ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی ولی عہد پرنس چارلس نے بن لادن فیملی سے 1 ملین پاؤنڈ کا عطیہ قبول کیا


Prince Charles
برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس نے بن لادن فیملی سے 1 ملین پاؤنڈ لیے تھے۔

اخبار لکھتا ہے کہ پرنس چارلس نے یہ رقم سنہ 2011 میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے دو برس بعد سنہ 2013 میں اسامہ کے دو سوتیلے بھائیوں سے وصول کی تھی۔

یہ عطیہ برطانوی ولی عہد کے ادارے پرنس آف ویلز چیریٹیبل فنڈ (پی ڈبلیو سی ایف) نے وصول کیا تھا۔

ولی عہد کی شاہی رہائش گاہ کلیرنس ہاؤس کا کہنا ہے کہ پی ڈبلیو سی ایف نے ’مکمل مطلوبہ احتیاط‘ سے کام لینے کی یقین دہانی کروائی تھی، اور رقم وصول کرنے کا فیصلہ ادارے کے ٹرسٹیوں کا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس نے کہا، ’اس کا کوئی دوسرا مطلب نکالنے کی کوشش غلط ہے۔‘

کلیرنس ہاؤس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے اخبار میں شائع مضمون میں اٹھائے گئے کئی نکات پر اعتراض کیا ہے۔

بن لادن فیملی نے 1994 میں اسامہ سے لا تعلقی کا اعلان کیا تھا اور ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے جس سے لگے کہ ان کے سوتیلے بھائیوں کا ان کی سرگرمیوں سے کوئی تعلق ہو۔

رپورٹ کے مطابق پرنس چارلس نے یہ رقم سعودی عرب کے امیر خاندان کے سربراہ بکر بن لادن اور ان کے بھائی شفیق سے کلیرنس ہاؤس میں ایک ملاقات کے بعد وصول کی تھی۔

سنڈے ٹائمر نے کئی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ کلیرنس ہاؤس اور پی ڈبلیو سی ایف کے مشیروں کے اعتراض کے باوجود ولی عہد نے یہ رقم لی تھی۔

البتہ پی ڈبلیو سی ایف کے چیئرمین سر ایئن چیشر نے اخبار کو بتایا کہ 2013 کے عطیے کے بارے میں اس وقت کے پانچ ٹرسٹیوں نے ’محتاط غور و خوض‘ سے اتفاق کیا تھا۔

سر ایئن کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومت سمیت مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کر کے، مطلوبہ احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھا گیا تھا۔‘

’عطیہ وصول کرنے کا فیصلہ خالصتاً ٹرسٹیوں کا تھا۔ اسے کوئی اور رنگ دینے کی کوشش گمراہ کن اور غلط ہے۔‘

پی ڈبلیو سی ایف برطانیہ میں رجسٹرڈ رفاہی تنظیموں کو اندرون اور بیرون ملک منصوبوں کے لیے مالی امداد فراہم کرتی ہے۔

بی بی سی کے رائل نامہ نگار جونی ڈائمنڈ کا کہنا ہے کہ نہ ہی کسی ضابطے کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی قانون توڑا گیا ہے۔ حتیٰ کہ دفتر خارجہ سے بھی رائے طلب کی گئی تھی، جس نے عطیہ کو کلیئر کر دیا تھا۔

پی ڈبلیو سی ایف کے ایک ذریعے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’باپ (یعنی اسامہ بن لادن) کے گناہ‘ کی وجہ سے خاندان کے دوسرے ارکان کو چندہ دینے کے لیے نا اہل نہیں قرار دیا جا سکتا۔

اسامہ بن لادن امریکہ کو مطلوب افراد میں سر فہرست تھے۔ ان کے بارے میں خیال ہے کہ 11 ستمبر 2001 کو نیو یارک اور واشنگٹن پر حملوں کا حکم انھوں نے ہی دیا تھا، جس میں تقریباً 3000 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

سنہ 2011 میں وہ امریکی فورسز کے حملے میں مارے گئے تھے۔

Osama bin Laden being interviewed in 1998

CNN via Getty Images
اسامہ بن لادن کو مذکورہ عطیے سے تقریباً 20 سال پہلے ان کے خاندان نے عاق کر دیا تھا

پرنس چارلس اور ان کی رفاہی تنظیم پر عطیات وصول کرنے کے حوالے سے اعتراض اٹھانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔

گزشتہ ماہ خبر آئی تھی کہ شہزادہ چارلس نے ایک سابق قطری وزیر اعظم سے ایک ملین یورو سے بھرا ہوا سوٹ کیس وصول کیا تھا، یہ ڈھائی ملین پاؤنڈ کے مجموعی تین نقد عطیات میں سے ایک تھا۔

کلیرنس ہاؤس کا کہنا تھا کہ عطیہ دینے جانے کے وقت شیخ سے ملنے والی رقم فوراً شہزادے کی ایک رفاہی تنظیم کو منتقل کر دی گئی تھی اور اس کے لیے صحیح طریقۂ کار اپنایا گیا تھا۔

چیریٹی کمیشن نے بعد میں اس سلسلے میں تحقیقات شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس سال فروری میں لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس نے ان دعوؤں کے سلسلے میں تفتیش کا آغاز کیا تھا جن کے مطابق شہزادے کی تنظیم نے ایک سعودی شہری کو اعزازات کے لیے مدد کی پیشکش کی تھی۔

کلیرنس ہاؤس کا کہنا تھا کہ شہزادے ’اپنی رفاہی تنظیم کے لیے عطیات دینے کے صلے میں کسی کو اعزاز یا برطانوی شہریت کی پیشکش سے لا علم تھے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25381 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments