زندگی صرف ایک دوڑ کا نام نہیں ہے


بچپن میں اگر ہم کہیں کھیلتے ہوئیں گر جاتے یا پھر اگر کوئی بہت ہی قیمتی کھلونا ٹوٹ جاتا یا کبھی کبھار کچھ ایسا ہو جاتا جو نہیں ہونا چاہیے تھا، تو جیسے ہی بیٹھ کر رونا شروع کرتے تو گھر کے سارے بڑے دلاسے پے دلاسے دینے لگتے کہ بیٹا چپ ہو جاؤ۔ ابھی تو آپ نے زندگی کے کئی امتحان اور دیکھنے ہیں۔ دیکھو بیٹا زندگی ایک دوڑ کا نام ہے۔ جس میں بھاگتے رہنا ہی انسان کی زندگی کی ضمانت ہے۔ وہاں تک تو یہ بات قدرے سمجھ بھی آتی تھی اور وہاں کی سچویشن کے مطابق کہیں نا کہیں پوری بھی اترتی تھی۔ مگر انسان جیسے جیسے بڑھا ہوتا ہے اس کے حالات بھی اس کے مطابق بدلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ وہ زندگی جو محض ایک دوڑ معلوم پڑتی تھی پھر وہ دوڑ نہیں رہتی۔ یہاں پھر معاملہ کہیں زیادہ اس دوڑ سے بڑھ کر ہو جاتا ہے۔

پھر یوں زندگی کے ہر دوسرے موڑ پر آپ کو اس بات سے دلاسا دیا جاتا ہے کہ بھئی زندگی تو ایک دوڑ کا نام ہے۔ جتنے بھاگوں گے، اتنا ہی زندگی کی دوڑ میں کامیاب ہو سکوں گے۔ نہ جی نہ زندگی دوڑ کیسے ہوئی بھلا۔ دوڑ تو وہ ہوتی ہے جس میں بھاگنے والوں کو ایک جیسے سپائیکس والے شوز دیے جاتے ہیں۔ دوڑنے کے لیے ایک قسم کا ٹریک ہوتا ہے۔ یونیفارم ایک سا ہوتا ہے۔ سب کے پاس وقت ایک سا ہوتا ہے۔ حتی کہ اس جگہ کا درجہ حرارت بھی یکساں ہوتا ہے۔

لیکن زندگی کسی لحاظ سے بھی دوڑ نہیں معلوم پڑتی۔ یہاں ہر ایک کے حالات دوسرے سے مختلف ہیں۔ ہر کسی کے پاس اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے یکساں وقت نہیں۔ کوئی اپنے خاندان کی دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے لیے دن رات ایک کرتا ہے تو کوئی ہونڈا سیویک خریدنے کے لیے دن رات ایک کرتا ہے۔ کوئی صرف زندہ رہنے کے لیے تگ و دو کرتا ہے تو کوئی اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے دربدر ہوتا ہے۔

کوئی پینتیس کی عمر میں جا کر مہران گاڑی لیتا ہے تو کسی کو اٹھارہ سال کا ہونے پر سالگرہ پر فارچونر گاڑی گفٹ کر دی جاتی ہے۔ کوئی اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے دربدر ہوتا ہے تو کوئی اپنی کمپنی کو نمبر ون بنانے کے لیے کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ جس بلڈنگ کے اندر کروڑوں کی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں، اس بلڈنگ کے باہر کھڑا بھکاری دو وقت کی روٹی کے لیے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا رہا ہوتا ہے۔ جس ہوٹل پر عیاش نوجوان عیاشی کرنے کے لیے جاتے ہیں، اسی ہوٹل میں ویٹرز اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے ان کے آگے جی سر جی سر کر رہے ہوتے ہیں۔

کوئی لڑکی دو لاکھ کا لہنگا پہنتی ہے تو کوئی اپنے تن کو ڈھانپنے کے لیے دو گز کپڑا بھی خریدنے سے قاصر ہوتی ہے۔ کوئی اپنے خواب پچیس سال کی عمر میں ہی پورے کر لیتا ہے تو کوئی ساری عمر کوشش کے باوجود اپنے آدھے خواب بھی پورے نہیں کر سکتا۔ تو کل ملا کر بات یہ ہے کہ یہاں نہ تو سب کو ایک جیسے سپائیکس والے شوز دیے گئے ہیں، نہ کسی کا ٹریک ایک سا ہے، نہ سب کے پاس ایک سا وقت ہے۔

یہاں ہر ایک کو مختلف قسم کے حالات دیے گئے ہیں۔ ہر ایک کو اپنے حساب سے چلنا ہے۔ ہر ایک کے پاس راستہ مختلف ہے۔ ہر ایک کے پاس وقت مختلف ہے۔ ہر ایک کی ترجیحات ایک دوسرے سے مختلف ہے۔

جب سب کے پاس موجود چیزیں ہی مختلف ہیں تو ہم کیوں کر اپنا موازنہ دوسروں سے کر سکتے ہیں۔ بس جی ”زندگی ایک دوڑ کا نام ہے“ کہہ کر سب کو ایک ہی رستے پر چلنے کا کہہ دیا جاتا ہے۔ اس جملے نے سب سے زیادہ ہمارا جینا اجیرن کر رکھا ہے۔ آپ مجھے کوئی ایک پہلو بتا دیجئے جس سے لگے کہ زندگی ایک دوڑ کا نام ہے۔

موٹیویشن کی حد تک یہ بات سننے میں اور بولنے میں اچھی لگتی ہے کہ بھئی زندگی تو ایک دوڑ کا نام ہے۔ لیکن پریکٹیکل لائف میں کہیں بھی اس کا نام و نشان تک نہیں۔ ہر انسان اپنے ہی منجدھار میں پھنسا ہوا ہے۔ ہر کسی کو اپنے حساب سے مختلف قسم کی پریشانیاں ہیں۔ کوئی اس لیے پریشان ہے کہ پیسہ آئے گا کہاں سے اور کوئی اس لیے پریشان ہے کہ اتنا پیسہ رکھے گا کہاں۔

اس لیے زندگی کو آسان بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اسے اپنے حساب سے دیکھا جائے۔ اسے اپنے حساب سے جیا جائے نہ کہ اسے ایک دوڑ سمجھ کر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کی جائے۔ یہاں سب کے پاس ایک سی چیزیں دستیاب نہیں ہیں۔ جو دستیاب ہیں انھیں بروئے کار لے کر اپنی زندگی کو زندگی بنایا جائے۔ کم از کم اسے اتنا تو جیا جائے کل کو بستر مرگ پر آپ کو پچھتاوا نہ ہو اسے اپنے مطابق نہیں جیا۔ اور اسے اپنے مطابق جینے کے لیے ہمیں ”زندگی تو ایک دوڑ ہے“ کے منجدھار سے باہر نکلنا ہو گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments