نواز شریف، چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی کے درمیان لڑائی


بالآخر چوہدری پرویز الہی دوسری بار تخت لہور پر براجمان ہو گئے ہیں۔ پہلی بار وہ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے اور انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے پرویزی مارشل لاء کے سائے میں اپنی آئینی مدت پوری کی ان تاریخی جملے ہم پرویز مشرف کو 10 بار وردی میں صدر منتخب کرائیں گے۔ بہت مشہور ہوا انہوں نے بھرپور انداز میں وزارت اعلیٰ کے منصب کو انجوائے کیا چوہدری پرویز الہی کے نکتہ نظر اور سوچ سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے لیکن انہوں نے اپنے دور حکومت میں اچھے اقدامات بھی کیے ہیں جن کے باعث آج بھی انہیں اچھے الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے۔

انہوں نے فراخدلی سے پنجاب ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے تحت لاہور، راولپنڈی /اسلام آباد اور ملتان کے صحافیوں کو بلا تخصیص رہائش کے لئے پلاٹس الاٹ کیے ان تین شہروں کے پریس کلبوں کی انتظامیہ کی فراہم کردہ فہرستوں کو ہی پذیرائی بخشی۔ راولپنڈی اسلام آباد کے صحافیوں کے پلاٹس کی الاٹمنٹ میں بندہ ناچیز کا بھی ابتدائی مرحلہ میں کردار ہے۔ اس وقت میں راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب کا صدر تھا اور میرے دور میں پنجاب ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کا قانون منظور ہوا۔

چوہدری ظہور الہی کی زندگی میں ہی میرا چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی سے قریبی تعلق قائم ہو گیا تھا جو تاحال قائم ہے۔ ہم سالہاسال ان کے دستر خوان کے خوشہ چین رہے ہیں۔ سینئر صحافی طاہر خلیل، عامر الیاس رانا اور طارق محمود سمیر چوہدری برادران سے اکٹھے ملاقات کرتے اور ایک ہی میز بیٹھ کر سیاسی گپ شپ لگاتے چوہدری پرویز الہی کو میرے میاں نواز شریف کی طرف جھکاؤ کا علم ہے۔

غالباً 2003 یا 2004 کی بات ہے میری جدہ میں سرور پیلس میں میاں نواز شریف سے ملاقات ہوئی تو میاں صاحب نے گلہ کیا کہ چوہدری شجاعت حسین میر عمر بھر ساتھ دینے کا عہد کیا تھا۔ میں نے چوہدری برادران سے ازراہ مذاق میاں نواز شریف سے ہونے والی میری گفتگو پر ان کا ردعمل دریافت کیا تو چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ میاں نواز شریف ہمیں چھوڑ کر کیوں سعودی عرب چلے گئے تھے؟ تو میں نے کہا کہ وہ اپنی جان بچانے سعودی عرب گئے تھے تو چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ اگر ہم نے پاکستان رہ کر جان بچا لی تو کون سا جرم کیا ہے۔

چوہدری پرویز الہی کا میاں نواز شریف بارے میں رویہ درشت رہا ہے البتہ چوہدری شجاعت حسین انہیں ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ سعودی عرب سے شریف برادران کی واپسی کے بعد ایک بار پھر شریف خاندان اور چوہدری برادران کو قریب تر کرنے کی کوشش کی گئی لیکن چوہدری برادران کے اعزاز میں جاتی امرا میں ظہرانہ دیے جانے سے قبل گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور چوہدری پرویز الہی کے درمیان خفیہ ملاقات کی بھنک ہو گئی تو شریف فیملی نے بھی ظہرانہ کو منسوخ کر دیا اس طرح دونوں خاندانوں کو قریب تر کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں چوہدری مونس الہی کی گرفتاری کو بھی میاں نواز شریف کے کھاتے میں ڈالا گیا جس سے دونوں خاندانوں کے درمیان فاصلے مزید بڑھ گئے مجھے یاد ہے۔

میں چوہدری پرویز الہی سے ملاقات کے لئے پارلیمنٹ میں ان کے چیمبر میں گیا اس وقت وہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں سینئر وزیر کی حیثیت سے ڈپٹی پرائم منسٹر کا سٹیٹس انجوائے کر رہے تھے۔ میں ان سے پوچھا کہ چوہدری صاحب کیا آپ کے میاں نواز شریف کے ساتھ تعلقات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ گئے ہیں تو انہوں نے میری بات پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرے ساتھ نواز شریف بارے میں کوئی بات کرے تو میں اس سے ہفتہ عشرہ بات نہیں کرتا۔ شریف ہاؤس سے دوریوں نے ہی چوہدری برادران کو عمران خان کے قریب تر کر دیا 2018 ء کے عام انتخابات سے قبل عمران خان چوہدری پرویز الہی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتے تھے۔

سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی جن قوتوں نے عمران خان کے لئے وزارت عظمیٰ کا مسند سجایا تھا۔ انہوں نے عمران خان کو وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ (ق) کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر مجبور کر دیا مسلم لیگ (ق) وفاق میں 5 اور پنجاب میں 10 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی چوہدری پرویز الہی کی اس وقت ہی پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر نظریں لگی تھیں اس لئے انہوں نے قومی اسمبلی نشست چھوڑ دی اور پنجاب اسمبلی کے رکن کا حلف اٹھا لیا۔ عمران خان کو مجبوراً چوہدری پرویز الہی کو پنجاب اسمبلی کا سپیکر قبول کرنا پڑا۔ پچھلے پونے چار سال کے دوران مسلم لیگ (ق) اور پی ٹی آئی کے درمیان آئیڈیل تعلقات قائم نہیں رہے بلکہ آپ اسے مجبوری کی شادی قرار دے سکتے ہیں۔

عمران خان نے چوہدری مونس الہی کو اپنی کابینہ میں لینے سے انکار کر دیا جب کہ انہوں نے چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے چوہدری سالک حسین کو کابینہ میں لینے کا عندیہ دیا تو چوہدری شجاعت حسین نے اسے چوہدری فیملی کو تقسیم کرنے کی سازش قرار دے کر پیشکش مسترد کر دی۔ چوہدری سالک حسین کو ان کی کابینہ کا رکن نہیں بنایا وہ تو پارٹی کے اندر کی بغاوتوں نے عمران خان کو چوہدری مونس الہی کو کابینہ میں لینے پر مجبور کر دیا۔ جب عمران خان کے اقتدار کا سنگھاسن ڈولنے لگا تو عمران خان نے بھی اپنے اصول بالائے طاق رکھ کر لمحہ لمحہ کمپرومائز کرنا شروع کر دیا۔

اس دوران چوہدری پرویز الہی کو مسلم لیگ (ن) کی طرف سے وزارت اعلیٰ کی پیش کش آ گئی۔ میاں نواز شریف پنجاب گجرات کے چوہدریوں کے حوالے کرنے کے لئے تیار نہ تھے لیکن آصف علی زرداری نے انہیں منا لیا۔ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی، چوہدری پرویز الہی کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنوانے کے ضامن بن گئے۔ چوہدری پرویز الہی نے مٹھائی بھی بانٹ دی لیکن جب ان کے صاحبزادے چوہدری مونس الہی انہیں عمران خان کے ساتھ ملاقات کروانے لے گئے تو عمران خان نے انہیں مسلم لیگ (ن) کا وزیر اعلیٰ نہ بننے پر آمادہ کر لیا۔

یہیں سے چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی کے درمیان سرد جنگ کا آغاز ہوا جو بالآخر چوہدری فیملی کی تقسیم پر منتج ہوئی۔ چوہدری شجاعت حسین چوہدری پرویز الہی کو مسلم لیگ (ن) کا وزیر اعلی بنانا چاہتے تھے لیکن جب انہوں نے بات نہ مانی تو انہوں مسلم لیگ (ق) کے 10 ارکان کو حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کا حکم جاری کر دیا لیکن تمام کے تمام ارکان نے بغاوت کر دی۔ چوہدری شجاعت حسین کے خط کو غیر موثر کرنے کے لئے ساجد بھٹی نامی ایم پی اے کو پارلیمانی لیڈر بنا کر اس کی طرف سے مسلم لیگ (ق) کے ارکان کو چوہدری پرویز الہی کو ووٹ دینے کی ہدایت جاری کر دی گئی تاہم ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے مسلم لیگ (ق) کے 10 ارکان کے ووٹ مسترد کر کے حمزہ شہباز کو منتخب وزیر اعلیٰ قرار دے دیا۔ اسی رات چوہدری پرویز الہی کی درخواست پر سپریم کورٹ کے ان ہی ججوں پر مشتمل عدالت لگ گئی۔ حمزہ شہباز کے خلاف درخواستوں کے لئے ورکنگ ڈے پر سماعت بھی رکھ لی۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ پنجاب کے لئے ٹرسٹی وزیر اعلیٰ کا لفظ استعمال کر کے نیا پارلیمانی لفظ متعارف کرا دیا گیا۔

سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی جانب سے مسلم لیگ (ق) کے 10 ووٹ مسترد کرنے کی رولنگ کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے امیدوار چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب قرار دیدیا۔ سپریم کورٹ نے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کا کوئی قانونی جواز نہیں لہذا کالعدم قرار دی جاتی ہے۔ حمزہ شہباز کا حلف غیرآئینی، پنجاب کابینہ کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ حمزہ شہباز اور ان کی کابینہ فوری عہدے چھوڑ دیں، حمزہ شہباز فوری طور پر اپنا آفس خالی کریں، گورنر پنجاب نئے وزیراعلیٰ پرویزالٰہی سے اسی شب ساڑھے گیارہ بجے تک حلف لیں، ان کے دستیاب نہ ہونے پر صدر مملکت حلف لیں ایسی بھی کیا جلدی تھی۔

عدالت عظمیٰ نے اسی روز حلف لینے کا حکم جاری کیا تاہم گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے نئے وزیراعلیٰ سے حلف لینے سے معذرت کرلی، جس کے بعد چوہدری پرویزالٰہی خصوصی طیارے سے اسلام آباد پہنچے اور ایوان صدر میں رات گئے وزیراعلیٰ پنجاب کا حلف اٹھایا۔ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا حکمران اتحاد نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ مسترد کر دیا۔ حکومتی اتحاد پہلے ہی فل کورٹ بنانے کا مطالبہ تسلیم نہ ہونے پر تین رکنی عدالتی بینچ کا بائیکاٹ کر چکا تھا۔

قبل ازیں دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ شکر ہے اتنی گریس باقی ہے کہ بائیکاٹ کرنے والے بھی عدالتی کارروائی سننے آئے ہیں۔ شنید ہے حکومتی اتحاد عدالت عظمٰی کے گزشتہ روز کے فل کورٹ تشکیل نہ دینے کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کرے گا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے سوال اٹھایا ہے کہ پارلیمانی لیڈر والا لفظ کہاں استعمال ہوا ہے؟ کیا پارلیمنٹری پارٹی کی جگہ پارلیمانی لیڈر کا لفظ محض غلطی تھی؟ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئین کیا کہتا ہے کہ کس کی ہدایات پر ووٹ دیا جائے، کیا پارلیمنٹری پارٹی، پارٹی سربراہ سے الگ ہے؟

حکمران اتحاد نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو جوڈیشل کو قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے بیان میں عدالتی فیصلے کو جوڈیشل کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ انصاف کا قتل نامنظور وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ فل کورٹ آئینی مسئلہ کی تشریح کے لئے بنا دیا جاتا تو فیصلہ متنازع نہ ہوتا، ملک احمد خان نے کہا کہ عدلیہ کے سامنے یہ سوال تھا کہ کیا پارٹی ہیڈ ہدایت کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز کو ملنے والے ووٹوں میں 25 کو سپریم کورٹ کے حکم پر شمار نہیں کیا گیا، سپریم کورٹ نے اپنے ہی فیصلے میں قرار دیا کہ ووٹ ڈالا تو جائے گا لیکن شمار نہیں ہو گا۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ تین ججوں کے بنچ کے فیصلے سے سپریم کورٹ نے جمہوریت کا عدالتی قتل کیا ہے۔ ہم نے کبھی فوجی آمریت کو قبول نہیں کیا تو عدالتی مارشل لاء کو بھی کسی صورت قبول نہیں کریں گے جب کہ تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو انصاف کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا گیا ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ آج کا فیصلہ دو ٹوک ہے۔ اگر کسی نے گورنر راج لگانے کی کوشش کی تو وہ گھنٹوں بھی نہیں چلے گا۔

وفاقی کابینہ نے بھی عدالتی اصلاحات کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف جسٹس کے بنچ تشکیل دینے اور ازخود نوٹس کے اختیارات پر قانون سازی کے لئے پارلیمانی کمیٹی میں بحث کرائی جائے گی، کابینہ نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف نظر ثانی درخواست واپس لینے کا بھی فیصلہ کر لیا اور کہا ہے کہ جسٹس فائزعیسیٰ کو دباؤ میں رکھنے کے لئے ریفرنس بنانے والوں کے خلاف کارروائی کے لئے کابینہ کی سب کمیٹی بنا دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اختیارات کم نہیں کر رہے، پارلیمنٹ کے سوا کسی کو آئین میں ترمیم کا اختیار نہیں، عدالتی فیصلے سے سیاسی صورتحال مزید بگڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قاضی فائزعیسیٰ ایک معزز جج ہیں۔ شہزاد اکبر جیسے غنڈوں نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ عدلیہ 3 رکنی بینچ کا نام نہیں، از خود نوٹس اور بینچ تشکیل کا اختیار چیف جسٹس کے بجائے سینئر ججوں کے پاس ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل سمیت بار کونسلز نے سپریم کورٹ رولز میں ترمیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن ارکان، ججوں کی تقرری میں سنیارٹی کا اصول ہونا چاہیے۔

وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کے شرارتی ارکان کلی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ اور سابق صوبائی وزیر داخلہ کے پنجاب میں داخلہ کی دھمکی پر پنجاب میں گورنر راج نافذ کرنے کی دھمکی دے دی ہے اگرچہ وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ گورنر راج لگانے کی کسی کے ذہن میں کوئی بات نہیں ہے لیکن اگر صوبائی حکومت نے وفاق سے الجھنے کی کوشش کی تو گورنر راج کا نفاذ خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے پارٹی کی سینئر قیادت سے مرکز میں حکومت چھوڑنے اور قبل از وقت انتخابات کے آپشن پر مشاورت کی ہے۔ نواز شریف وزیراعظم شہباز شریف سمیت پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے بھی کئی بار اس پر بات کر چکے ہیں۔ حکمران اتحاد کا ایک اجلاس جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہوا ہے جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے، الیکشن کمیشن آٹھ سال سے زیر التوا فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کرے، ملک کی ساکھ کو بچانا ہمارے لئے چیلنج ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کے ساڑھے تین سال کا گند ایک سال میں صاف کرنا مشکل ہے۔ سیاسی جماعتوں کی رائے لے کر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ حکمران اتحاد کے سربراہی اجلاس میں مولانا فضل الرحمنٰ، مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب، آفتاب شیرپاؤ، پروفیسر ساجد میر او ر شاہ اویس نورانی نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف اور محمود خان اچکزئی، قائد مسلم لیگ نون نواز شریف نے بھی ویڈیو لنک پر اجلاس میں شرکت کی اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا ہے کہ لاڈلے کا 4 سال کا گند ہم پر ڈال دیا گیا ہے۔ صرف ملک بچانے کے لئے حکومت میں آنا قبول کیا ہے۔ میں پہلے دن سے ہی حکومت میں آنے کا مخالف تھا۔ مریم نواز نے پی ڈی ایم اجلاس میں مفاہمت کی پالیسی ترک کرنے کی تجویز دی ہے۔ مریم نے کہا کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے آئندہ انتخابات کے لیے لائحہ عمل طے کیا جائے۔ مریم نواز نے پی ٹی آئی کے ارکان استعفے فوری منظور کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ پی ڈی ایم کے اجلاس میں حکومت سے فی الفور نکلنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا تاہم پی ڈی ایم نے اپنے مطالبات منوانے کے لئے ریاست اداروں پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

Facebook Comments HS