غُلامی کرنے میں آزاد قوم


اللہ نے کوئی ایک نبی بھی لوگوں کو غلامی کا درس دینے کے لئے نہیں بھیجا۔ غلامی پسند لوگ آزادی کی ہر تحریک کے مقابل، حریت کی ہر آواز کے مخالف، اور استقلال کے ہر راستے کی رکاوٹ ہوتے ہیں۔ نا اہل حکمرانوں، جابر بادشاہوں اور عیاش سلاطین نے مختلف حیلوں، حربوں، مکاریوں اور چالوں کے ذریعے مسلمانوں کو اپنا غلام بنایا اور پھر انہیں غلامی پر رضا مند رکھنے کے لئے بڑی بڑی شاندار مساجد تعمیر کرائیں، وسیع و عریض دینی مدرسے بنوائے، مذہبی کتابیں لکھوائیں، کتاب خانوں کا رواج ڈالا، تراجم کے مراکز قائم کیے اور مکاتب و مسالک کے درمیان مناظرے کروائے۔ اس زمانے میں مسلمان بطور قوم بظاہر آزاد رہے لیکن انہیں صرف بادشاہوں کا غلام رہنے کی آزادی تھی۔

انہوں نے یہ سوچنا بھی چھوڑ دیا تھا کہ نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کی اطاعت تو ہم نبوت و رسالت کی وجہ سے کرتے تھے، اب ان بادشاہوں کی اطاعت ہم کس وجہ سے کریں! ؟

لوگ ان بے عمل، بدکار، عیاش اور بدمعاش بادشاہوں کو ظل الہی کہہ کر انہیں تعظیمی سجدے کرنے لگے، ان کے خلاف آواز اٹھانے کو بغاوت کہا جانے لگا اور باغیوں کے کفر و ارتداد کے فتوے جاری کر دیے گئے۔

مسلمان اپنا پیٹ کاٹ کر ان کے شاہی خزانے بھرتے اور یہ بادشاہ ان خزانوں سے اپنی طوائفوں کے لئے شاندار محلات تعمیر کراتے، رنگ رلیاں مناتے، عیش و نوش کے ساتھ زندگی بسر کرتے اور مسلمانوں سے کہتے کہ پکا اور سچا مسلمان وہ ہے جو غربت و تنگدستی کی زندگی گزارتا ہے، پھٹنے پرانے کپڑے اور جوتے پہنتا ہے اور نمک سے روٹی کھاتا ہے۔

مسلمانوں میں یہ شعور ہی ختم ہو گیا کہ بادشاہوں کا اسلام تو امیر کبیر ہے اور رعایا کا اسلام بھوکا ننگا کیوں ہے؟

عقل و شعور کی یہ موت آج بھی جہان اسلام میں دکھائی دے رہی ہے۔ اسلامی ممالک میں حاکم طبقے اور اشرافیہ کے ٹھاٹ باٹ اور عام مسلمان کے شب و روز کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ لوگ نماز و روزے اور حج و زکواۃ میں مشغول ہیں لیکن انہیں ایک اسلامی ریاست میں بطور مسلمان اپنے سیاسی و اقتصادی حقوق کا کچھ شعور نہیں۔

قیام پاکستان سے پہلے برصغیر پاک و ہند میں بادشاہت کا طلسم ٹوٹ چکا تھا۔ لوگ جن بادشاہوں اور حکومتوں کو اسلامی سمجھتے تھے وہ سب تاراج ہو چکی تھیں۔ بیرونی استعمار نے ہلہ بول کر مقامی استعمار کے وہ تاج اچھال دیے تھے اور وہ سلطنتیں ختم ہو گئی تھیں۔ ٹیپو سلطان کی مانند جن حکمرانوں میں کچھ انسانیت و شرافت باقی تھی وہ بھی استعمار کے طوفانی ریلے کے سامنے ٹھہر نہ سکے۔

اب وقت تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں کو ان کی خودی کی طرف دعوت دے کر انہیں سیاسی شعور دیا جائے اور ان کی فطرت کی آواز ”آزادی“ کو زندہ کیا جائے۔ بادشاہوں کے طلسم سے آزاد ہونے والے ان مسلمانوں کو جلد ہی برطانوی استعمار کے خلاف اپنی خودی اور شناخت کا احساس ہو گیا۔ یہی احساس آگے چل کر قیام پاکستان کا باعث بنا۔

تاہم یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جیسے ریاست مدینہ کے قیام کے وقت مسلمانوں میں شعور کی لہر اتنی پختہ نہیں ہوئی تھی کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے بعد اپنی آزادی کی حفاظت کرتے اور بادشاہوں و اشرافیہ کے غلام نہ بنتے ویسے ہی قیام پاکستان کے وقت بھی مسلمانوں میں سیاسی شعور کی سطح اتنی بلند نہیں تھی کہ پاکستانی مسلمان اپنی خودی اور استقلال کی حفاظت کر سکتے۔

چنانچہ جس طرح چودہ سو سال پہلے ریاست مدینہ ایک ملوکیت میں بدل گئی تھی ویسے ہی آج پاکستان پر بھی اشرافیہ کا قبضہ ہو چکا ہے۔ جس طرح چودہ سو سال پہلے کسی طاقتور بادشاہ کی قتل و غارت کو دینی و قانونی تحفظ دے کر اسے خطائے اجتہادی کہا جاتا تھا، اسی طرح آج بھی ارباب اختیار و طاقت کی کرپشن کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔

ماضی کی طرح آج بھی ہم صرف اتنے آزاد ہیں کہ اپنی آزادی سے اشرافیہ، بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کی غلامی کر سکیں۔ اگر ہم ان کی غلامی کے بجائے ان پر تنقید اور اعتراض کرنا شروع کر دیں تو پھر وہی دارورسن، اغوا و لاپتہ اور گولی و سولی ہی ہماری منزل ہے۔ آپ طاقتور طبقات پر سوال اٹھا کر دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ ہم حقیقی معنوں میں آزاد نہیں ہیں بلکہ صرف غلام رہنے میں آزاد ہیں۔

Facebook Comments HS