شروع ہونے والا اربوں ڈالر کا یہ منصوبہ تنازعات میں گھر گیا۔ یہ منصوبہ مکمل نہ ہو سکا اور سری لنکا چینی قرضوں تلے دب گیا۔

بالآخر 2017 میں ایک معاہدہ طے پایا۔ اس کے مطابق چینی سرکاری کمپنیوں کو اس بندرگاہ کے 70 فیصد حصص 99 سال کی لیز پر دیے گئے۔ اس معاملے میں اب بھی تنازع جاری ہے۔

سری لنکا کے سفیر کوہونا نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ اس منصوبے میں بھی سرمایہ کاری بڑھائے۔

فائل فوٹو

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ بل برنز نے بھی خبردار کیا

امریکہ نے بھی خبردار کیا

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ بل برنز نے بھی بدھ کو سری لنکا کی حالت کا ذمہ دار چینی قرضوں کو ٹھہرایا ہے۔

ایسپین سیکورٹی فورم میں خطاب کرتے ہوئے، برنس نے کہا، ‘چینی ‘کمپنیاں’ بہت مضبوط اور خوشحال ہیں اور وہ بہت پرکشش سرمایہ کاری کی پیشکش کر سکتی ہیں’۔

انہوں نے کہا ہے کہ دوسرے ممالک کو سری لنکا جیسے ممالک کی طرف دیکھنا چاہیے، جو چینی قرضوں میں گھرے ہیں اور جنہوں نے اپنے ملک کے معاشی مستقبل کے بارے میں انتہائی احمقانہ شرطیں قبول کی ہیں، جن کے سیاسی اور مالی طور پر سنگین نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

برنس نے کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے لیے سبق ہونا چاہیے اور ایسے معاہدوں کو غور سے دیکھنا چاہیے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25379 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments