یوم شہدائے پولیس کا مقصد اور پیغام


محافظ ہمہ وقت موت اور بے یقینی کے دروازے پر کھڑے ہو کر زندگیوں پر پہرہ دیتے ہیں۔ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے وہ ملت کی تعمیر کرتے ہیں۔ ان کی قربانیوں سے عام افراد بھی روشنی لیتے ہیں۔ خدمت کا جذبہ اور دوسروں کا خیال رکھنے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا تو اس کے اثرات پاکستانی سرحدات سے لے کر شہری علاقوں تک پھیل گئے۔ پاکستانی قوم نے اس جنگ کے خون ریز نتائج کا سامنا کیا۔ اس جنگی صورت حال نے پولیس کے لیے معمول سے ہٹ کر کچھ ایسے چیلنجز پیدا کر دیے جو سنگین نوعیت کے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے چیلنجز کا سامنا عام طور سے کسی بھی ملک کی پولیس کو نہیں ہوتا۔ پاکستانی پولیس افسران اور اہلکاروں نے وسائل اور تربیت کی کمی کے باوجود شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا۔ اس کوشش میں بے شمار پولیس افسران اور اہل کاروں کی شہادتیں ہوئی۔ ان کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کو بھی سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔

افغان بارڈر کے قریب ہونے کی وجہ سے اس جنگ کی سب سے بھاری قیمت پختونخوا پولیس ڈپارٹمنٹ کے سپاہیوں کو چکانی پڑی۔ عوامی اجتماعات، عبادت گاہوں، سرکاری املاک اور اداروں پر ڈیوٹی کے دوران پولیس اہل کار جانی اور مالی نقصان تو اٹھاتے ہی رہے ہیں، مگر پندرہ سال تک جاری رہنے والی اس جنگ میں پولیس اہل کاروں اور ان کے عزیز و اقارب کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔ پولیس سٹیشنوں پر بھاری اسلحے اور بارود کے ساتھ مسلسل حملے ہوئے، حفاظتی مراکز کا گھیراؤ کر کے پولیس اہل کاروں کو یرغمال بنایا گیا، مختلف ذمہ داریوں پر متعین کئی پولیس افسران کا مسلسل تعاقب کیا گیا۔

ایسا ہی ایک واقعہ 4 اگست 2010 کو پشاور میں ہوا، جب دہشت گردوں نے ڈیوٹی پر موجود انسپکٹر جنرل صفوت غیور کو قاتلانہ حملہ کر کے شہید کر دیا۔ یہ سانحہ پولیس ڈپارٹمنٹ کے لیے ایک غیر معمولی دھچکا ثابت ہوا۔ سن 2015 میں انسپکٹر جنرل پختونخوا ناصر درانی نے اسی شہادت کی مناسبت سے 4 اگست کو شہدائے پولیس کا قومی دن قرار دیا۔ اس اقدام کو پولیس کے تمام محکموں نے سراہا اور اپنے شہید ساتھیوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کی روایت ڈالی۔

یوم شہدائے پولیس کا ایک مقصد یہ ہے کہ پولیس افسران اور اہل کاروں کے عزم، ارادے اور قربانیوں کو سراہا جا سکے۔ کیونکہ پولیس افسران کو روزمرہ کی ڈیوٹی میں داخلی اور بیرونی خطرات کا براہ راست سامنا رہتا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ پولیس ڈپارٹمنٹ کے ہر محکمے کو منفرد انداز کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہی چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے کئی افسران کو جان سے گزرنا پڑا۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ قربانی دینے والے پولیس افسران اور اہل کاروں کے اہل خانہ کی عملی طور پر مدد کی جا سکے۔ اس سلسلے میں نہ صرف یہ کہ حکام کو متوجہ کیا گیا بلکہ پولیس ڈپارٹمنٹ کی اپنی تنظیموں نے بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے شہداء کے بچوں کے سر پر محبت، شفقت اور تعاون کا ہاتھ رکھا۔

یہ دن جہاں پولیس اہل کاروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا موقع دیتا ہے، وہاں یہ اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ پچھلے ایک عشرے سے پولیس ڈپارٹمنٹ نہ صرف یہ کہ انتظامی امور کی روشنی میں اپنی صلاحیتوں کا جائزہ لے رہا ہے بلکہ عالمی قوانین اور معیارات کے آئینے میں بھی اپنی کارکردگی کو دیکھ رہا ہے۔

اپنی کارکردگی کو عالمی معیارات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مسلسل تربیتی نشستوں، مطالعاتی دوروں، تجربات کے تبادلوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ قانون کی عملداری، قیدیوں کے ساتھ سلوک کے لیے متوازن رویوں، حالات پر قابو پانے کے لیے طاقت کے متناسب استعمال کو یقینی بنانے کے لیے مقامی قوانین اور بین الاقوامی قانون انسانیت کے بیچ مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بہتری کے اس سفر کو پائیدار بنانے کے لیے بین الاقوامی قانون انسانیت کے نگہبان ادارے انٹر نیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کے ساتھ باہمی تعاون کی بنیاد پر شراکت کا عمل جاری ہے۔ اس شراکت کے نتیجے میں تربیتی نشستوں کا اہتمام، تحریری مواد کی فراہمی، عالمی قوانین کے ماہرین اور عالمی سطح کا تجربہ رکھنے والے سینئیر پولیس افسران سے استفادے کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔

ان سرگرمیوں کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ شہریوں اور محافظوں کے بیچ اعتماد کا فقدان کم ہو رہا ہے، بلکہ پولیس ادارے میں داخلی طور پر بھی استحکام پیدا ہو رہا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ماریہ تیمور، اے آئی جی اسلام آباد کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments