پاکستان بمقابلہ سری لنکا: 'جیت کے دھکے' نے بچا بچایا میچ شکست میں بدل دیا

سمیع چوہدری - کرکٹ تجزیہ کار


توقعات اور خواہشات جب زمینی حقائق سے میل نہ کھاتی ہوں تو نتائج عموماً حیرت اور تشویش سے ہی عبارت ہوا کرتے ہیں۔ اگرچہ ہر کوئی پاکستانی بلے بازوں کی اس ناقابلِ فہم جلد بازی پہ تحیّر میں ڈوبا ہوا تھا مگر جنھوں نے کل شام محمد یوسف کا انٹرویو سن رکھا ہو گا، ان کے لیے یہاں کچھ بھی اچنبھے کا باعث نہیں تھا۔

بدھ کی شام کھیل کے اختتام پہ جب پاکستان کے بیٹنگ کوچ محمد یوسف سے دریافت کیا گیا کہ پانچویں دن پاکستان کس اپروچ کے تحت میدان میں اترے گا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے سیشن کا کھیل دیکھیں گے اور پھر جیت کے لیے ‘دھکا’ لگائیں گے۔

مزید برآں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہر کوئی مثبت کرکٹ کھیلنا چاہتا ہے اور ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق اور وہ خود بھی اسی رجحان کی تائید کرتے ہیں۔

اب نجانے یہ مثبت کرکٹ کا ہماری لغت میں کیا مفہوم ہے کہ جب بھی ہم مثبت کرکٹ کی کھوج میں اپنے انتظامی امور کو اتھل پتھل کر کے ایک نئی سوچ اور حلیے کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں تو نتیجہ عموماً وہی نکلتا ہے جو آج گال میں برآمد ہوا۔

حیرت اس امر پہ ہے کہ گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکنے کے بعد بھی محمد یوسف کیسے کراچی ٹیسٹ اور گال ٹیسٹ میں مماثلت ڈھونڈ لائے کہ جیسے کراچی میں ان کی ٹیم نے آسٹریلیا کے خلاف پانچویں دن ایسے ہی پہاڑ سے ہدف کے تعاقب میں لگ بھگ معجزہ سا کر دکھایا تھا، کچھ ویسی ہی توقع انہیں اس میچ سے بھی تھی۔

حالانکہ کراچی کی پچ کا گال کی پچ سے کوئی موازنہ ہی نہیں۔ ایک ریورس سوئنگ کے لیے سازگار ہے تو دوسری سپن کے لیے۔ کراچی کی پچ پہ آخری روز سیمرز زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں جبکہ گال میں سپنرز راج کیا کرتے ہیں۔

جبکہ درحقیقت یہ میچ پہلی اننگز میں ہی پاکستان کی گرفت سے پھسل چکا تھا جہاں بیٹنگ کے لیے سازگار حالات میں پاکستان نے رنز کا بہاؤ روکنے کی کوشش کرنے کی بجائے وکٹوں کے حصول کی خاطر جارحانہ حکمت عملی اپنائے رکھی اور سکور بورڈ کا دباؤ بڑھتا چلا گیا۔

یاسر

اور پھر پہلی اننگز میں پاکستانی بیٹنگ جس انداز سے ڈھیر ہوئی، وہ ہرگز نامانوس منظر نہیں تھا۔ اگرچہ پچھلے میچ میں بابر اعظم اور عبداللہ شفیق کی انفرادی کاوشوں نے دونوں اننگز کی لاج رکھ لی تھی مگر باقی ماندہ بیٹنگ لائن کا یہ بحران تو آسٹریلیا کے خلاف لاہور ٹیسٹ سے ہی عیاں ہو چلا تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

جےسوریا سری لنکا کے ہیرو، گال ٹیسٹ میں پاکستان کو شکست

پاکستانی ٹیم سے دور ہوتا گال ٹیسٹ، ڈی سلوا کی سنچری

508 رنز کا ریکارڈ ہدف، پاکستانی بیٹسمینوں کے لیے پھر آزمائش کی گھڑی

گال ٹیسٹ: بابر اعظم سری لنکا کو ‘بور‘ نہ کر سکے

بیٹنگ کے بحران تو خیر پاکستانی شائقین کے لیے ایک روٹین بن ہی چکے ہیں مگر بولنگ اٹیک میں ایسا قحط واقعی غیرمتوقع سا ہے۔ یہ واضح ہو چکا ہے کہ یاسر شاہ اب اس اٹیک کی قیادت کا بار نہیں اٹھا سکتے اور مفلوک الحالی کا عالم یہ ہے کہ ڈومیسٹک سرکٹ سے کوئی نوجوان سپنر بھی میسر نہیں آ رہا۔

یہ کوتاہیاں تب کھل کر سامنے آئیں جب کرونارتنے کے ہمراہ ڈی سلوا نے ایک زبردست پارٹنرشپ جوڑی تو پاکستانی اٹیک کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔ ڈی سلوا نے پاکستانی اٹیک کو اپنی انگلیوں پہ نچا ڈالا اور دیکھتے ہی دیکھتے سری لنکا کی برتری پہاڑ کی سی ہوتی چلی گئی۔

اس کے جواب میں اگر پاکستان تحمل سے محض وقت گزارنے کے لیے ہی بیٹنگ کرتا تو عین ممکن تھا کہ یہ میچ بچا لیا جاتا کہ جہاں گزشتہ روز آخری سیشن کا خاصا کھیل خراب روشنی کی نذر ہوا، آج کے تیسرے سیشن میں بھی بارش کے ساتھ ساتھ خراب روشنی کے سبب کھیل ضائع ہونے کا خدشہ بہرحال موجود تھا۔

مگر یہ نجانے کون سی ٹیسٹ کرکٹ کھیلی جا رہی تھی کہ جہاں فواد عالم جیسے تجربہ کار بلے باز بھی پرخطر سنگل لینے کے لیے جان ہتھیلی پر لیے پھر رہے تھے۔

اگرچہ کسی بھی بیٹنگ لائن کی بری کاوش کے لیے اس کے ‘ٹیل اینڈرز’ کو موردِ الزام ٹھہرانا زیادتی ہو گی مگر جب یہ حقیقت ہو کہ یاسر شاہ ایک ٹیسٹ سینچری بنا چکے ہیں اور حسن علی کے علاوہ نعمان علی کے بھی کریڈٹ پہ فرسٹ کلاس سینچریاں موجود ہیں تو بقول غالب

حیراں ہوں روؤں سر کو، کہ پیٹوں جگر کو میں

کہ بالآخر ہدف کے حصول کی خواہش تو یہاں دیوانے کے خواب سے بڑھ کر کچھ نہ تھی مگر میچ بچانے کے لئے وکٹ روک کر ایک آدھ سیشن مزاحمت تو کی ہی جا سکتی تھی۔ لیکن چھکے چوکوں کی ‘نیچرل’ گیم اور شاید محمد یوسف کے ‘جیت کے دھکے’ نے ایک بچا بچایا میچ شکست میں بدل دیا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26020 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments