سرگودھا کا سلطان خان: سلطنت برطانیہ میں شطرنج کا چیمپیئن بننے والا ایک رئیس کا ملازم

اشوک پانڈے - بی بی سی ہندی کے لیے


آکسفورڈ میں سنہ 1890 میں ہونے والے شطرنج کے مقابلے میں حصہ لینے والے 19سالہ نوجوان ہندوستانی کھلاڑی گووند دینا ناتھ مڈگاونکر نے اپنے کھیل سے انگریزوں کو دنگ کر رکھا تھا۔

ماہرین کو مڈگاونکر میں ایک بڑا چیمپئن نظر آیا لیکن دو سال کے اندر ہی شطرنج چھوڑ کر انڈین سول سروس میں شمولیت اختیار کر لی۔

یہ عین ممکن ہے کہ اگر مڈگاونکر نے کھیلنا بند نہ کیا ہوتا تو وہ بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت بنانے والے پہلے ہندوستانی شطرنج کھلاڑی ہوتے۔

لیکن چالیس سال بعد سنہ 1931 میں جب وہ بمبئی ہائی کورٹ میں چیف جسٹس کے عہدے سے سبکدوش ہو رہے تھے تو انھیں شاید یہ خبر بھی نہ ہو کہ ان دنوں اتفاق سے انگلستان کا دورہ کرنے والا ایک ہند نژاد نوجوان کھلاڑی دنیا کے نامور شطرنج کھلاڑیوں کو شکست سے دو چار کر رہا ہے۔

اگر مڈگاونکر نے میر سلطان خان کا نام سنا ہوتا تو شاید انھیں اپنے شطرنج چھوڑنے پر کبھی افسوس نہ ہوتا۔ شطرنج ان دنوں ایک مہنگا شوق سمجھا جاتا تھا اور عام آدمی کی پہنچ سے باہر تھا۔ سنہ 1903 میں پنجاب میں سرگودھا کے قریب زمینداروں کے گھرانے میں پیدا ہونے والے میر سلطان خان کے والد میاں نظام الدین شاندار شطرنج کھیلتے تھے۔

انھوں نے اپنے تمام نو بیٹوں کو چھوٹی عمر سے ہی شطرنج کھیلنا سکھایا۔ جب وہ سولہ سترہ سال کے ہوئے تو میر سلطان خان روزانہ اپنے گاؤں ٹواناں سے سرگودھا جانے لگے جہاں وہ امرا کی محفلوں میں شطرنج کھیلا کرتے تھے۔ 21 سال کی عمر میں انھیں اپنے صوبے کا چیمپئن سمجھا جانے لگا۔

سلطان کے کارناموں کی خبر پڑوسی ریاست کالرہ کے مالک عمر حیات خان کے کانوں تک بھی پہنچی جو خود شطرنج کے بڑے شوقین اور پرستار تھے۔

پنجاب کے سب سے بڑے زمینداروں میں شمار ہونے والے عمر حیات خان کو انگریزوں کی حمایت حاصل تھی اور وہ کونسل آف اسٹیٹ آف انڈیا کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ برطانوی فوج میں میجر جنرل کے عہدے پر خدمات انجام دینے والے عمر حیات خان کو برطانوی حکومت نے سر کے خطاب سے بھی نوازا۔

ہندوستانی طرز کی شطرنج

عمر حیات خان نے سلطان کو اپنی ریاست میں آکر شطرنج کے کھلاڑیوں کی ایک ٹیم تیار کرنے کی تجویز پیش کی جس کے عوض انھیں رہائش کے علاوہ اچھی تنخواہ دی جائے گی۔ اس طرح میر سلطان خان شوقیہ کھلاڑی سے امیر زمیندار کے ملازم بن گئے۔

1926 میں عمر حیات خان کے پاس آنے سے پہلے سلطان صرف انڈین طرز کی شطرنج کھیلتے تھے۔ لیکن اب انھیں یورپی طرز کی شطرنج سکھانے کے لیے ٹیوٹرز کی خدمات فراہم کی گئیں۔ دو سال بعد ایک آل انڈیا شطرنج ٹورنامنٹ منعقد ہوا جو میر سلطان خان نے آسانی سے جیت لیا۔ انھوں نے نو گیمز کھیلے اور صرف نصف پوائنٹ گنوائے۔

عمر حیات خان کو دہلی میں اقتدار کے حلقوں میں اچھی رسائی حاصل تھی۔ وہ سلطان خان کی صلاحیتوں کو ان بااثر انگریزوں کو بیان کرنا نہیں بھولے جن سے وہ وہاں ملتے تھے۔ سنہ 1929 میں انھیں ایک سیاسی مشن کے سلسلے میں انگلستان بھیجا گیا۔ ان کے کارندوں کے گروپ میں میر سلطان خان بھی شامل تھے جسے وہ اپنے ساتھ انگلینڈ لے گئے تھے۔

میر سلطان خان 26 اپریل سنہ 1929 کو جمعے کے روز لندن پہنچے۔ برطانوی سفارت کار سر جان سائمن، جو بعد میں سائمن کمیشن کے لیے بدنام ہوئے، عمر حیات خان کے قریبی دوست اور خود میر سلطان خان کے مداح تھے۔

اگلے دن یعنی ہفتہ کو جان سائمن نے لندن کے نیشنل لبرل کلب میں موجود چند اشرافیہ کے لوگوں کے سامنے سلطان خان کا تعارف کرایا۔ اس کے بعد انھوں نے جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے برونو نامی چیمپئن کھلاڑی کے ساتھ کچھ بازیاں کھیلیں اور عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا۔

مضبوط حفاظتی انداز کا کھیل

اگلے دن یعنی اتوار کو ایک مشہور بین الاقوامی کھلاڑی اسی کلب میں کئی کھلاڑیوں کے ساتھ شطرنج کھیل رہے تھے۔ سلطان خان نے ان کا نام بھی نہیں سنا تھا لیکن انھیں بھی ان کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملا۔

چیمپئن کے جارحانہ کھیل کے سامنے سلطان مضبوط دفاعی بازی کھیلتے رہے۔ اپنی جیت کے بارے میں شروع ہی سے پراعتماد چیمپئن کھلاڑی آہستہ آہستہ سلطان کے شکنجے میں آتے گئے اور بالآخر وہ بازی ہار گئے۔

یہ بین الاقوامی کھلاڑی کیوبا کے ہوسے راؤل کیپابلانکا تھے جو سنہ 1921 سے 1929 تک مسلسل عالمی چیمپئن رہے۔ کیپابلانکا کے ساتھ کھیلے گئے اس غیر رسمی میچ میں میر سلطان خان نے اپنے کھیل کا سب سے بڑا راز کھول دیا۔

سوٹ کے ساتھ پگڑی پہنے، جذبات سے عاری چہرے کے ساتھ، جب وہ کافی دیر تک کوئی چال نہ چلتے تو کوئی نہیں سمجھ پاتا کہ وہ اندر سے کتنا مضبوط ہیں۔ ان کی اس مضبوطی کو نہ عمر حیات سمجھ سکے اور نہ ہی ان کا کوئی حریف۔

ان کا انداز اس قدر مختلف تھا کہ کوئی بھی اس پر پوری طرح قابو نہیں پا سکتا تھا۔ اسی سال کے اواخر میں برٹش چیمپئن شپ لندن کے شہر رامس گیٹ میں منعقد ہوئی جسے عالمی چیمپئن شپ کے برابر سمجھا جاتا تھا۔

سلطان خان اس باوقار ٹورنامنٹ میں چیمپیئن بن گئے اور اچانک پوری دنیا کو ان کا پتہ چل گیا۔ اس کے بعد انھیں یورپ کے تمام شہروں سے کھیلنے کے دعوت نامے ملنے لگے۔

انگلینڈ واپسی

انگلینڈ کی سردی انھیں راس نہیں آ رہی تھی جس کی وجہ سے وہ نومبر کے مہینے میں وطن واپس آئے لیکن شطرنج کی دنیا نے اگلے ہی سال مئی کے مہینے میں انھیں واپس انگلینڈ بلا لیا۔

سنہ 1930 اور 1933 کے درمیان میر سلطان خان نے مزید دو بار برٹش چیمپئن شپ جیتی اور بہت سے دوسرے ٹورنامنٹس میں حصہ لیا، اپنے وقت کے چند عظیم کھلاڑیوں کو شکست دی، جن میں ساویالی تارتاکوور، سولٹن بیف، سالو فلور، اکیبا روبینسٹائن اور ہوسے رال کیبالانکا شامل تھے۔ چیکوسلواکیہ کے دارالحکومت پراگ میں منعقدہ بین الاقوامی ٹیم ٹورنامنٹ میں اس وقت کے عالمی چیمپئن الیگزینڈرا لیکائن کے ساتھ ان کا میچ برابری پر ختم ہوا۔

یہ وقت سلطان خان کے کرئیر کا عروج تھا جب ان کا شمار مسلسل دنیا کے دس بڑے کھلاڑیوں میں کیا جا رہا تھا۔ عمر حیات خان جس کام کے لیے انگلستان میں مقیم تھے وہ 1933 میں طے پا گئے تھے جس کے بعد وہ سلطان خان اور اپنے باقی ملازموں کے ساتھ ہندوستان واپس آ گئے۔

سنہ 1934 کے اوائل میں جب وہ ایک طویل سمندری سفر کے بعد بمبئی پہنچے تو لوگ ان کو جاننے لگے۔ 25 جنوری کو انھوں نے بمبئی کے سینتیس کھلاڑیوں کے خلاف ایک ساتھ شطرنج کھیلی۔

انھوں نے بہت ہلکے موڈ میں بازیاں کھیلیں اور اپنے سامنے موجود کھلاڑیوں کو اجازت دی کہ وہ تماشائیوں سے مشورہ لیں اور کھیلتے ہوئے اپنی چالیں واپس لیں۔ اس کے باوجود، انھوں نے اکتیس کھیل جیتے، ایک برابر جبکہ پانچ میں شکست ہوئی۔

اس کے بعد انھیں سانگلی میں رہنے والے ایک زبردست کھلاڑی ونائک کاشی ناتھ کھاڈلکر کے ساتھ دس میچ کھیلنے کا موقع ملا۔ میر سلطان خان نے نو جیتے جبکہ ایک ڈرا رہا۔

مہرے

جنوبی افریقہ کا شہر ڈربن

وطن واپس آنے کے بعد بھی انھیں چند سالوں تک یورپ کے بڑے ٹورنامنٹس میں کھیلنے کی دعوت دی گئی لیکن ان کے پاس سفری اخراجات اور میچ فیس کے لیے پیسے نہیں تھے۔

عمر حیات خان نے بھی مالی امداد دینا بند کر دی تھی۔ اس طرح ایک چیمپئن کھلاڑی کی بین الاقوامی کھیلوں کی زندگی کا خاتمہ ہوگیا۔ انھوں نے ساری زندگی سرگودھا میں اپنی آبائی زمین پر کاشت کاری میں گزاری۔

ان کے اچانک شطرنج کے میدان سے غائب ہوجانے کے نتیجے میں اخبارات نے بعض اوقات ان کے بارے میں عجیب قیاس آرائیاں شروع کر دی تھیں۔ ان کے شطرنج چھوڑنے کی ایک کہانی یہ گھری گئی کہ جب وہ انگلینڈ سے واپسی کے بعد اپنے گاؤں پہنچے تو ایک بوڑھا فقیر ان کے گھر آیا اور اس نے ان کے ساتھ شطرنج کھیلنے پر اصرار کیا۔ اس کی خواہش کی خاطر سلطان خان نے بساط لگائی لیکن بوڑھا جیت گیا۔

بوڑھا آدمی ایک اور بازی کھیلنے پر بضد تھا۔ سلطان یہ بازی بھی ہار گئے۔ اس کے بعد انھوں نے سنجیدگی سے فقیر سے کہا کہ اگر وہ تیسری بازی بھی ہار جائيں گے تو وہ زندگی میں کبھی شطرنج کو ہاتھ نہیں لگائیں گے۔

کہانی کے آخر میں بتایا گیا کہ پچھلے کئی سالوں سے سلطان خان اپنے ہی وعدے کی پابندی کر رہے ہیں۔ سنہ 1950 کے آس پاس یورپ میں یہ افواہ بھی پھیلی کہ میر سلطان خان جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن کے ایک نائٹ کلب میں اوپرا سنگر بن گئے ہیں۔

میر سلطان خان نے ایک گجر عورت سے شادی کی اور ان کے گیارہ بچے پیدا ہوئے، جن میں پانچ بیٹے اور چھ بیٹیاں تھیں۔ ان کی وفات سنہ 1966 میں اپنے گاؤں سرگودھا میں ایک بھرے خاندان کے ساتھ رہنے کے بعد ہوئی۔ انھیں ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

پیادے کی چال

میر سلطان خان کو شطرنج کے بارے میں ایک کہاوت بہت پسند تھی کہ ‘شطرنج ایک ایسا سمندر ہے جس میں مکھی بھی پانی پی سکتی ہے اور ہاتھی بھی نہا سکتا ہے۔’

جب انھوں نے یورپی طرز کی شطرنج کھیلنا شروع کی تو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مثال کے طور پر انڈین طرز کی شطرنج میں ہاتھی اور بادشاہ کی قلع بندی نہیں ہوتی، جب کہ انڈین طرز کی شطرنج میں بادشاہ ایک بار گھوڑے کی ڈھائی چالیں چل سکتا ہے۔

سب سے بڑا مسئلہ پیادوں کی چال کا تھا جو پہلی حرکت میں ہندوستان میں ایک گھر اور یورپ میں دو گھر منتقل ہو سکتے تھے جس کی وجہ سے ان کی شروعات اکثر خراب ہو جاتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

دو ریاستوں کی وارث ’غیرمعمولی‘ شہزادی جو صرف دو سوٹ کیس لے کر پاکستان آ گئیں

غریب انڈین نابینا طالبعلم پانچ کروڑ پاؤنڈ کی کمپنی کا مالک کیسے بنا؟

چائے کی کیتلیوں کو روسی پراپیگنڈہ پھیلانے کے لیے کیسے استعمال کیا گیا؟

وہ بہت جلدی جلدی چالیں چلتے تھے لیکن کھیل کے بیچ میں انھیں بازی کو کنٹرول کرنے میں مہارت حاصل تھی، اس دوران وہ کسی ماہر سرجن کی طرح کھیل کو اپنے حق میں کرتے تھے۔

ان کے کھیل کے غیر روایتی انداز، ان کی ظاہری شکل اور لباس کے علاوہ جس چیز نے ناقدین کو سب سے زیادہ حیران کیا وہ ان کی ناخواندگی تھی۔ یہ چیمپئن کھلاڑی نہ پڑھ سکتا تھا اور نہ لکھ سکتا تھا۔

شطرنج کی تمام تکنیکی کتابیں انگریزی میں تھیں جو ان کے کسی کام کی نہیں تھین۔ ناقدین سوچتے تھے کہ کوئی ایک کتاب بھی پڑھے بغیر اتنا اچھا کیسے کھیل سکتا ہے۔

مہرے

'شطرنج کی زبان'

شطرنج کے مشہور کھلاڑی اور مصنف آر این کول نے سلطان خان کو عظیم پال مرفی کے برابر قرار دیتے ہوئے انھیں باصلاحیت کھلاڑیوں کی فہرست میں رکھا ہے۔

مرفی نے سنہ 1857 اور 1859 کے درمیان کل تین سال تک شطرنج کھیلی اور انھیں شطرنج کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

آسٹریا کے چیمپیئن ہانس کاموچ سنہ 1930 میں ہیمبرگ میں سلطان کے سامنے تھے۔ کاموچ نے تین بار گیم ڈرا کرنے کی پیشکش کی لیکن میر سلطان تین بار بغیر کچھ کہے مسکراتے رہے۔

کاموچ نے ناراض ہو کر سلطان کے مترجم سے کہا: ‘تمہارے یہ فاتح کون سی زبان بولتے ہیں؟’ مترجم نے کہا: ‘شطرنج کی زبان!’ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ کاموچ تین چار چالوں کے بعد بازی ہار گئے۔

اسی طرح کا ایک واقعہ کیوبا کے عالمی چیمپیئن ہوسے کیپابلانکا کے ساتھ کھیلی جانے والی ان کی واحد آفیشل بازی کے سلسلے میں بیان کیا جاتا ہے۔

جب کیپا بلانکا اپنی جیت کے بارے میں پرجوش ہو رہے تھے، سلطان خان نے آہستہ سے کونے سے ایک پیادہ بڑھا کر فرش کی طرف دیکھنے لگے۔ کیپابلانکا کو شکست دینا میر سلطان خان کے کیریئر کا سب سے اہم سنگ میل تھا، جس کے بعد ان کی ریٹنگ بڑھا کر 2550 کر دی گئی تھی۔

اس بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایشیا کے پہلے گرینڈ ماسٹر تھے لیکن بدقسمتی سے ورلڈ شطرنج فیڈریشن نے انھیں یہ اعزاز نہیں دیا، جب کہ 1950 میں اس اکیبا روبنسٹائن کو بعد از مرگ گرینڈ ماسٹر قرار دیا گیا جنھیں سلطان نے شکست دی تھی۔

فطری ہنر

کئی دہائیاں گزرنے کے ساتھ ہی میر سلطان خان کا نام شطرنج کے شوقینوں میں ایک فرقہ بن گیا ہے اور ان کے نام سے کئی سچی جھوٹی کہانیاں گھڑ لی گئیں۔

ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے اندر ایک فطری صلاحیت لے کر پیدا ہوئے تھے۔ تصاویر میں سلطان کو اوسط سے کم قد کے آدمی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس میں جبڑے کی ہڈیاں پھیلی ہوئی ہیں اور سیاہ رنگت ہے، ان کی آنکھوں میں ٹھنڈک ہے۔

انہیں اکثر سوٹ ٹائی پر پگڑی باندھتے دیکھا جا سکتا ہے۔ جن تصاویر میں وہ کھیلتے ہوئے نظر آرہے ہیں، ان میں آپ پنڈت ملکارجن منصور کی سی توجہ دیکھیں گے۔

اس سب سے بڑھ کر ان کی سماجی حیثیت کی ستم ظریفی دیکھی جا سکتی ہے، جس کے مطابق وہ محض ایک انگریز نواز شریف آدمی کے کارندے تھے، جو انھیں اپنی جیتی ہوئی ٹرافی کی طرح پیش کرتے تھے۔

امریکی شطرنج کھلاڑی اور نقاد روبین فائن نے ایک دل کو چھو لینے والا واقعہ بیان کیا ہے۔ سنہ 1933 میں فوک اسٹون اولمپیاڈ کے بعد عمر حیات خان نے امریکی ٹیم کو بشمول روبن فائن خود لندن میں اپنے گھر پر عشائیہ پر مدعو کیا۔

ٹیم کے پہنچنے پر حیات خان نے کہا: ‘میرے گھر میں آپ سب کو خوش آمدید۔ میں عام طور پر یہاں اپنے کتوں سے بات کرتا ہوں۔’

تمام مہمانوں کو امید تھی کہ کھانے کی میز پر مرکزی جگہ چیمپیئن کے لیے مخصوص ہوگی جیسا کہ روایت ہے۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ میر سلطان سادہ لباس میں ملبوس باقی خادموں کے ساتھ مہمانوں کو کھانا پیش کر رہے تھے۔

دو بار عالمی چیمپیئن یوکرین کی 27 سالہ انا میزیچک

'سلطان خان دمدار تارا'

فائن نے لکھا: 'ہمیں عجیب محسوس ہوا کیونکہ ایک گرینڈ ماسٹر چیمپیئن، جس کے اعزاز میں ہمیں مدعو کیا گیا تھا، اپنی سماجی حیثیت کی وجہ سے ہمیں ویٹر کے طور پر کھانا پیش کرنے پر مجبور تھا۔'

یہ درست ہے کہ آج بھی ہمارے اپنے ملک میں میر سلطان خان کو جاننے والوں کی تعداد بہت کم ہے لیکن انھوں نے شطرنج کے آسمان پر چمکتے ستارے کی طرح راج کیا۔

کوئی بیس سال پہلے روسی مصنف اناتولی ماتسوکیوچ نے ایک اہم کتاب ‘سلطان خان دمدار تارا، لکھی۔ اس میں انھوں نے سلطان کی خان کی کل 198 بازیوں میں سے 120 کو جمع کیا۔ سلطان خان کی زندگی پر دو یا تین مزید کتابیں لکھی گئی ہیں۔

ایک اور دلچسپ کہانی کے بغیر سلطان خان کی کہانی پوری نہیں ہو سکتی۔ سر عمر حیات خان کے نوکروں کی ٹیم میں انگلینڈ جانے والوں میں غلام فاطمہ نامی خاتون میزبان بھی شامل تھیں۔ اٹھارہ سالہ فاطمہ بھی شطرنج کھیلنا جانتی تھیں۔

اپنے بڑھاپے میں دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ انھوں نے بادشاہ جارج پنجم کی ملکہ میری کو باقاعدہ طور پر شطرنج کھیلنا سکھایا تھا۔

عمر حیات خان کے کہنے پر انھوں نے سنہ 1932 کی برٹش چیمپئن شپ میں خواتین کے مقابلوں میں شرکت کی اور چھٹی پوزیشن حاصل کی۔

اس کے بعد میر سلطان نے فاطمہ کو شطرنج کی کچھ پیچیدہ چالیں سکھائیں۔ اور پھر غلام فاطمہ نے 1933 کی برٹش چیمپئن شپ جیتی۔ قابل ذکر ہے کہ اس سال مردوں کی برٹش چیمپئن شپ میر سلطان خان نے جیتی تھی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25280 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments